391
میری آنکھوں میں سحر کرتی ہے تھک جاتی ہے
نیند چلتی ہے سفر کرتی ہے تھک جاتی ہے
زندگی میری وہ کشتی ہے جو ضد میں آ کر
اپنے اطراف بھنور کرتی ہے تھک جاتی ہے
میرے واعظ تری تقریر میں تاثیر نہیں
تیری آواز اثر کرتی ہے تھک جاتی ہے
ایک نادیدہ تماشا ہے جو کھلتا ہی نہیں
آنکھ تکتی ہے بسر کرتی ہے تھک جاتی ہے
چاق و چوبند میں رہتا ہوں کہانی سن کر
آنکھ سے نیند گزر کرتی ہے تھک جاتی ہے
ملک عتیق
