خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمز

پروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ

از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026 0 تبصرے 153 مناظر
154

”بہ قول ایلیٹ ، ہر عظیم فن پارہ اپنے ساتھ نئے تنقیدی پیمانے لے کر آتی ہے اور ہر فن پارے کی تخلیق پچھلی قائم کردہ تمام درجہ بندیوں کو درہم برہم کردیتی ہے”یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج تنقید کا معیار بہت بلند ہے، تنقید نے نئی نسل میں شعور پیدا کیا کہ وہ ادب کے ساتھ ساتھ زندگی میں بھی سوالات پیدا کرتے ہیں او ر اُن اُصولوں کے خلاف جاتے ہیں جو لوگوں کے اپنے قائم کردہ اُصول ہیں۔
اس لیے اُردو ادب میں بیسیوں نقاد گزر چکے ہیں اور اُس میں کئی ایک دوسروں کے تنقید پر اعتراض کرکے نئے فن پارے قائم کیے ہیں۔اُن نقادوں میں ایک نام پروفیسر گوہر نوید کا بھی ہے۔آپ کے بارے میں اسحاق وردگ کہتے ہیں:
”تنقید کی آزادی میں گوہر نوید کے قلم کی روشنی بھی شامل ہے ۔ اس جہانِ امکان میں کئی معجزے موجود ہیں۔بس اُسے ایک خاص قرینے سے تنقید کی خودی کو مزید دریافت کرنا ہے تاکہ پختون خوا کی اُردو تنقید کو سچ کہنے کا سلیقہ آجائے ۔یہ زمہ داری گوہر نوید کو ہم نے نہیں وقت اور تاریخ نے سونپی ہے”
پروفیسر گوہر نوید ادب کے ہر گوشے کے ساتھ انصاف کے لیے پر عزم ہیں اور یہ خوبی انھیں دوسرے نقادوں سے ممتاز کرلیتا ہے جس کی وجہ سے پروفیسر گوہر نوید ترقی پسندیت اور رومانویت کے سنگھم پر کھڑے نظر آتے ہیں اور یہ بات مردان کے تمام ناقدین مانتے ہیں ۔
پروفیسر گوہر نوید نے ن م راشد(نذر محمد راشد) کی شاعری پر دل کھول کر تنقید کی ہے ۔ انھوں نے ن م راشد کے کی شاعری پر جو تنقیدی مضامین لکھے ہیں اِ س سے پڑھنے والا صرف مردہ خیال سے اختلاف نہیں کرسکتا بلکہ یوں خیال کیا جاسکتا ہے کہ ایک سچے اور امین نقاد میں خصوصیت پائی جاتی ہیں یا جن خصوصیت کی ضروت ہو وہ تمام پروفیسر گوہر نوید میں پائے جاتے ہیں ۔ ن م راشد کی شاعری کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
”راشد کے داخل سے جب بغاوت کا لاوا اُگلتا ہے تو کُہنگی کے تصورات کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس لاوے سے نکلنے والے شرارے شعلے بن کر آسمان تک پہنچنتے ہیں۔ خاشاک غیراللہ کو پھونک ڈالنے کے بعد بغاوت کے آخری حدود کوپھلانگتے ہوئے وہ خُداکے حضور میں بھی گستاخی کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور ایسے شعر تخلیق کرنے لگتے ہیں جن میں مذہب ، تصوف م اور مروجہ تصورات کا مزاق اُڑایا جاتا ہے”
پروفیسر گوہر نوید نے اس مضمون میں جو زاویۂ نظر اختیار کیاہے اس اختلاف نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ نظم جدید کے شاعر ن م راشد کے ہاں ایسے موضوعات ملتے ہیں جن میں گمراہانہ سوچ اور توہین آمیز تصورات ملتے ہیں اور یہ سوچ ادب اور مذہب کے درمیان قائم کردہ فاصلوں کو ختم کرتی ہے۔ اس مضمون کے زاویہ نظر میں ن م راشد کی ایک نظم ”پہلی کرن میں کہتے ہیں :

خُدا کا جنازہ لیے جارہے ہیں فرشتے
اسی ساحر بے نشاں کا
جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا نہیں تھا

ن م راشد کا انسان باقاعدہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور راشد کا انسان جنس کے ساتھ ساتھ معاشرتی ، سیاسی اور اجتماعی مسائل کا بھی شکار نظر آتا ہے ۔ ن م راشدکاانسان خارج کا مناظرہ و مشاہدہ کرکے واپس اپنے داخل کی طرف مڑ کر آتا ہے اور جب آتا ہے تو اُس کی واپسی مکمل ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ راشد کا انسان خُدا کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے۔

پروفیسر گوہر نوید کسی فن پارے کو پرکھنے کے لیے ادبی اور جمالیاتی قدروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس سے ادب کو کیا فائدہ ہوگا اور عام قاری اس سے کتنا فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔ یہاں یہ عرض بھی ضروری ہے کہ اُصولِ تنقید کے معاملے میں پروفیسر گوہر نوید کا رویہ کتنا ہی سخت اور بے لچک سہی لیکن عملی تنقید میں جب وہ کسی فن پارے پر تنقید کرتے ہیں تو یہ شدت کسی حد کم ہوجاتی ہے اور تنقید میں افادیت کے ساتھ دوسرے پہلووں کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ موصوف اُس ادب کے حق میں ہیں جو عوام کی امنگوں کا ترجمان ہواور عوام کے مقاصد کو پورا کرے اور اُن کی زندگی کو خوش گوار بنائے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ادب عوام کی ترجمان ہوتی ہے یا نہیں ؟ یعنی شعر و ادب میں حسن اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب فنی تقاضو کو پورا کیا جائے ۔ ادب میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک وہ بات جو کہی جارہی ہے، دوسرا وہ انداز جس میں وہ بات کہی جارہی ہے۔ ایک کو موضوع اور دوسرے کو اسلوب و ہئیت کہتے ہیں۔ اس لیے پروفیسر گوہرنوید نے انتہائی آسان بھاشا میں تنقید پر بحث کرتے ہوئے قاری کو ایک آسان اور سلیس انداز میں تنقید کے عمل کو بیان کیا ہے۔ وہ مشکل الفاظ کے بجائے آسان الفاظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے احمد فراز کی مشکل پسندی پر اعتراض کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ شاعری میں رومانوی حجاز کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی کا بھی قائل ہے وہ کہتے ہیں : شاعر اپنے روح عصر کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے شاعری جتنی حقیقت پسند ہوگی اتنا ہی اس کا معیار بلند ہوگا۔ مندرجہ بالا عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ پروفیسر گوہر نوید مردان کا جئنوئن اور امین نقاد ہے ۔

مدثر عباس

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شبوں کے دیس میں واحد دیا
  • ڈیجیٹل دہشتگردی
  • یک طرفہ محبت
  • پھاہا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خبر مسلم کی
پچھلی پوسٹ
بامِ غزل از افتخار شاہد

متعلقہ پوسٹس

محبت سے محبت ہے

جولائی 31, 2022

مسز گل

جنوری 16, 2020

یوم پاکستان ایک نئی قرارداد کا منتظر!

مارچ 19, 2022

افسر کا فن

مئی 17, 2025

ہارتا چلا گیا

مئی 16, 2015

وہ عام بھی ہوں تو لگتا ہے خاص ہوتے ہیں

مارچ 8, 2026

 موٹھی​

دسمبر 10, 2019

نادان ادھاری کا خط

اکتوبر 14, 2025

ایران، امریکہ کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کاکردار

جنوری 11, 2020

میں نے کیا غلط کیا تھا، اماں؟

اپریل 28, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

نومبر 15, 2019

تاریخ کے وارث – تیسری قسط

جنوری 17, 2025

باغِ ہم بستگی

فروری 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں