خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاماور عذاب کسے کہتے ہیں؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 23, 2026
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 23, 2026 0 تبصرے 5 مناظر
6

گھر میں اگر کوئی بچہ اپنے بڑے کی کوئی بات نا مانے اور نافرمانی کرتا ہے تو وہ لازمی سزا کا مرتکب ٹہرتا ہے اور اسے فوراً سزاسنائی نہیں بلکہ دے دی جاتی ہے۔اسی طرح کا قانون تعلیمی اداروں میں بھی رائج ہوتا ہے اور آگے بڑھتے جائیں تو برسرِ روزگار ہونے کے بعد بھی یہ سلسلہ کچھ اس طرح جاری و ساری رہتا ہے کہ ادارے کی بنائی گئی حکمت عملی جسے انگریزی میں پالیسی کہتے ہیں کے خلاف نہیں جایا جاسکتا اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو ادارے کے بنائے گئے نظام کے تحت خلاف ورزی کرنے والا سزا کا مستحق ٹھرتا ہے جہاں ملزم کے مجرم ثابت ہوجانے پر نوکری سے خارج بھی کیا جاسکتا ہے۔ ادارہ ایک ایسے دستاویزجس سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے پر دستخط بھی لے لئے جاتے ہیں جس پر ادارے کی حکمت عملی کے خلاف جانے کی صورت میں کیا سزا دی جاسکتی ہے۔

آج دنیاجہاں میں کیا کچھ چل رہا ہے اس کی بات نہیں کرتے، ہم اپنے گردونواح کی بات کرتے ہیں اپنے ملک، اپنے شہر، اور اپنے علاقے کی بات کرتے ہیں جہاں ایک طرف تو سماجی ابلاغ پر معلومات کے نا تھمنے والے طوفان میں اللہ، رسول ﷺ، صحابہ کرام ؓ اور بزرگان دین ؒ کی تعلیمات اپنے اسٹیٹس پر لگائے جاتے ہیں، مختلف سماجی ابلاغ کے صفحات بھردئے جاتے ہیں اور شائد یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم کتنا کچھ جانتے ہیں، کتنے دین دار ہیں اور دیکھنے والے بھی اپنی اصلاح ان کے لگائے گئے پیغامات کی روشنی میں کریں۔ ہم یہاں ایک بات بھول جاتے ہیں کہ ہماری اسکرین پر بھی ایسے بے تحاشہ پیغامات آتے ہیں جنہیں ہم اپنی انگلی کی ہلکی سی جنبش سے آگے بڑھا دیتے ہیں اور بڑھاتے ہی چلے جاتے ہیں تو دوسروں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ دین کی شائد ایسی ترویج وہ لوگ بھی نہیں کرپائے جو گھر وں کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں اور دین سیکھنے اور سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں، جو مساجد میں بیٹھ کر دین کی بات سننے کی دعوت دیتے ہیں اور جو بڑے بڑے دینی اجتماعات کا انعقاد کرتے ہیں۔ ہم سب ایسے پیغامات پر دل کی علامت بناکر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کیا خوب پیغام ہے اور ہمارے دل کے بہت قریب ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ان پیغامات پر غور کرنے کا وقت رکھتے ہیں یا سیکنڈ ضائع کئے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں اور ویسے بھی ہم کسی بات کو سمجھنے کیلئے تو سنتے ہی نہیں بلکہ اپنی علمی قابلیت جتانے کیلئے سنتے ہیں اور بغیر وقت لئے جواب دیتے ہیں۔ جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کوئی بھی بات نا تو ہمارے دماغ میں جگہ بناتی ہے اور نا ہی دل پر اثر کرتی ہے بس زبان جواب دینے کیلئے بے چین رہتی ہے۔

اب یہاں ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں دین کی ایسی ترویج ہونے کہ باوجود معصوم بچے بچیوں کے ساتھ بد فعلیاں اور ان کابے دردی سے قتل،زنا، شراب، بے انصافی،انااور نفس کی تسکین کیلئے بے رحمی کی مثالیں،چوری، بد عنوانی، تکبر غرض یہ کہ کون سی ایسی بد اعمالیاں ہیں جو ہم سے جانے انجانے سرزد نہیں ہورہی ہیں۔ ایک تو لوگ قتل ہورہے ہیں بلکہ سفاکی کی یہ حالت ہے کہ ٹکڑے تک کئے جا رہے ہیں۔ دل لرز رہے ہیں کلیجے پھٹ رہے ہیں نا مرنے والا جانتا ہے کہ اس کا کیا قصور ہے اور شائد نا مارنے والے اس امر سے واقف ہیں کہ وہ کیوں مار رہے ہیں۔ جیسے بس کوئی کسی کے حکم کی تعمیل کر رہا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں اجتماعی خود کشیوں کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے افراد نے دنیا کی بے ثباتی سے تنگ آکر اپنی زندگیاں موت کے حوالے کردیں (اس میں ہمارا بھی حصہ ہے اس کی جوابدہی ہم سے بھی ممکن ہے)۔ معلوم نہیں اور کتنے ایسے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں کہ کہیں سے لاشیں مل رہی ہیں۔ اب ہم اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ ایسے واقعات و سانحات ہمارے دلوں میں شائد کوئی تکلیف پیدا نہیں کرتے۔ ہم مادہ پرستی کی اعلی ترین مثال بنتے جا رہے ہیں، ہم نے روحوں کو جسموں سے پہلے کہیں دفن کر دیا ہے اور اب صرف جسم کیلئے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم بھول گئے ہیں کہ دنیا میں ہر شے بشمول ہمارے فنا ہونے کیلئے بنائی گئی ہے۔ ہم جب کسی مردے کو دفنانے قبرستان جاتے ہیں تو ہمیں شائد اب یہ احساس نہیں ہوتا کہ کل ہمیں بھی اسی طرح قبرستان میں لایا جائے گا اور زمین میں کھودے گئے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا۔

ہم نے یہ مضمون جہاں سے شروع کیا تھا وہی واپس چلتے ہیں، ہم اپنے بچوں سے فرمانبرداری اور تابعداری کی توقع رکھتے ہیں، ہم دفتر میں ادارے کی پالیسی پر کاربند رہتے ہیں اور ادارے کی ترقی کیلئے سچی لگن کے ساتھ محنت کرتے ہیں، ہم اپنے مفاد کے دفاع کیلئے بنائے گئے اصولوں پر بھرپور طریقے سے کاربند رہتے ہیں۔ اب ہم آتے ہیں حقیقت پر مبنی اطاعت کی طرف، خالق کائنات نے انتہائی منظم طریقے سے کائنات کا نظام ترتیب دیا اور اس نظام سے ہم آہنگ کرنے کیلئے چنے ہوئے لوگوں کو متعین کیااور انہیں نبوت کے منسب پر فائز کیا، ان عظیم المرتبت لوگوں نے اللہ کا پیغام انسانون تک پہنچانا شروع کیا کائنات کے خالق کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کیں لیکن انسان سے سرکشی ٹھانی ہوئی تھی نامانے اور اللہ کے ان بر گزیدہ بندوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے مگر ان لوگوں نے اللہ کے نظام کی سربلندی کیلئے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ مختصراً یہ کہ پھروہ وقت آیا جب دنیا میں تاریکی اپنے عروج پر پہنچ گئی، اللہ کو انسانوں پر رحم آیا اور آپ ﷺ کو رحمت العالمین بنا کر بھیجا گیا۔ آپﷺ کو بھی بھرپور جہالت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ ﷺ دنیا کے لئے آخری امید بنا کر بھیجے گئے یعنی خاتم النبین بنا کر بھیجا گیا۔آپ ﷺ کی صورت میں اللہ کی واحدانیت پر یقین لانے کا اورکائنات سے ہم آہنگ ہونے کا آخری موقع فراہم کیا گیا۔ اللہ نے اپنے احکامات قران پاک کے ذریعے ہم تک پہنچائے اور نبی پاک ﷺ نے اپنی زندگی میں ان پر عملی مظاہرہ کر کے دیکھایااور بتایا کہ اپنی زندگیاں اللہ کے احکامات کے مطابق گزارو گے تو زندگی بھی سکون سے گزرے گی اور آخرت کے تو کیا ہی کہنے۔ اللہ کی کتاب قرآن پاک اور احادیث کا خزانہ رہتی دنیا تک کیلئے ہمارے درمیان موجود ہے۔اسی کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، نبی پاک ﷺ کی تعلیمات کا ایسا اثر ہوا کہ آدھی سے زیادہ دنیا اسلام کی اطاعت کرنے لگی۔

پھر وقت نے کروٹ لی اور مسلمانوں میں اقتدار کی ہوس نے انگڑائیاں لینا شروع کردیں، اس اقتدار کے حصول کیلئے بھائی بھائی دست و گریباں ہوگئے اور اسلام کا شیرازہ بکھر تا چلاگیا۔ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے احکامات کو عملی طور پر نظر انداز کیا جانے لگا۔ دنیا کے نظاموں کو اہمیت دی جانے لگی اور آسائشوں کا حصول ہماری زندگیوں کا مقصد عظیم بنتا چلا گیا، جن کے حصول کیلئے حرام حلال کی تمیز بھی نا رہی۔ یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم نے دنیا کے امور میں قدرت کی بھرپور نافرمانی کرنا شروع کردی۔بچے کو تو اپنی نافرمانی کرنے پر مارپیٹ لیا گیا لیکن ہمیں نافرمانی کی سمجھ نہیں آسکی۔ اسٹیٹس لگانے سے یا سماجی ابلاغ کے صفحات بھرنے سے اذالہ نہیں ہوسکتا جب تک عملی طور پر کردار سازی نہیں ہوگی۔ بس یہ لکھ کر اس مضمون کا اختتام کرتے ہیں ہم اگر اپنے اعمال کا جائزہ لیں جن میں اول نمبر پر اللہ کی نافرمانی ہے تو موجودہ حالات کو ہم عذاب سے باآسانی تشبیہ دے سکتے ہیں، یا آپ بتائیں کہ اورکسے عذاب کہتے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بدنام جو ہوں گے تو
  • میجر شبیر شریف شہید
  • دنیا کا سب سے انمول رتن
  • غزل گائیکی کی 110 سال کی ہوشربا داستان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محبت مری اک کہانی رہے گی
پچھلی پوسٹ
نسبتوں کا فیضان

متعلقہ پوسٹس

خوابوں کے شہسوار

دسمبر 25, 2024

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

تنہائی

دسمبر 19, 2024

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

خدا کا حُسن ِ انتخاب

نومبر 26, 2021

غیر قانونی مہاجرت

ستمبر 14, 2025

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں

مارچ 15, 2026

جانے گھر سے کوئی گیا ہے

مارچ 15, 2026

سفر نامہ بھارت – دوسری قسط

نومبر 2, 2019

ناقابلِ شکست بندھن

دسمبر 15, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اللہ تو نور ھے

دسمبر 22, 2024

بے اختیار، بے بس،مجبور

مئی 4, 2020

رَہروِ تفتہ

فروری 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں