خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامایک دن میں چوبیس گھنٹے کیوں ہوتے ہیں ؟
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمز

ایک دن میں چوبیس گھنٹے کیوں ہوتے ہیں ؟

از سائیٹ ایڈمن مارچ 30, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 30, 2026 0 تبصرے 34 مناظر
35

دن میں 24 گھنٹے، ہر گھنٹے میں 60 منٹ اور ہر منٹ میں 60 سیکنڈ کیوں ہوتے ہیں،وقت کی پیمائش کا راز: پانچ ہزار سال پرانا فیصلہ جس نے ہماری دنیا بدل دی
انسانی تاریخ میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، مگر ان کے اثرات صدیوں تک انسان کی زندگی کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ وقت کی پیمائش کا نظام بھی انہی میں سے ایک ہے۔ آج ہم دن کو 24 گھنٹوں میں، ایک گھنٹے کو 60 منٹوں میں اور ایک منٹ کو 60 سیکنڈز میں تقسیم کرتے ہیں، لیکن شاید ہی کبھی یہ سوچتے ہوں کہ یہ نظام آخر بنا کیسے؟ اس کے پیچھے کون سی سوچ، کون سی تہذیب اور کون سا راز چھپا ہوا ہے۔
اگر ہم وقت کے پہیے کو الٹا گھمائیں اور ہزاروں سال پیچھے جائیں تو ہمیں ایک ایسی دنیا نظر آتی ہے جہاں وقت کو گننے کا کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا۔ انسان سورج کے طلوع و غروب، چاند کے بدلتے ہوئے مراحل اور موسموں کی تبدیلی سے اندازہ لگاتا تھا کہ دن کب شروع ہوا اور کب ختم۔ مگر جیسے جیسے انسانی تہذیب ترقی کرنے لگی، خاص طور پر زراعت اور تجارت نے جنم لیا، تو وقت کی درست پیمائش کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔
تقریباً پانچ ہزار سال قبل قدیم تہذیبوں، خاص طور پر Mesopotamia اور Ancient Egypt میں وقت کو منظم کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ ان تہذیبوں نے نہ صرف سورج اور ستاروں کی حرکات کا بغور مشاہدہ کیا بلکہ ان کی بنیاد پر وقت کو تقسیم کرنے کے اصول بھی وضع کیے۔ قدیم مصریوں نے دن اور رات کو ملا کر 24 حصوں میں تقسیم کیا، جس کی بنیاد سورج کی حرکت اور رات کے وقت نظر آنے والے ستاروں کے گروہوں پر رکھی گئی۔
تاہم، وقت کو 60 کے ہندسے میں تقسیم کرنے کا راز ہمیں Babylonian civilization میں ملتا ہے۔ بابل کے لوگوں نے ایک خاص عددی نظام اپنایا جسے "Sexagesimal System” کہا جاتا ہے، یعنی 60 پر مبنی نظام۔ اس نظام کی خاص بات یہ تھی کہ 60 ایک ایسا عدد ہے جو کئی چھوٹے اعداد سے بخوبی تقسیم ہو جاتا ہے، جیسے 2، 3، 4، 5، 6 وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ حساب کتاب اور فلکیاتی مشاہدات میں اسے انتہائی آسانی سے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
بابلیوں نے نہ صرف وقت بلکہ زاویوں کی پیمائش میں بھی اسی نظام کو استعمال کیا، جس کی جھلک آج بھی 360 درجے کے دائرے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی 60 پر مبنی سوچ آگے چل کر گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈز کی بنیاد بن گئی۔ یوں ایک گھنٹہ 60 منٹوں پر مشتمل ہوا اور ہر منٹ کو مزید 60 سیکنڈز میں تقسیم کر دیا گیا۔
وقت کی پیمائش کے ابتدائی آلات بھی نہایت دلچسپ تھے۔ قدیم مصریوں نے "سورج گھڑی” (Sundial) ایجاد کی، جس میں سورج کی روشنی اور سائے کی مدد سے وقت کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔ بعد ازاں پانی کی گھڑیاں (Water Clocks) اور ریت کی گھڑیاں (Hourglass) بھی استعمال میں آئیں، جنہوں نے وقت کی پیمائش کو مزید بہتر بنایا۔
مصریوں نے گھنٹوں کا تعین 36 چھوٹے ستاروں کے جھرمٹ سے کرنا شروع کیا جنھیں ڈیکینز کہا جاتا تھا، جن میں سے ہر ایک جھرمٹ 40 منٹ بعد طلوع ہوتا تھا اور اس طرح وہ ہر چالیس منٹ بعد ایک نئے گھنٹے کا آغاز کرتے تھے۔
کئی صدیوں بعد یونانیوں نے اس نظام کو بے کار قرار دیا، وہ دن کی طوالت کو ٹھیک کرنا چاہتے تھے،جس کے بعد Hipparchus نامی ماہر نجوم نے مصری ستاروں کی گھڑی کو اُس گھڑی کے مطابق ڈھالا جو ہم آج استعمال کرتے ہیں، جس میں روشنی اور تاریکی کو 12، 12 گھنٹوں کی یکساں طوالت میں تقسیم کیا گیا۔
جیسے جیسے سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی، ویسے ویسے وقت کو ناپنے کے طریقے بھی جدید ہوتے گئے۔ قرونِ وسطیٰ میں مکینیکل گھڑیاں ایجاد ہوئیں اور پھر جدید دور میں ایٹمی گھڑیاں (Atomic Clocks) سامنے آئیں، جو وقت کو انتہائی درستگی کے ساتھ ناپتی ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی ترقی کے باوجود ہم آج بھی اسی بنیادی نظام پر قائم ہیں جو ہزاروں سال پہلے وضع کیا گیا تھا۔
اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ قدیم تہذیبوں کی سوچ کتنی گہری اور دور اندیش تھی۔ انہوں نے جو بنیاد رکھی، وہ نہ صرف اپنے وقت کے لیے کارآمد تھی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی بہترین ثابت ہوئی۔ وقت کی یہ تقسیم نہ صرف سائنسی اعتبار سے موزوں ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی بے حد آسان اور مؤثر ہے۔
آج جب ہم گھڑی کی طرف دیکھتے ہیں اور وقت کا حساب لگاتے ہیں، تو دراصل ہم ایک قدیم فیصلے کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک ایسا فیصلہ جو ہزاروں سال پہلے کیا گیا، مگر آج بھی ہماری زندگی کے ہر لمحے کو منظم کر رہا ہے۔
اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسانی عقل و فہم جب کسی مسئلے کا حل تلاش کرتی ہے تو وہ وقت کی قید سے آزاد ہو کر صدیوں تک فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

ابو خالد قاسمی

استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ غازی آباد ۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ” قلم کتاب “ دنیا کی ایک تاریخ ساز کتاب
  • گِلہ تو آپ سے ہے اور بے سبب بھی نہیں
  • عمیق مشعل کی حفاظت
  • وہ ہجرتیں تھیں کہ دھکے دیئے گئے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رشتوں کی خاموش زبان – بھائی بہن کا پیار
پچھلی پوسٹ
ڈیجیٹل غلامی : جدید دور کا نیا قید خانہ

متعلقہ پوسٹس

ڈارلنگ

جنوری 15, 2020

کرونا وائرس: کیسے اور کہاں تک پھیل سکتا ہے؟

مارچ 19, 2020

پیرس کا آدمی

جون 14, 2020

آن لائن کلاسیں، نظام تعلیم اور اسکولوں کا کھلنا!

جولائی 24, 2020

ترقی کا ابلیسی ناچ

نومبر 14, 2021

راما پرم کا آدم خور

نومبر 23, 2019

تلقارمس

جون 9, 2020

لہجۂِ یار میں نشتر بھی تو ہو سکتا ہے

اپریل 3, 2026

کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ

نومبر 12, 2019

جب دیکھنا تو آنکھ کے اُس پار دیکھنا

جنوری 6, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رشتہ ایسا ہونا چاہیے

نومبر 22, 2022

جمہوریت یاانتقامی سیاست!!

فروری 26, 2021

بادشاہ چیل

جنوری 24, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں