106
مت کر خوشی کہ ہوگئے اغیار لاپتہ
ممکن ہے کل کو ہوں ترے معمار لاپتہ
ہم نے چنا تھا جس کو، بڑے اعتماد سے
کیا تھا قصور؟ ہو گیا ’’سرکار‘‘ لاپتہ
احسان مان یہ بھی، اگر ہو گئے رِہا
لاکھوں کی گنتیوں میں سے، دو چار لاپتہ
بالوں میں اس کے چاندی اترنے لگی مگر
لوٹا نہ پھر جو ہو گیا دِشتار، لاپتہ
بد حالیوں کا ایسا چلا سلسلہ کہ اب
خوش حالیوں کے لگتے ہیں آثار، لاپتہ
تارے بجھے بجھے سے ہیں گلشن تباہ شد
یعنی ہوئے ہیں،نکہت و انوار لا پتہ
ادنٰی سا شعر گو تھا، مظفرؔ کا غم نہ کر
اے دل کیے گئے یہاں شہ کار لاپتہ
مظفرؔ ڈھاڈری
