خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےٹوٹتے تارے
اردو افسانےاردو تحاریرقرۃ العین حیدر

ٹوٹتے تارے

قرةالعین حیدر کا ایک اردو افسانہ

از سائیٹ ایڈمن مارچ 3, 2017
از سائیٹ ایڈمن مارچ 3, 2017 0 تبصرے 275 مناظر
276

ٹوٹتے تارے
انجیر اور زیتون کے درختوں اور ستارۂ سحری کے پھولوں سے گھری ہوئی کسی جھیل کے خاموش اور پر سکون پانیوں میں زور سے ایک پتھر پھینکنے سے لہروں کا لحظہ بہ لحظہ پھیلتا ہوا ایک دائرہ سا بن جاتا ہے نا! یا جب کوئی تھکا ہارا مطرب رات کے پچھلے پہر اپنے رباب پر ایک آخری مضراب لگا کر ساز کو ایک طرف رکھ دیتا ہے اور اس کے نقرئی تاروں میں سے جو لرزتا، دم توڑتا ہوا آخری نغمہ بلند ہوتا ہے۔ یا پھرجیسے سفید یاسمین کی معصوم کلیوں کی مہک کی تیز لپٹوں میں ملفوف ہوا کا ایک جھونکا صبح ہوتے چپکے سے اندر داخل ہو کر شمع کو بجھا دیتا اور پھر اس بجھی ہوئی شمع میں سے جو ہلکا سا غمگین سا دھواں لہراتا ہوا اوپر کو اٹھتا ہے نا __ لیکن ٹھہریئے بھئی۔ اس قدر شاعری کی ضرورت نہیں۔ بس یوں ہی سمجھ لیجئے کہ ایسی ہی کچھ ناقابلِ اطمینان، نا قابلِ تشریح سی کیفیت اس وقت شاہینہ پر چھائے جارہی تھی بلکہ حاوی ہو رہی تھی۔ اسے محسوس ہورہا تھا، نہ جانے کیا کیا محسوس ہورہا تھا، کیوں کہ ہماری اس احمق سی دنیا میں بہت سی باتیں ایسی عجیب سی ہوجاتی ہیں جن کی تشریح نہیں کی جاسکی اور نہ ان کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں آتی ہے۔جانے کیوں، پر ایسا ہوتا ضرور ہے، ہمیشہ ، کہ جب، لیکن، خیر، کہانی بے ربط ہوجائے گی اور پھر آپ عقل مندوں کے نزدیک اس زندگی میں بہت سے گہرے گہرے اور اونچے اونچے نشیب و فراز ہیں ، اوریہ زندگی ایک دوراہا ہے۔ ایک چھوٹا سا المیہ ہے یا طربیہ ۔ یا المیہ اور طربیہ دونوں __ یا ایک __ خیر __ افوہ __! کیوں کہ یہ رخشندہ کا خط تھا جسے وہ اب تک کم از کم پچیس مرتبہ پڑھ چکی تھی۔ اور اب اسے خوف ہورہا تھا کہ کہیں اسے ڈاکٹر عارف سے اپنی سائیکوانالسس نہ کروانی پڑ جائے۔ زندگی بھی واقعی کیسی عجیب چیز ہے۔ بے انتہا عجیب۔ بالکل بے سروپا _ رخشندہ کا خط اسی طرح قالین پر پڑا ہوا تھا۔ بھئی اللہ یہ کرسمس کی صبح تھی ۔ کیرل گانے والی ٹولیاں دور نکل چکی تھیں اور پہاڑی خوبانیوں کی ڈھلوان کے پرے کیتھیڈرل کی دوسری طرف سے بیگ پائپ کے تیز اور مدھم سروں کی لہریں برفانی ہوا میں تیرتی ہوئی دریچے کے شیشے سے ٹکرا کر اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہرسال یہ بیگ پائپ بجانے والے ۲۵؍ دسمبر کی صبح کو اسے اسی طرح جگا دیا کرتے تھے اور وہ جھنجھلا کر پھر تکیے میں منہ چھپا لیتی تھی۔ مگر اب__ اب تو ساری کہانی ہی ختم ہوچکی ہے۔ توبہ __ افوہ __ ہوا کے ایک جھونکے سے رخشندہ کا خط اڑتا ہوا آتش دان میں جاگرا۔ اس نے اٹھ کر دریچہ بند کردیا اوردیوان پر گر گئی۔ صبح کی ہلکی ہلکی قرمزی روشنی دیواروں پر پڑ رہی تھی۔ کتھیڈرل کا گھنٹہ بجے جارہا تھا اور Gants brough کا ’’ بلوبوائے‘‘ دیوار پر سے جھانک کر مسکرا رہا تھا۔ ’’ بلو بوائے۔‘‘ شاہینہ نے آنکھیں بند کر لینی چاہیں لیکن تصویر کے شیشے پر بہت سی دھندلی دھندلی رنگین پر چھائیاں ناچنے لگیں۔ ’’ جب میں بڑا ہو کرڈیڈی کی طرح میجر بنوں گا اور ری شی سے شادی کروں گا تو تم اورسلیم ہمارے ہاں مہمان آنا۔ میں راج پور میں یوکلپٹس کے جنگلوں میں ایک بہت بڑا اوراونچا سا چاکلیٹ اور کیک کا گھر بناؤں گا۔ پھر اس میں ری شی اسنو وائٹ کی طرح رہا کرے گی۔‘‘ ’’ ہشت ندیدے، کہیں ہر وقت چاکلیٹ کھاتے کھاتے بیمار جو پڑجاؤ گے تو جناب عالی میں تو کبھی آپ کو دیکھنے بھی نہیں آؤں گی، اور ڈبل فیس لوں گی ہمیشہ۔ سلیم تم بھی کبھی نہ جانا ان لالچی خرگوشوں کے گھر۔ میاں عمر بھر پڑے رہیں گے یوں ہی۔ اور ہم تو اپنے ٹھاٹ سے ہوائی جہاز میں پھریںگے۔ صبح کو چاند میں جاکر چائے پی، دوپہر کو میکسیکو پہنچ گئے، رات کو گھر۔ آہاکیسے مزے کی زندگی ہوگی۔ لیکن رخشندہ نے لکھا تھا: خدا را شی شی میرا خط پڑھ کر اپنے آپ کو غمگین مت کر لینا۔ میں تم کو پورے چھ سال بعد لکھ رہی ہوں۔ کتنی طویل مدت ہے اور میں کس قدر احسان فراموش ۔ یقینا مجھے تم سے معافی مانگنی چاہئے۔ ایک یتیم اور کمزور لڑکی، جس نے تمہارے گھر پر ، تمہارے گھر والوں کے رحم و کرم پر، پرورش پائی ہو اور وہ ایسی باغی اور سرکش نکل جائے۔ سوچو تو شی شی میں ہمیشہ ہنسنے والی ری شی کیسی عجیب باتیں لکھ رہی ہوں کیوں کہ زندگی نے مجھے رونا بھی سکھا دیا ہے۔ شاید میں اب بھی تم کو خط نہ لکھتی اور تم کو معلوم نہ ہونے پاتا کہ میں کہاں ہوں اور کیا کر رہی ہوں۔ لیکن گذشتہ ہفتے پونا سے بنگلور آتے ہوئے میری ایمبولینس کار ایک اور فوجی لاری سے ٹکرا کر کھڈ میں گر گئی اور میری یونٹ کے آفیسر کمانڈنگ کو مجھ سے پوچھ کر تمہیں میرے زخمی ہوجانے کی اطلاع دینی پڑی کیوں کہ اس وسیع دنیا میں میری Next of kin تم ہی ہو۔ پریشان نہ ہونا۔ اب میں اچھی ہوتی جارہی ہوں۔ کرسمس آنے والا ہے اورنہایت سرگرمی سے اس کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ کاغذی ربن اور رنگین جاپانی قندیلیں ، مصنوعی مسکراہٹیں اور لالہ کے پھولوں سے بھرے ہوئے گل دان۔ کینٹین میں رات گئے تک گیتوں اور قہقہوں کا شور رہتا ہے۔ اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور پڑے ہوئے امریکن اور آسٹریلین فوجی ہر وقت خوش رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر وقت چیخ چیخ کر گاتے رہتے ہیں۔ انسان اپنے آپ کو خود فریبی میں مبتلا رکھنے کا کتنا شوقین ہے۔ ’’ ایلس بلو گاؤں‘‘ کا ریکارڈ تیزی سے بج رہا ہے۔ یاد ہے ’’ بلو بوائے‘‘ کون تھا؟ اللہ! اچھا اب ختم کرتی ہوں۔ ہمارا نیا میجر ابھی اپنا راؤنڈ لینے کے لیے آنے والا ہے۔ اس نے ابھی مجھے لکھنے پڑھنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ یا اللہ ! میں اس قدر احمق سی کیوں ہوتی جارہی ہوں۔ صبح وہ مجھ پر جھکا ہوا میرا ٹمپریچر لے رہا تھا اور میرا جی چاہ رہا تھا کہ وہ فوراً وہاں سے ہٹ جائے، میرے راستے سے الگ ہوجائے اور پھر وہ نئے راگ سنانے پر نظر آتا ہے۔ اس کی نیلی آنکھیں دیکھ کر مجھے وہ گزرے دن اور پرانی باتیں اس قدر تیزی سے یاد آنے لگتی ہیں کہ جنہیں میں اس چھ سال کے عرصے میں بھولنے میں خاصی کامیاب ہوچکی ہوں۔ خدا کے لیے شی شی مسکراؤ۔‘‘ دس برس پہلے کرسمس کی ایسی ہی برفانی صبح تھی جب رخشندہ بھاگی بھاگی اس کے کمرے میں آئی تھی اور اس سے کہا تھا: ’’ کاہل بلّی اٹھو، مہمان آگئے ہیں۔‘‘ اور شاہینہ یہ خبر سنتے ہی لحاف پرے پھینک کر برش سے جلدی جلدی بالوں کو ٹھیک کر ابّا جان کے کمرے میں پہنچی تھی جہاں وہ مہمان بیٹھے تھے جو اپنے بچوں کو سینٹ جو زفز اکیڈیمی میں داخل کر نے کے لیے آئے تھے۔ برآمدے میں ڈھیروں اسباب پھیلا پڑا تھا اور ان بچوں کی گوری سی ممّی سیاہ فرکے لبادے میں لپٹی اس کی امّی سے باتیں کر رہی تھیں۔ ان کے ڈیڈی بھی باتوں میں مصروف تھے اور’’ بے حد شریر، بڑی بڑی ، نیلی آنکھوں اوربھورے بالوں والے لڑکے نہایت مسکین اور غمگین صورت بنائے ایک ہولڈال پر چڑھے بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک برابر ٹانگیں ہلائے جارہا تھا اور دوسرا جس کی ناک سردی اور زکام کی وجہ سے ٹماٹر کی طرح سرخ ہورہی تھی، رخشندہ کے ہاتھ سے چائے دانی گرانے کی فکر میں تھا جو میز پر جھکی ہوئی چاے بنا رہی تھی۔ ’’ تم نے اپنی بہنوں کو سلام نہیں کیا۔‘‘ ’’ ہم نہیں کیا کرتے لڑکیوںکو سلام۔ ہونہہ ، احمق گلہریاں۔‘‘ ’’ ہائیں اسلم بری بات۔‘‘ ان کے ڈیڈی نے ڈانٹا۔ ’’ اچھا ہم سے دوستی نہیں کروگے؟ لٹل بوائے بلو۔‘‘ ’’ تمہیں اسکیٹنگ آتی ہے؟ باکسنگ کرو گی؟ ہمیں اپنی بے وقوف گڑیاں دکھاؤ۔‘‘ اور بہت جلد وہ چاروں کیڈ بری چاکلیٹ کے البم ، مکینو، لیڈی سیلنڈ ، مکی ماؤس اور ریل کے انجنوں کے ڈھیر میں منہمک ہوگئے ، جیسے ہمیشہ کے ساتھی تھے اور زندگی بھر اسی طرح ایک ساتھ خوب صورت اور رنگین کھلونوں سے کھیلتے رہیں گے۔ اسلم نے سینئر کیمبرج فرسٹ گریڈ میں پاس کیا : ’’ بلو بوائے کیا انعام لوگے بتاؤ؟‘‘ رخشندہ نے پوچھا۔ ’’ ہونہہ ، بہت انعام دینے چلی ہیں۔ ذرا شکل تو اپنی آئینے میں ملاحظہ فرما لیجیے۔ میں خود تم کو نہ دے ڈالوں گڑیا ٹیڈی بئر گوبلن۔ مانگ کیا مانگتی ہے لڑکی؟‘‘ ’’ سر تمہارا‘‘ ’’ سر تو فی الحال نہیں دے سکتا۔ اس کی مجھے خود کافی ضرورت ہے ۔ اور جو چاہے لے لو۔ رولر اسکیٹس کی نئی جوڑی خریدی ہے، لوگی؟‘‘ ’’ جی میرے پاس خود ہیں اسکیٹس ۔ آپ اپنے پاس ہی رکھیے اپنے ۔‘‘ ’’ واللہ کیا آپ کے اسکیٹس ہیں۔ نیلام میں خریدے تھے نا۔ اور اسکیٹنگ آپ کس قدر نفیس کرتی ہیں__ گویا__ موری نیا ڈگمگ ڈولے رے۔ اور کرکٹ …‘‘ ’’ کرکٹ کھیلتی ہیں تو کرکٹ سکھا کر آپ نے میری جان پر کیا احسان کردیا۔ آپ تو مر کر بھی ایک پل اوور نہیں بن سکتے۔‘‘ ’’ اگر ہمیں پُل اوور بننے ہوتے تو پھر خدا نے لڑکیاں کس مصرف کے لیے بنائی تھیں۔‘‘ نیلو فر اور نرگس کے شگوفوں سے گھرا ہوا راستہ اسی طرح طے ہوتا رہا لیکن اگر منزلیںمختلف نہ ہوتیں تو ستاروں کی راہوں کا یقین کسے آتا؟ اور اب اتنے برسوں کے بعد شاہینہ پھر اسی سایہ دار روش پر آہستہ آہستہ قدم رکھتی ہوئی نیچے اتر رہی تھی جس پر اس کے دل کا ساتھی کمل اس لیے اس کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا کیوں کہ وہ اس کے طبقے اور اس کے فرقے سے تعلق نہ رکھتاتھا اور اسلم بے دلی سے سیٹی بجاتا ہوا اس کے ساتھ ساتھ اس لیے آرہا تھا کیوں کہ وہ ایک نائٹ کی لڑکی تھی اور وہ اس کے منگیتر کی حیثیت سے کرسمس گزارنے دہرہ دون مدعو کیا گیا تھا۔ پھر وہ آلوچے کی ٹہنیوں کے نیچے چلتے چلتے یک لخت رک گئی اور اس کی طرف مڑکے کہنے لگی: ’’ ٹھیک ٹھیک بتاؤ کیا تم واقعی میرے ساتھ خوش رہ سکو گے؟‘‘ ’’ کوشش تو کروں گا۔‘‘ اس نے بے تعلقی سے ایک پتّا توڑ کر کہا۔ ’’ اسلم ! میں تم سے التجا کرتی ہوں بنگلور واپس چلے جاؤ۔‘‘ ’’ اوہو، رخشندہ پر کرم کرنا چاہتی ہیں آپ۔ بہت جلد اس کا خیال آیا۔ اطمینان رکھو، وہ تم سے ایک اور احسان کی آرزو مند نہیں ہے۔ وہ پوری طرح تندرست ہونے سے پہلے ہی ہسپتال چھوڑ کر کہیں اور جاچکی ہے۔‘‘ اسلم نے بے پروائی کے ساتھ کہا۔ ہوا کا جھونکا پتّوں میں سے سرسراتا ہوا نکل گیا۔ اسلم یکایک نہایت تلخی سے بولا: ’’ مجھے تم سے نفرت ہے۔ تمہارے گھروالوں سے نفرت ہے۔ سچ کہتا ہوں مجھے اس دن سے تم سے سخت نفرت ہے جب میں نے پہلی مرتبہ بچپن میں تم کو رخشندہ کے ساتھ ایک خادمہ کا سا برتاؤ کرتے دیکھا تھا۔‘‘ وہ پھاٹک تک پہنچ گئے : ’’ اچھا اب اجازت ہے، خدا حافظ ۔‘‘ وہ اپنی ڈوج میں بیٹھا اور وہ زنّاٹے سے ڈھلوان پر سے اترتی ہوئی کتھیڈرل کے دوسری طرف جا کر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ اور پھر بیگ پائپ اسی طرح بجتا رہا۔ ہوا نے دریچے کا پٹ کھول دیا تھا۔ شاہینہ نے اٹھ کر دوبارہ اسے بند کردیا۔ باہر بارش کے پہلے قطروں سے بھیگی ہوئی سڑک دور تک خاموش اور سنسان پڑی تھی۔ یہ اجنبی راستے نہ معلوم کیوں شروع ہوئے اور کہاں جاکر ختم ہوں گے؟

قرةالعین حیدر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پریم چند کی افسانہ نگاری
  • گمراہی کا راستہ
  • پتہ
  • 05 فروری:یوم ِیکجہتی کشمیر!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محبّت ایسی عبادت کسک پہ ختم ہوئی
پچھلی پوسٹ
ادائے عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں میں

متعلقہ پوسٹس

عشق، محنت اور خواب

جنوری 1, 2025

سبز سینڈل

فروری 4, 2020

ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

جولائی 12, 2023

لال کی تلاش

اپریل 1, 2023

علامہ اقبال پر ایک اردو مضمون

دسمبر 15, 2016

پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس

دسمبر 6, 2025

کھلا خط

دسمبر 31, 2025

پاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال

مئی 8, 2026

قرآن اور انسانی نفسیات

نومبر 5, 2025

عورت اور ماں

مئی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آبروئے غزل

فروری 21, 2021

خوب، روپ اور بہروپ

جنوری 6, 2023

تنہائی

فروری 18, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں