خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممشینوں کے عہد میں انسان
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

مشینوں کے عہد میں انسان

از سائیٹ ایڈمن اگست 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 13, 2026 0 تبصرے 3 مناظر
4

m a doshi

انسان کو ہمیشہ جواب کی تلاش رہی ہے۔ وہ سوال کرتا رہا اور کائنات اپنے راز سینے میں چھپائے خاموش کھڑی رہی۔ پھر ایک دن اس نے پہاڑوں سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ وہ آواز دیتا اور چند لمحوں بعد وہی آواز پلٹ کر اس تک آ جاتی۔ اس زمانے کا انسان شاید اس راز کو نہیں جانتا تھا مگر اسے اتنا ضرور محسوس ہوتا تھا کہ اس کی پکار کہیں سنی گئی ہے۔

وقت گزرتا گیا اور انسان سوال پوچھتا رہا۔ کبھی پتھر سے۔ کبھی آگ سے۔ کبھی ہوا سے اور کبھی سمندر سے۔ ہر سوال کے جواب میں اسے ایک نئی دریافت ملی۔ ایک نیا راستہ ملا۔ ایک نئی دنیا اس کے سامنے کھلتی چلی گئی۔

پتھر سے چنگاری نکالنے والا انسان شاید یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن وہ ایسی مشین بنا لے گا جو اس کی بات سنے گی۔ اس کے سوال کو سمجھے گی اور جواب بھی دے گی۔ مگر تاریخ کا سفر اکثر انسان کے تصور سے کہیں آگے نکل جاتا ہے۔

آج ہم مصنوعی ذہانت کے دور میں کھڑے ہیں۔ ایک ایسا دور جہاں مشینیں صرف حساب نہیں کرتیں بلکہ تحریر بھی لکھتی ہیں۔ تصویریں بھی بناتی ہیں۔ موسیقی بھی ترتیب دیتی ہیں اور ویڈیوز بھی تیار کرتی ہیں۔ بظاہر یہ سب کچھ ایک خواب کی مانند محسوس ہوتا ہے مگر یہ خواب اب حقیقت بن چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اچانک آسمان سے نہیں اتری۔ یہ انسان کی صدیوں پر محیط جستجو کا نتیجہ ہے۔ یہ اسی سفر کا اگلا قدم ہے جو کبھی غاروں سے شروع ہوا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے انسان فطرت کے راز دریافت کر رہا تھا اور آج وہ اپنی ذہانت کی نئی شکلیں تخلیق کر رہا ہے۔

چند برس پہلے تک ایک مضمون لکھنے کے لیے کئی کتابیں کھنگالنی پڑتی تھیں۔ ایک تصویر بنانے کے لیے گھنٹوں محنت کرنا پڑتی تھی۔ ایک گانے کی تیاری میں کئی لوگوں کا کردار ہوتا تھا۔ اب ایک کمپیوٹر اور چند ہدایات کے ذریعے بہت سا کام سر انجام دیا جا سکتا ہے۔

مجھے یاد ہے صحافت کے ابتدائی دنوں میں ایک مضمون لکھنے کے لیے کئی کئی گھنٹے لائبریریوں اور فائلوں میں گزارنے پڑتے تھے۔ کبھی ایک حوالہ ڈھونڈنے میں پورا دن لگ جاتا تھا۔ آج جب ایک سکرین پر چند لمحوں میں معلومات سامنے آ جاتی ہیں تو وقت کی اس تبدیلی پر حیرت ہوتی ہے۔ مگر اس حیرت کے باوجود مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تحقیق کی اصل روح اب بھی انسان کی جستجو میں پوشیدہ ہے، کسی مشین میں نہیں۔ یہ سہولت یقیناً غیر معمولی ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو تخلیقی شعبوں سے وابستہ ہیں۔ ایک شاعر اپنا تخلیقی کام تصویری شکل میں ترتیب دے سکتا ہے۔ ایک صحافی تحقیق میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔ ایک استاد اپنے طلبہ کے لیے بہتر مواد تیار کر سکتا ہے۔ ایک کاروباری شخص نئے امکانات تلاش کر سکتا ہے۔مگر ہر سہولت کے ساتھ ایک سوال بھی جنم لیتا ہے۔کیا یہ مشینیں انسان کی جگہ لے لیں گی؟

یہ سوال آج دنیا بھر میں زیر بحث ہے۔ گلوکار سوچ رہے ہیں کہ اگر مشین ان جیسی آواز پیدا کر سکتی ہے تو کل کیا ہوگا۔ مصور سوچ رہے ہیں کہ اگر ایک کمپیوٹر چند لمحوں میں تصویر بنا سکتا ہے تو فن کی تعریف کیا رہ جائے گی۔ لکھاری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ الفاظ کی دنیا کس سمت جا رہی ہے۔میرے خیال میں اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان کی جگہ لے گی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی جگہ کو کیسے محفوظ رکھے گا۔ایک مشین سے آپ بے ترتیب ہزار اشعار بھی لکھوا لینگے مگر وہ اس آنکھ کا آنسو کہاں سے لائے گی جو کسی جدائی کے بعد گرا ہو۔ وہ ہزار دھنیں بنا سکتی ہے مگر اس دل کی دھڑکن کہاں سے لائے گی جس نے پہلی محبت محسوس کی ہو۔ وہ لاکھوں الفاظ جمع کر سکتی ہے مگر زندگی کے زخم اور تجربے اس کے پاس نہیں ہوتے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اور مشین کے درمیان فرق باقی رہ جاتا ہے۔مصنوعی ذہانت علم تک رسائی آسان بنا سکتی ہے مگر حکمت نہیں دے سکتی۔ معلومات فراہم کر سکتی ہے مگر شعور پیدا نہیں کر سکتی۔ راستہ دکھا سکتی ہے مگر منزل کا انتخاب انسان ہی کو کرنا ہوگا۔

آنے والے برسوں میں تعلیم بدلے گی۔ صحافت بدلے گی۔ موسیقی بدلے گی۔ کاروبار اور طب کے شعبے بھی بدلیں گے۔ بہت سے کام آسان ہو جائیں گے اور بہت سی روایتی مہارتیں نئی شکل اختیار کر لیں گی۔ شاید کچھ پیشے ختم ہو جائیں اور کچھ نئے پیشے وجود میں آ جائیں۔یہ منظر نامہ نیا ضرور ہے مگر غیر معمولی نہیں۔ تاریخ کا ہر دور اپنے ساتھ ایسی تبدیلیاں لایا ہے۔ چھاپہ خانہ آیا تو دنیا بدل گئی۔ بجلی آئی تو زندگی بدل گئی۔ انٹرنیٹ آیا تو فاصلے سمٹ گئے۔ اب مصنوعی ذہانت آئی ہے تو کام کرنے کا انداز بدل رہا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس نئی حقیقت کو خوف کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔ نہ اسے نجات دہندہ سمجھیں اور نہ تباہی کا پیش خیمہ۔ اسے ایک ایسے آلے کے طور پر سمجھیں جو انسان کے ہاتھ میں ہے اور جس کی سمت کا تعین بھی انسان ہی کرے گا۔جب کبھی مصنوعی ذہانت کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے پہاڑوں کی وہی بازگشت یاد آتی ہے۔ انسان نے ایک آواز لگائی تھی اور جواب ملا تھا۔ آج بھی انسان سوال کر رہا ہے اور جواب پا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب پہاڑوں کی جگہ سکرینیں ہیں اور بازگشت کی جگہ مصنوعی ذہانت نے لے لی ہے۔مگر سوال آج بھی انسان کا ہے اور جواب کی ذمہ داری بھی آخرکار انسان ہی کے کندھوں پر ہے۔

ایم اے دوشی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ
  • ایقان کے ہم راہ کچھ اوہام پڑے تھے
  • سعادت حسن منٹو
  • روزے کے فوائد
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
14 آگست اور ایک عام آدمی
پچھلی پوسٹ
کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون کیوں؟

متعلقہ پوسٹس

لیکن گومتی بہتی رہی

جنوری 3, 2020

روحانیت اور جدید زندگی

نومبر 5, 2025

ہجویاتِ سودا

اپریل 13, 2025

کارنس

دسمبر 23, 2021

لاوارث

جون 14, 2020

محمودہ

جنوری 17, 2020

سائبر سکیورٹی: نیا محاذ، نئی جنگ

اگست 26, 2025

مولسری کے پھول

مئی 20, 2020

یومِ آزادی اور ہم

اگست 15, 2020

غالب اور میر: مطالعے کے چند پہلو

مئی 27, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

نوحہ ایک دھرتی کا

اگست 17, 2026

اسیرِ بے زباں

اگست 17, 2026

اتر آئی ہے رحمت کی

اگست 17, 2026

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و...

اگست 17, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا...

اگست 19, 2026

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

اگست 19, 2026

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون...

اگست 14, 2026

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

14 آگست اور ایک عام آدمی

اگست 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • اتر آئی ہے رحمت کی

    اگست 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرخ لباس کی سرخوشی

نومبر 30, 2024

کتن والی

مارچ 24, 2026

پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک...

ستمبر 19, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں