خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےآنکھیں
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

آنکھیں

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2019 0 تبصرے 463 مناظر
464

آنکھیں
اس کے سارے جسم میں مجھے اس کی آنکھیں بہت پسند تھیں۔

یہ آنکھیں بالکل ایسی ہی تھیں جیسے اندھیری رات میں موٹر کارکی ہیڈ لائیٹس جن کو آدمی سب سے پہلے دیکھتا ہے۔ آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ وہ بہت خوبصورت آنکھیں تھیں۔ ہرگز نہیں۔ میں خوبصورتی اور بدصورتی میں تمیز کرسکتا ہوں۔ لیکن معاف کیجیے گا، ان آنکھوں کے معاملے میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ خوبصورت نہیں تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ان میں بے پناہ کشش تھی۔

میری اور ان آنکھوں کی ملاقات ایک ہسپتال میں ہوئی۔ میں اس ہسپتال کا نام آپ کو بتانا نہیں چاہتا، اس لیے کہ اس سے میرے اس افسانے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

بس آپ یہی سمجھ لیجیے کہ ایک ہسپتال تھا، جس میں میرا ایک عزیز آپریشن کرانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔

یوں تو میں تیمار داری کا قائل نہیں، مریضوں کے پاس جا کر ان کو دم دلاسہ دینا بھی مجھے نہیں آتا۔ لیکن اپنی بیوی کے پیہم اصرار پر مجھے جانا پڑتا کہ میں اپنے مرنے والے عزیز کو اپنے خلوص اور محبت کا ثبوت دے سکوں۔

یقین مانیے کہ مجھے سخت کوفت ہورہی تھی۔ ہسپتال کے نام ہی سے مجھے نفرت ہے، معلوم نہیں کیوں۔ شاید اس لیے کہ ایک بار بمبئی میں اپنی بوڑھی ہمسائی کو جس کی کلائی میں موچ آگئی تھی، مجھے جے جے ہسپتال میں لے جانا پڑا تھا۔ وہاں کیوژوالٹی ڈیپارٹمنٹ میں مجھے کم از کم ڈھائی گھنٹے انتظار کرنا پڑا تھا۔ وہاں میں جس آدمی سے بھی ملا، لوہے کے مانند سرد اور بے حس تھا۔

میں ان آنکھوں کا ذکر کررہا تھا جو مجھے بے حد پسند تھیں۔

پسند کا معاملہ انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت ممکن ہے اگر آپ یہ آنکھیں دیکھتے تو آپ کے دل و دماغ میں کوئی رد عمل پیدا نہ ہوتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ سے اگر ان کے بارے میں کوئی رائے طلب کی جاتی تو آپ کہہ دیتے۔’’ نہایت واہیات آنکھیں ہیں۔‘‘ لیکن جب میں نے اس لڑکی کو دیکھا تو سب سے پہلے مجھے اس کی آنکھوں نے اپنی طرف متوجہ کیا۔

وہ برقع پہنے ہوئے تھی، مگر نقاب اٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں دوا کی بوتل تھی اور وہ جنرل وارڈ کے برآمدے میں ایک چھوٹے سے لڑکے کے ساتھ چلی آرہی تھی۔

میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں جو بڑی تھیں، نہ چھوٹی، سیاہ تھیں نہ بھوری، نیلی تھیں نہ سبز، ایک عجیب قسم کی چمک پیدا ہوئی۔ میرے قدم رک گئے۔ وہ بھی ٹھہر گئی۔ اس نے اپنے ساتھی لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور بوکھلائی ہوئی آواز میں کہا۔’’تم سے چلا نہیں جاتا!‘‘

لڑکے نے اپنی کلائی چھڑائی اور تیزی سے کہا۔’’ چل تو رہا ہوں۔تُو تو اندھی ہے!‘‘

میں نے یہ سنا تو اس لڑکی کی آنکھوں کی طرف دوبارہ دیکھا۔ اس کے سارے وجود میں صرف اس کی آنکھیں ہی تھیں جو پسند آئی تھیں۔

میں آگے بڑھا اور اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے مجھے پلکیں نہ جھپکنے والی آنکھوں سے دیکھا اور پوچھا۔’’ایکسرے کہاں لیا جاتا ہے؟‘‘

اتفاق کی بات ہے کہ ان دنوں ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں میرا ایک دوست کام کررہا تھا، اور میں اسی سے ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں نے اس لڑکی سے کہا۔’’آؤ، میں تمہیں وہاں لے چلتا ہوں، میں بھی ادھر ہی جارہا ہوں۔‘‘

لڑکی نے اپنے ساتھی لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور میرے ساتھ چل پڑی۔ میں نے ڈاکٹر صادق کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایکسرے لینے میں مصروف ہیں۔

دروازہ بند تھا اور باہر مریضوں کی بھیڑ لگی تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے تیز و تند آواز آئی۔’’کون ہے۔۔۔۔۔۔ دروازہ موت ٹھوکو!‘‘

لیکن میں نے پھر دستک دی۔ دروازہ کھلا اور ڈاکٹر صادق مجھے گالی دیتے دیتے رہ گی۔’’اوہ تم ہو!‘‘

’’ہاں بھئی۔۔۔۔۔۔میں تم سے ملنے آیا تھا۔ دفتر میں گیا تو معلوم ہوا کہ تم یہاں ہو۔‘‘

’’آجاؤ اندر‘‘

میں نے لڑکی کی طرف دیکھا اور اس سے کہا’’آؤ۔۔۔۔۔۔ لیکن لڑکے کو باہر ہی رہنے دو!‘‘

ڈاکٹر صادق نے ہولے سے مجھ سے پوچھا۔’’ کون ہے یہ؟‘‘

میں نے جواب دیا۔’’معلوم نہیں کون ہے۔۔۔۔۔۔ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کا پوچھ رہی تھی۔ میں نے کہا چلو، میں لیے چلتا ہوں۔‘‘

ڈاکٹر صادق نے دروازہ اور زیادہ کھول دیا۔ میں اور وہ لڑکی اندر داخل ہوگئے۔

چار پانچ مریض تھے۔ ڈاکٹر صادق نے جلدی جلدی ان کی سکریننگ کی اور انھیں رخصت کیا۔ اس کے بعد کمرے میں ہم صرف دو رہ گئے۔ میں اور وہ لڑکی۔

ڈاکٹر صادق نے مجھ سے پوچھا۔’’انھیں کیا بیماری ہے؟‘‘

میں نے اس لڑکی سے پوچھا۔’’کیا بیماری ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔ ایکسرے کے لیے تم سے کس ڈاکٹر نے کہا تھا؟‘‘

اندھیرے کمرے میں لڑکی نے میری طرف دیکھا اور جواب دیا۔’’ مجھے معلوم نہیں کیا بیماری ہے۔۔۔۔۔۔ ہمارے محلے میں ایک ڈاکٹر ہے، اس نے کہا تھا کہ ایکسرے لو۔‘‘

ڈاکٹر صادق نے اس سے کہا کہ مشین کی طرف آئے۔ وہ آگے بڑھی تو بڑے زور کے ساتھ اس سے ٹکرا گئی۔ ڈاکٹر نے تیز لہجے میں اس سے کہا۔’’کیا تمہیں سجھائی نہیں دیتا۔‘‘

لڑکی خاموش رہی۔ ڈاکٹر نے اس کا برقع اتارا اور اسکرین کے پیچھے کھڑا کردیا۔ پھر اس نے سوئچ اون کیا۔ میں نے شیشے میں دیکھا تو مجھے اس کی پسلیاں نظر آئیں۔ اس دل بھی ایک کونے میں کالے سے دھبے کی صورت میں دھڑک رہا تھا۔

ڈاکٹر صادق پانچ چھ منٹ تک اس کی پسلیوں اور ہڈیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کے بعد اس نے سوئچ اوف کردیا اور روشنی کرکے مجھ سے مخاطب ہوا۔’’ چھاتی بالکل صاف ہے۔‘‘

لڑکی نے معلوم نہیں کیا سمجھا کہ اپنی چھاتیوں پر جو کافی بڑی بڑی تھیں، دوپٹے کو درست کیا اور برقع ڈھونڈنے لگی۔

برقع ایک کونے میں میز پر پڑا تھا۔ میں نے بڑھ کر اسے اٹھایا اور اسکے حوالے کردیا۔ ڈاکٹر صادق نے رپورٹ لکھی اور اس سے پوچھا۔’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

لڑکی نے برقع اوڑھتے ہوئے جواب دیا۔’’جی میرا نام۔۔۔۔۔۔ میرا نام حنیفہ ہے۔‘‘

’’حنیفہ!‘‘ ڈاکٹر صادق نے اس کا نام پرچی پر لکھا اور اس کو دے دی۔’’جاؤ، یہ اپنے ڈاکٹر کو دکھا دینا۔‘‘

لڑکی نے پرچی لی اور قمیض کے اندر اپنی انگیا میں اڑس لی۔

جب وہ باہر نکل تو میں غیر ارادی طور پر اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ لیکن مجھے اس کا پوری طرح احساس تھا کہ ڈاکٹر صادق نے مجھے شک کی نظروں سے دیکھا تھا۔ اسے جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس بات کا یقین تھا کہ اس لڑکی سے میرا تعلق ہے، حالانکہ جیسا آپ جانتے ہیں، ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ سوائے اس کے کہ مجھے اس کی آنکھیں پسند آگئی تھیں۔

میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس نے اپنے ساتھی لڑکی کی انگلی پکڑی ہوئی تھی۔ جب وہ تانگوں کے اڈے پر پہنچے تو میں نے حنیفہ سے پوچھا۔’’تمہیں کہاں جانا ہے؟‘‘

اس نے ایک گلی کا نام لیا تو میں نے اس سے جھوٹ موٹ کہا۔’’ مجھے بھی ادھر ہی جانا ہے۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑدوں گا۔‘‘

میں نے جب اس کا ہاتھ پکڑ کر تانگے میں بٹھایا تو مجھے محسوس ہوا کہ میری آنکھیں ایکس ریز کا شیشہ بن گئی ہیں۔ مجھے اس کا گوشت پوست دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔۔۔۔ صرف ڈھانچہ نظر آتا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کی آنکھیں۔۔۔۔۔۔ وہ بالکل ثابت و سالم تھیں، جن میں بے پناہ کشش تھی۔

میرا جی چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ بیٹھوں لیکن یہ سوچ کر کوئی دیکھ لے گا، میں نے اس کے ساتھی لڑکے کو اس کے ساتھ بٹھا دیا اور آپ اگلی نشست پر بیٹھ گیا۔

’’میں۔۔۔۔۔۔میں سعادت حسن منٹو ہوں۔‘‘

’’من ٹو۔۔۔۔۔۔ یہ من ٹو کیا ہوا؟‘‘

’’ کشمیریوں کی ایک ذات ہے۔‘‘

’’ہم بھی کشمیری ہیں۔‘‘

’’اچھا!‘‘

’’ ہم کنگ وائیں ہیں۔‘‘

میں نے مڑ کر اس سے کہا۔’’یہ تو بہت اونچی ذات ہے۔‘‘

وہ مسکرائی اور اس کی آنکھیں اور زیادہ پرکشش ہوگئیں۔

میں نے اپنی زندگی میں بے شمار خوبصورت آنکھیں دیکھی تھیں۔ لیکن وہ آنکھیں جو حنیفہ کے چہرے پر تھیں، بے حد پرکشش تھیں۔ معلوم نہیں ان میں کیا چیز تھی جو کشش کا باعث تھی۔ میں اس سے پیشتر عرض کرچکا ہوں کہ وہ قطعاً خوبصورت نہیں تھیں، لیکن اس کے باوجود میرے دل میں کھب رہی تھیں۔

میں نے جسارت سے کام لیا اور اس کے بالوں کی ایک لٹ کو جو اس کے ماتھے پر لٹک کر اس کی ایک آنکھ کو ڈھانپ رہی تھی، انگلی سے اٹھایا اور اسکے سر پر چسپاں کردی۔ اس نے برا نہ مانا۔

میں نے اور جسارت کی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس پر بھی اس نے کوئی مزاحمت نہ کی اور اپنے ساتھی لڑکے سے مخاطب ہو۔’’ تم میرا ہاتھ کیوں دبا رہے ہو؟‘‘

میں نے فوراً اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور لڑکے سے پوچھا۔’’ تمہارا مکان کہاں ہے؟‘‘

لڑکے نے ہاتھ کا اشارہ کیا۔’’اس بازار میں!‘‘

تانگے نے ادھر کا رخ کیا، بازار میں بہت بھیڑ تھی، ٹریفک بھی معمول سے زیادہ ۔تانگہ رک رک کر چل رہا تھا۔ سڑک میں چونکہ گڑھے تھے، اس لیے زور کے دھچکے لگ رہے تھے، بار بار اس کا سر میرے کندھوں سے ٹکراتا تھا اور میرا جی چاہتا تھا کہ اسے اپنے زانو پر رکھ لوں اور اس کی آنکھیں دیکھتا رہوں۔

تھوڑی دیر کے بعد ان کا گھر آگیا۔ لڑکے نے تانگے والے سے رکنے کے لیے کہا۔ جب تانگہ رکا تو وہ نیچے اترا۔ حنیفہ بیٹھی رہی۔ میں نے اس سے کہا۔’’تمہارا گھر آگیا ہے!‘‘

حنیفہ نے مڑ کر میری طرف عجیب و غریب آنکھوں سے دیکھا۔’’بدرو کہاں ہے؟‘‘

میں نے اس سے پوچھا۔’’کون بدرو؟‘‘

’’وہ لڑکا جو میرے ساتھ تھا۔‘‘

میں نے لڑکے کی طرف دیکھا جو تانگے کے پاس ہی تھا۔’’یہ کھڑا تو ہے!‘‘

’’اچھا۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے بدرو سے کہا۔’’بدرو! مجھے اتار تو دو۔‘‘

بدرو نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بڑی مشکل سے نیچے اتارا۔ میں سخت متحیر تھا۔ پچھلی نشست پر جاتے ہوئے میں نے اس لڑکے سے پوچھا۔’’کیا بات ہے’’ یہ خود نہیں اتر سکتیں؟‘‘

بدرو نے جواب دیا۔’’ جی نہیں۔۔۔۔۔۔ ان کی آنکھیں خراب ہیں۔۔۔۔۔۔ دکھائی نہیں دیتا۔‘‘

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کہیں دیر نہ ہو جاۓ
  • گاؤں کی رانی​
  • ستاروں تلے
  • دھیان بٹائے رکھنا ہے!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
گھاس والی
پچھلی پوسٹ
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

متعلقہ پوسٹس

شریفوں کی بستی میں طوائف

جون 26, 2018

خوابناک لمحہ

نومبر 24, 2024

اُلٹی دنیا

مئی 25, 2024

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

رقصِ شرر

جنوری 3, 2020

یک طرفہ محبت

دسمبر 6, 2019

چوری

جنوری 28, 2013

دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ

نومبر 2, 2025

کشتی کی وہ سنہری شام

دسمبر 22, 2024

درد بے لگام ہو گئے

دسمبر 11, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

برف باری سے پہلے

جنوری 12, 2020

اللہ دیکھ رہا ہے

جولائی 21, 2020

مریدپور کا پیر

دسمبر 12, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں