خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامآنکھوں کے راز اور خول
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرسبین علی

آنکھوں کے راز اور خول

از سائیٹ ایڈمن مارچ 24, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 24, 2026 0 تبصرے 83 مناظر
84

دو سیاہ آنکھوں نے مجھ پر ایک کہانی لکھنے کا دباؤ ڈالا ہے۔ میں ٹیب ہاتھ میں لیے لکھنے بیٹھی ہوں اور ان کالی سیاہ آنکھوں کی تحریر کے پیچھے خیالات کا ایک سیل رواں ہے کہ بند توڑ کر بہتا چلا آ رہا ہے۔ کئی بار کہانی خود کو لکھواتی ہے جیسے بارش خود بخود برسنے لگ جاتی ہے مگر کئی بار کہانی لکھنے سے قبل یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا لکھیں؟ ہمارے ارد گرد ہر انسان ایک ماسٹر پیس کہانی ہے اور ہر چہرہ ایک شاہکار پینٹینگ۔ ہاں مگر چہرے صرف مصوری کے نمونے ہی نہیں بلکہ سبھی چہرے ایک راز ہیں اور آنکھیں وہ روزن جن سے کئی بار اندر کی جھلک نظر آ جاتی ہے۔ ہر انسان اپنے اوپر کئی خول چڑھائے پھرتا یے۔ کیا ضروری ہے کہ ان خولوں کو منافقت یا الگ الگ چہروں کے خول سمجھا جائے۔ بس کچھ ایسا ہر ذی روح کے اندر موجود ہے جو وہ پبلک نہیں کرنا چاہتا بلکہ شاید کسی کو بھی وہ سب دکھانا نہیں چاہتا۔
مصنف بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ادھر ادھر کی باتیں لکھیں گے، نظریات کے خول میں چھپیں گے۔ علامتوں استعاروں میں ملفوف ہونے کی کوشش کریں گے۔ مگر کئی بار شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے اندرون کی ایک ہلکی سی درز کھول کر محض چند کرنوں کو باہر کی راہ دکھا دیتے ہیں۔

پھر بہت واہ واہ ہوتی ہے۔ جی ہاں یہ آپ سب کے ساتھ ہوا ہوگا کہ آپ کی توقع کے برعکس کسی سادہ سی اور عام سی تحریر کو بڑی پزیرائی مل جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم اپنے خول کے اندر جو سنبھالے بیٹھے ہیں کیا دیگر سب لوگوں کے اندر بھی کچھ ویسا ہی ہے؟ لوگ اس تحریر کو پسند کرتے ہیں وہ وہ خود لکھنا چاہتے تھے مگر بوجوہ لکھ نہیں پاتے۔ جب کوئی اور وہی سب لکھ دیتا ہے تو کیسی طمانیت ملتی ہے۔ شاید وہ طمانیت اپنے اندر کا خول برقرار رہ جانے کی بھی ہوتی ہے۔

سننے اور پڑھنے والا کس طرح دل سے نکلی آواز اور تحریر کو پہچان جاتا ہے؟ پھر وہی سوال کیا کہ اتنے تنوع میں جہاں انگلیوں کی پوریں تک نہیں ملتی آنکھوں کے نمونے نہیں ملتے پھر بھی ہم سب کے اندر اگر کچھ مشترک سا ہے تو وہ کیا ہے؟
وہ بہت دلیر اور بڑے ادیب ہوتے ہیں یا بہت عام سے لوگ بھی جو اس اپنے اس فطری خول میں سے ایک کھڑکی کھول سکتے ہیں اور اس کھڑکی سے نکل کر ہزاروں لوگوں کے دلوں میں نہاں خانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان عام سے لوگوں کی خاص سی آنکھیں وہ روزن ہیں جو من کے اندر چھپے راز آشکار کرتی ہیں اور محسوسات کی ترسیل بھی۔

میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹوران میں کھانے کا آڈر دینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ اپنے قریب کھڑی ایک لڑکی جس کی عمر پندرہ سولہ سال ہوگی کے چہرے نے مجھے کسی مقناطیس کی مانند اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
اتنا سیاہ چہرہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے تقریبا ہر افریقی نسل کے لوگ دیکھے ہیں۔ میانہ قد چپٹی ناک والوں سے لے کر طویل قامت اور حی الجثہ سیاہ فام جن کی رنگت کے شیڈ براٶن کافی، کاکاٶ سے لے کر سیاہی مائل تک ہوتے ہیں۔ مگر اتنی چمکیلی سیاہ رنگت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ شاید اس کی جلد میں میلانن کے سب سے زیادہ پگمنٹ ہوں گے۔ مجھے کالے چہروں سے بے زاری نہیں ہوتی مگر مجھے یہ تسلیم کر لینے دیجیے کہ ایسا ہمیشہ سے نہ تھا۔ امی جی نے مجھے ایک بار کہا تھا کہ کسی بھی چہرے پر حقارت کی نگاہ نہیں کرتے، کسی کے چہرے کا تصور کر کے کبھی تھوکتے نہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بچوں کو ابتدائی آداب سکھائے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا امی جی کیوں بھلا؟

امی نے جواب دیا کہ اس لیے کہ ہر انسان کے چہرے پر رب کا ہاتھ پھرا ہوتا ہے۔
آخر دنیا میں اتنے زیادہ انسان ہیں ہر انسان کے چہرے پر اللہ تعالی اپنا ہاتھ کس طرح پھیر سکتا ہے؟

’’ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاءجوابا امی یہ کہتیں۔ ہاں مجھے کبھی بھی انہوں نے اس آیت کی اردو نہیں بتائی تھی نہ میں نے پوچھی یہاں تک کہ خود ترجمہ پڑھا اور اس آیت کا مفہوم نظر سے گزرا۔‘‘
اس کے باوجود مجھے چہروں میں چھپے اسرار کی پوری سمجھ کبھی نہیں آئی۔ ایک بار کسی چھوٹی سی افریقی بچی نے مجھ سے پوچھا تھا ’’کیا مجھ سے ہاتھ ملاٶ گی؟‘‘ ہاں کیوں نہیں میں نے اس کا ننھا سا ہاتھ تھام لیا تھا اور شاید تب اس کے ہاتھ میں کالے چہروں کی محرومی کے ہزاروں بھید بھی تھے جو وہ چپکے سے میری ہتھیلی کے ساتھ چِپکے چھوڑ گئی تھی۔

ریسٹورانٹ میں ملی اس پندرہ سولہ سال کی لڑکی جس کی جلد چمکدار میلانن پر مشتمل تھی موٹے بھرے بھرے ہونٹ اداس آنکھیں جھکی پلکیں، اس عمر میں ہر لڑکی بہت حسین ہوتی ہے پس وہ بھی تھی مگر اس کی گہری اداس آنکھوں میں کوئی پیغام تھا۔ کوئی کوڈ ورڈ جسے ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت تھی۔ مجھے وہ نک سک سی سجی ایک عورت کی خادمہ لگ رہی تھی جس کی بھنوٶں کو اکھاڑ کر نئی شیپ سے ہمکنار کرنے کی کوشش تیز رنگ کی آئی برو پینسل سے کی گئی تھی۔ گہرے آئی میک اپ کے باوجود وہ مادام کوئی بڑا تاثر نہیں چھوڑ رہی تھی۔ مگر اس کم سن لڑکی کی سیاہ آنکھیں کوئی ایسا مقناطیس تھیں جو اپنی طرف کھینچتا تو تھا لیکن ان میں کوئی نظر بھر کر دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔
کچھ آنکھیں اور کچھ کہانیاں دنیا کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل ہی رہ جاتی ہیں۔

افغان مہاجر کیمپ میں شربت گل کی آنکھوں کے شرارے اگر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ نہ کر لیے ہوتے تو عسرت خودی اور درد میں چھپے راز کیا دنیا تک پہنچچ پاتے جو آج بھی راز ہی ہیں۔
درد اور دھتکارے جانے کا کرب کیسے کیسے شاہ پارے ترتیب دے جاتا ہے۔ اگر شربت گل مہاجر کیمپ میں سرخ رنگ کی پھٹی چادر کی بجائے کسی حکمران کے محل میں مراعات پا رہی ہوتی تو کیا اس کی آنکھوں میں وہ شرارے ہوتے؟

شربت گل کی طرح اس کالی سیاہ لڑکی کا چہرہ بھی ایک راز تھا۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے چاہے جانے کی ایک نظر محبت کی فریاد نظر آئی تھی کہ مجھے دیکھو! میرے چہرے پر بھی تو رب کا ہاتھ پھرا ہوا ہے۔
کسی احساس تلے اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا، آنکھیں چار ہوئیں تو میں نرمی اور محبت سے مسکرا دی۔ وہ حیران ہوئی پھر نظریں چرا گئی اس کی جلد کے کالے کاغذ پر تشکر کی ایک اجلی تحریر ابھری مگر جب دوبارہ اس نے نظریں قصدا میری طرف کیں شاید وہ جوابا مسکرانا چاہتی تھی تو اس بار ان آنکھوں میں ایک پریشانی سی تھی کہ کہیں اس کے اندر کا خول میرے سامنے ٹوٹ نہ گیا ہو۔

اس کے خول کا بھرم رکھتے ہوئے میں نے نظریں ہٹائیں اور آگے بڑھ کر کھانے کا آڈر دینے لگی۔

سبین علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہم کب ایک قوم بنیں گے
  • کرنسی نوٹوں کی تبدیلی
  • اس کھیل میں ایسا مرا کردار نہیں تھا
  • پاکستان اور خلیج
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کباڑی غنچے
پچھلی پوسٹ
گاڈ سیو دا کنگ

متعلقہ پوسٹس

ایک تو نے جو کی وفا ہی نہیں

مئی 25, 2026

یار قصہ بڑا ہے پنجرے کا

دسمبر 7, 2025

دکھی دلوں کا سہارا جہاں میں کوئی نہیں

مارچ 18, 2026

آج یاد آرہی ھے

جنوری 10, 2025

ذیابیطس

مارچ 11, 2025

ہم کہیں کے نہ رہے!

فروری 21, 2026

نادان ادھاری

دسمبر 6, 2025

مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

مارچ 8, 2026

پاکستان کا مطلب کیا

جولائی 20, 2021

ٍ بے عمل ٹرینر

جولائی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

درس وفا

جنوری 18, 2025

مہنگائی کا طوفان

دسمبر 17, 2021

کشتی مافیا اور ڈوبتی انسانیت کا...

ستمبر 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں