خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمیر، غالب، اور ایک منٹ کے چاول
اردو تحاریرمقالات و مضامین

میر، غالب، اور ایک منٹ کے چاول

اردو مضمون از زیف سید

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019 0 تبصرے 568 مناظر
569

شاعری کا تعلق دل کی دنیا سے ہے اورکہا جاتا ہے کہ دل کا راستا پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسی منطق کو آگے بڑھایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ شاعری کا پیٹ سے گہرا تعلق ہے، اس بات سے قطع نظر کہ اردو کے کئی عظیم شعرا اکثر خالی پیٹ ہی رہا کرتے تھے۔

اردو کے عظیم شعرا کا ذکر آیا ہے تو میر اور غالب سے زیادہ عظیم کون ہو گا۔ لیکن کیا کبھی میر اورغالب نے سوچا ہو گا کہ ایک دن انھیں چاول بنانے کے ایک نسخے سے اتنا فائدہ پہنچے گا جو ان کے کسی مربی نواب سے زندگی بھر نہیں ملا اور اسی نسخے کی بدولت ان کے فن پر قابلِ قدر تحقیقی اور تنقیدی کارنامے سرانجام دیے جائیں گے؟

کیلنڈر کے صفحات تیزی سے پلٹ کر ہم پہنچتے ہیں 1971ء میں۔ نیویارک سے شائع ہونے والے مشہور رسالے ’نیویارکر‘ میں وید مہتا نامی ایک شخص خط لکھا، جس میں انھوں نے نیویارکر ہی میں شائع ہونے والے ایک اداریے کا جواب دیا تھا۔

اوراس اداریے کا موضوع کیا تھا؟ اس کے لیے ہمیں مزید سات سال پیچھے جانا پڑے گا کیوں حیرت انگیز طور پر مہتا صاحب کو اس کا جواب دیتے دیتے سات برس لگ گئے تھے۔

سات برس قبل 1964ء میں نیویارکر نے ایک دل چسپ و عجیب وصیت کا ذکر کیا تھا۔ ایک افغان نژاد شخص عطااللہ اوزئی درانی نے پانچ لاکھ ڈالر کی خطیر رقم اس مقصد کے لیے مختص کی تھی کہ میر اورغالب کی شاعری کے انگریزی میں تراجم کیے جائیں۔ مدیر نے اس وصیت پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا تھا:

’جناب درانی نے انیسویں صدی کے فارسی شعرا (کذا) میرتقی میر اورغالب کے انگریزی ترجموں اور ان کی سوانح لکھنے کے لیے یہ رقم چھوڑی ہے ۔۔۔ ہو سکتا ہے یہ خراب شعرا ہوں، لیکن ’منٹ رائس‘ کے موجد جناب درانی اگر ان کے اتنے مداح ہیں تو ہمیں اس بات پر اطمینان ہے۔‘

اس اداریے میں ’خراب شعرا‘ کا جو فقرہ استعمال ہوا،اسی نے وید مہتا صاحب کو سات برسوں بعد ہی سہی، اس کا جواب دینے پر مجبور کر دیا۔ لیکن اس سےپہلے کہ ہم وید مہتا کے جوابی خط کا جائزہ لیں، پہلے اس بات کا تعین ہو جائے کہ منٹ رائس کیا چیز ہے؟ اس کے لیے ہمیں 23 سال مزید پیچھے جانا پڑے گا۔

عطااللہ درانی صاحب ویسے تو جامعہ علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے، لیکن 1930 کی دہائی میں امریکہ جا بسے تھے۔ درانی صاحب کا میلان کھانا پکانے کے نت نئے نسخے ایجاد کرنے کی طرف تھا۔ چناں چہ 1941ء میں ایک دن وہ جنرل فوڈ کمپنی کے دفتر میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے اور اپنی سالہاسال کی تحقیق کا نچوڑ کمپنی کے مینیجر کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ انھوں نے چاول بنانے کا ایک ایسا نسخہ دریافت کیا تھا جس کے تحت صرف ایک منٹ میں مزے دار چاول بنائے جا سکتے تھے۔

امریکہ خاصے عرصے سے صنعتی دور میں داخل ہو چکا تھا۔ زندگی بے حد مصروف تھی، مردوں کے شانہ بہ شانہ خواتین بھی زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو رہی تھیں اور ان کے پاس گھنٹوں باورچی خانے میں گزارنے کا وقت نہیں تھا۔ اس لیے کم وقت اور بالانشین قسم کا یہ نسخہ جنرل فوڈ کو اس قدر پسند آیا کہ انھوں نے فوراً اسے منھ مانگی قیمت پرخرید لیا اور درانی صاحب راتوں رات کروڑ پتی ہو گئے۔

اسی رقم میں سے کچھ انھوں نے میر و غالب پر تحقیق کے لیے چھوڑی تھی۔

وید مہتا صاحب نے نیویارکر کے اداریے کے جواب میں لکھا کہ میر اور غالب ہرگز خراب شعرا نہیں تھے، بلکہ اردو جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ دونوں انگریزی کے عظیم شعرا چاسر اور بائرن سے بھی دو ہاتھ آگے تھے، ان کی عظمت کی دلیل یہ ہے کہ ان کا ترجمہ کسی اور زبان میں ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ ایسی کوئی بھی کوشش ان شعرا کی توہین کے مترادف ہو گی۔

عطااللہ درانی کا انتقال 1964ء میں امریکی ریاست کولوراڈو میں ہوا تھا۔ انھوں نے ایک امریکی خاتون سے شادی کی تھی اوران کی ایک بیٹی بھی تھی، لیکن بعد میں ان کی بیوی سے علاحدگی ہو گئی تھی۔

درانی صاحب کی اس عجیب و غریب وصیت نے ان کے وکلا کو بھی اچھے خاصے مخمصے میں ڈال دیا تھا کیوں کہ ان بے چاروں نے کبھی میر یا غالب کا نام تک نہیں سنا تھا، اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ دونوں فارسی کے شعرا ہیں۔ جب امریکہ میں قائم بھارتی قونصل خانے کے لائبریرین سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے خاصی سوچ بچار کے بعد نتیجہ نکالا یہ معاملہ پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کی تحقیق کا نچوڑ یہ تھا کہ غالب کی شاعری عاشقانہ اور فلسفیانہ ہے جب کہ میر کی شاعری شیعہ مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔

جب نیویارک کی کولمبیا یونی ورسٹی کے مطالعہٴ ایران کے پروفیسر احسان یارشاطر سے اس معاملے پر روشنی ڈالنے کے لیے درخواست کی گئی تو انھوں نے بھی بھارتی لائبریرین کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ دونوں شاعر پاکستانی علاقے کے باشندے تھے۔ انھوں نے یہ اضافہ کرنا بھی ضروری سمجھا کہ ان کی شاعری کوئی خاص نہیں ہے۔

اس کہانی کا آخری سوال یہ ہے کہ آخر 1964ء کے زمانے کے اس نصف ملین ڈالر کی بھاری رقم کا کیا مصرف ہوا؟

درانی صاحب نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ یہ رقم ہارورڈ یونی ورسٹی یا اس جیسے کسی دوسرے تحقیقی ادارے کو دی جائے۔ چناں ہارورڈ یونی ورسٹی نے اس ترکے سے استفادہ کرتے ہوئے پہلے تو مشہور جرمن مستشرق این میری شمل کو انڈومسلم سٹڈیز کا پروفیسر مقرر کر دیا، تو دوسری طرف رالف رسل اور خورشید السلام کے ذمے میر اور غالب پر تحقیق کا کام لگا دیا۔

اسی تحقیق کے ثمر میں ان دونوں حضرات کی کتاب ’تین مغل شاعر‘ اور’غالب، زندگی اور خطوطِ‘ تخلیق کی گئیں، یہ دونوں کتابیں انگریزی زبان میں اردو ادب کے بارے میں عمدہ ترین کتابیں متصور کی جاتی ہیں۔

این میری شمل نے بھی میر کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی، ممکن ہے کہ یہ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہو۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ درانی صاحب نے اردو کی خدمت کے لیے اپنی تجوری کا منھ کھولا ہو۔ اس سے قبل انھوں نے علی گڑھ یونی ورسٹی کو ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا تھا تاکہ سید حسین یادگاری پروفیسرشپ قائم کی جا سکے۔ تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور درانی صاحب نے بعد میں اپنی رقم واپس لے لی۔

غالب اکثر روزی کی تنگی کی شکایت کیا کرتے تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ انھیں اگر اسی قسم کا ایک چاول ساز نسخہ مل جاتا تو وہ ادھار کھانے کی بجائے اسی کی کمائی اڑایا کرتے اور بہادر شاہ ظفر کی بجائے عطااللہ درانی کی مدح لکھتے۔

زیف سید

(شکریہ: وائس آف امریکہ)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فطرت کے بھکاری
  • یہاں کچھ پھول رکھے ہیں
  • تقسیم ہند اور کشمیر
  • ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خلیل جبران اور آج کا پاکستان
پچھلی پوسٹ
ہنستے ہنستے

متعلقہ پوسٹس

میں نے کیا غلط کیا تھا، اماں؟

اپریل 28, 2026

جسم اور رُوح

جنوری 31, 2020

مشین گردی

نومبر 28, 2020

مشرقی جمال

دسمبر 3, 2024

پوئنا

دسمبر 10, 2024

ریوڑ سے قوم بننے کا سفر!

اپریل 23, 2022

ریشم کی مہک

دسمبر 5, 2024

اخلاص کے ساتھ انفاق

جنوری 4, 2026

مجھے بچہ نہیں چاہیے

مئی 28, 2024

کیوں کہ

مئی 3, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

روشنی میں بھٹکتا جگنو

مارچ 21, 2020

مس فریا

جنوری 17, 2020

نہ جسم تیرا ۔ نہ مرضی...

مارچ 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں