خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمز

پروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ

از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026 0 تبصرے 85 مناظر
86

”بہ قول ایلیٹ ، ہر عظیم فن پارہ اپنے ساتھ نئے تنقیدی پیمانے لے کر آتی ہے اور ہر فن پارے کی تخلیق پچھلی قائم کردہ تمام درجہ بندیوں کو درہم برہم کردیتی ہے”یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج تنقید کا معیار بہت بلند ہے، تنقید نے نئی نسل میں شعور پیدا کیا کہ وہ ادب کے ساتھ ساتھ زندگی میں بھی سوالات پیدا کرتے ہیں او ر اُن اُصولوں کے خلاف جاتے ہیں جو لوگوں کے اپنے قائم کردہ اُصول ہیں۔
اس لیے اُردو ادب میں بیسیوں نقاد گزر چکے ہیں اور اُس میں کئی ایک دوسروں کے تنقید پر اعتراض کرکے نئے فن پارے قائم کیے ہیں۔اُن نقادوں میں ایک نام پروفیسر گوہر نوید کا بھی ہے۔آپ کے بارے میں اسحاق وردگ کہتے ہیں:
”تنقید کی آزادی میں گوہر نوید کے قلم کی روشنی بھی شامل ہے ۔ اس جہانِ امکان میں کئی معجزے موجود ہیں۔بس اُسے ایک خاص قرینے سے تنقید کی خودی کو مزید دریافت کرنا ہے تاکہ پختون خوا کی اُردو تنقید کو سچ کہنے کا سلیقہ آجائے ۔یہ زمہ داری گوہر نوید کو ہم نے نہیں وقت اور تاریخ نے سونپی ہے”
پروفیسر گوہر نوید ادب کے ہر گوشے کے ساتھ انصاف کے لیے پر عزم ہیں اور یہ خوبی انھیں دوسرے نقادوں سے ممتاز کرلیتا ہے جس کی وجہ سے پروفیسر گوہر نوید ترقی پسندیت اور رومانویت کے سنگھم پر کھڑے نظر آتے ہیں اور یہ بات مردان کے تمام ناقدین مانتے ہیں ۔
پروفیسر گوہر نوید نے ن م راشد(نذر محمد راشد) کی شاعری پر دل کھول کر تنقید کی ہے ۔ انھوں نے ن م راشد کے کی شاعری پر جو تنقیدی مضامین لکھے ہیں اِ س سے پڑھنے والا صرف مردہ خیال سے اختلاف نہیں کرسکتا بلکہ یوں خیال کیا جاسکتا ہے کہ ایک سچے اور امین نقاد میں خصوصیت پائی جاتی ہیں یا جن خصوصیت کی ضروت ہو وہ تمام پروفیسر گوہر نوید میں پائے جاتے ہیں ۔ ن م راشد کی شاعری کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
”راشد کے داخل سے جب بغاوت کا لاوا اُگلتا ہے تو کُہنگی کے تصورات کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس لاوے سے نکلنے والے شرارے شعلے بن کر آسمان تک پہنچنتے ہیں۔ خاشاک غیراللہ کو پھونک ڈالنے کے بعد بغاوت کے آخری حدود کوپھلانگتے ہوئے وہ خُداکے حضور میں بھی گستاخی کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور ایسے شعر تخلیق کرنے لگتے ہیں جن میں مذہب ، تصوف م اور مروجہ تصورات کا مزاق اُڑایا جاتا ہے”
پروفیسر گوہر نوید نے اس مضمون میں جو زاویۂ نظر اختیار کیاہے اس اختلاف نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ نظم جدید کے شاعر ن م راشد کے ہاں ایسے موضوعات ملتے ہیں جن میں گمراہانہ سوچ اور توہین آمیز تصورات ملتے ہیں اور یہ سوچ ادب اور مذہب کے درمیان قائم کردہ فاصلوں کو ختم کرتی ہے۔ اس مضمون کے زاویہ نظر میں ن م راشد کی ایک نظم ”پہلی کرن میں کہتے ہیں :

خُدا کا جنازہ لیے جارہے ہیں فرشتے
اسی ساحر بے نشاں کا
جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا نہیں تھا

ن م راشد کا انسان باقاعدہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور راشد کا انسان جنس کے ساتھ ساتھ معاشرتی ، سیاسی اور اجتماعی مسائل کا بھی شکار نظر آتا ہے ۔ ن م راشدکاانسان خارج کا مناظرہ و مشاہدہ کرکے واپس اپنے داخل کی طرف مڑ کر آتا ہے اور جب آتا ہے تو اُس کی واپسی مکمل ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ راشد کا انسان خُدا کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے۔

پروفیسر گوہر نوید کسی فن پارے کو پرکھنے کے لیے ادبی اور جمالیاتی قدروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس سے ادب کو کیا فائدہ ہوگا اور عام قاری اس سے کتنا فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔ یہاں یہ عرض بھی ضروری ہے کہ اُصولِ تنقید کے معاملے میں پروفیسر گوہر نوید کا رویہ کتنا ہی سخت اور بے لچک سہی لیکن عملی تنقید میں جب وہ کسی فن پارے پر تنقید کرتے ہیں تو یہ شدت کسی حد کم ہوجاتی ہے اور تنقید میں افادیت کے ساتھ دوسرے پہلووں کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ موصوف اُس ادب کے حق میں ہیں جو عوام کی امنگوں کا ترجمان ہواور عوام کے مقاصد کو پورا کرے اور اُن کی زندگی کو خوش گوار بنائے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ادب عوام کی ترجمان ہوتی ہے یا نہیں ؟ یعنی شعر و ادب میں حسن اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب فنی تقاضو کو پورا کیا جائے ۔ ادب میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک وہ بات جو کہی جارہی ہے، دوسرا وہ انداز جس میں وہ بات کہی جارہی ہے۔ ایک کو موضوع اور دوسرے کو اسلوب و ہئیت کہتے ہیں۔ اس لیے پروفیسر گوہرنوید نے انتہائی آسان بھاشا میں تنقید پر بحث کرتے ہوئے قاری کو ایک آسان اور سلیس انداز میں تنقید کے عمل کو بیان کیا ہے۔ وہ مشکل الفاظ کے بجائے آسان الفاظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے احمد فراز کی مشکل پسندی پر اعتراض کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ شاعری میں رومانوی حجاز کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی کا بھی قائل ہے وہ کہتے ہیں : شاعر اپنے روح عصر کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے شاعری جتنی حقیقت پسند ہوگی اتنا ہی اس کا معیار بلند ہوگا۔ مندرجہ بالا عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ پروفیسر گوہر نوید مردان کا جئنوئن اور امین نقاد ہے ۔

مدثر عباس

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جب انتظار کی شامیں بنانی پڑتی ہیں
  • تو میرا عشق ہے
  • نیا آغاز
  • سیلاب، سیاست اور مہنگائی!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خبر مسلم کی
پچھلی پوسٹ
بامِ غزل از افتخار شاہد

متعلقہ پوسٹس

اقبال یا انشا، غلط نسبت

دسمبر 20, 2022

مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام ِ تباہی؟

ستمبر 15, 2023

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

مولسری کے پھول

مئی 20, 2020

مکافات عمل

جنوری 2, 2025

اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

مارچ 5, 2020

شعوری جنسیت

جولائی 8, 2020

خواب ہے خواب ہی ہو

دسمبر 18, 2025

سانجھ

جنوری 5, 2020

ہالی ووڈ کا فریب – تیسری قسط

جنوری 19, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کافر کوٹ کے کھنڈر

اکتوبر 9, 2022

سفید خون

مئی 2, 2019

بنام مولوی منشی حبیب اللہ خاں...

دسمبر 8, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں