117
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے
جتنے بھی لڑاکا لڑکے ہیں ان سب کو نیک بناؤں گا
جوبچھڑے ہوئے ہمجولی ہیں ان سب کو ایک بناؤں گا
سب آپس میں مل جائیں گے جو رہتے ہیں اب لڑے لڑے
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے
یہ علم کی ہیں جوروشنیاں میں گھرگھرمیں پھیلاؤں گا
تعلیم کا پرچم لہرا کر میں سرسید بن جاؤں گا
بیکار گذاروں عمر بھلا کیوں اپنے گھر میں پڑے پڑے
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے
میں چاروں طرف لے جاؤں گا اقبال نے جو پیغام دیا
میں ہی وہ پرندہ ہوں جس کو اس نے شہباز نام دیا
اب میرےپروں سے چمکیں گے سب ہیرے موتی جڑے جڑے
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے
جمیل الدین عالی
