3
ہتھیلی پہ ہے دنیااب،، بہت سا مکر شامل،جھوٹ
سسکیوں،فریاد،آہوں اور کراہوں پر بہت بھاری سا لگتا ہے ۔
بہت شاطر ذہین و فطیں، عیار ماہر،، ہتھیلی پر، مرے سل فون کی سکرین کے پیچھے، ، عقب سے وار کر تے ہیں، مجھے ہموار کرتے ہیں۔
میری سوچوں کے قاتل،، جذبات کو مصلوب کرتے ہیں،، تخیل پر مسلسل اِک تشدد ہے
برہنہ جسم، زہریلی آوازیں،جنونی رقص کرتے ہیں،،مرے وجدان و ایقاں کوِ پھر روند دیتے ہیں۔
رحل ہا تھوں کی جس پہ،،میں دعاؤں کو صداؤں کو سجاتا ہوں،،یہ اِن کو نوچ لیتے ہیں۔
میر ی یہ ا نگلیاں جن کی لیکر وں میں،،مرے رب نے مجھے اِک منفرد،پہچان بخشی ہے
ہتھیلی پر رکھی، نظرآتی یہ دنیا اب،،،
میری ہی انگلیوں سے دیکھو،مجھے ہی کو قتل کرتی ہے،
مگر یہ بھی حقیقت تلخ،،لیکن حقیقت ہے
کہ میں مقتول قاتل ہوں،،کہ میں مقتول قاتل ہوں۔
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ
