خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامعبدالستار ایدھی
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

عبدالستار ایدھی

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2025 0 تبصرے 106 مناظر
107

عبدالستار ایدھی: فرد سے ادارے تک کا سفر

پاکستان کی سماجی اور خدمت خلق کے شعبے میں چند ہی نام ایسے ہیں جو کسی عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ نہ صرف ایک فرد تھے بلکہ ایک رویہ، ایک فکر اور ایک فلاحی تحریک کا نام بھی تھے۔
ایدھی کا تعلق برطانوی ہندوستان کے گجرات کے میمن گھرانے سے تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں تجارت، مذہب اور خدمتِ خلق کا ایک مخصوص امتزاج میمن برادری کی تمیز سمجھا جاتا تھا۔ تقسیمِ ہند نے لاکھوں لوگوں کو اجاڑ دیا۔ اسی اضطراب میں ایک نوجوان ایدھی بھی کراچی پہنچے۔ ہجرت کا کرب اور انسانوں کو بے یار و مددگار دیکھ کر ان کے اندر وہ فلاحی احساس بیدار ہوا جس نے بعد میں پورے ملک کو بدل کر رکھ دیا۔
اس پس منظر سے پتہ چلتا ہے کہ ایدھی کی خدمتِ خلق کسی سرکاری منصب یا مذہبی ادارے کی پیداوار نہیں تھی۔ یہ ایک ذاتی تجربے سے جنم لینے والا انسانی درد تھا۔abdul sattar edhi
1957کی ایشیائی فلو کی وبا ایدھی کے لیے فیصلہ کن موڑ تھی۔ پاکستان کے پاس ریاستی سطح پر اتنے وسائل نہ تھے کہ اس ہنگامی صورت حال کو سنبھال سکے۔ ایسے میں ایک عام انسان نے سڑک پر بیٹھ کر لوگوں کی مدد شروع کی۔ یہی وہ عمل تھا جس نے پہلی ایمبولینس، پہلے ڈسپنسری اور پھر بڑے فلاحی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔
ایدھی کا اندازِ قیادت روایتی نہیں تھا۔ وہ خود کفالت، سادگی اور جواب دہی پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے دفتر، گاڑی یا پروٹوکول نہیں اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شفافیت پر کبھی انگلی نہیں اٹھی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں یہ بات غیر معمولی ہے کہ ایک اتنا بڑا ادارہ مکمل طور پر عوامی عطیات سے چلتا ہو اور اس کے کارناموں کی سچائی پر کوئی اختلاف نہ ہو۔
آج ایدھی فاؤنڈیشن دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس چلا رہی ہے۔ یہ وہ شناخت ہے جو کئی دہائیوں پر محیط مستقل مزاجی کا ثمر ہے۔
ایدھی کے فلاحی کام کو بلقیس ایدھی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے بے سہارا بچوں، نومولود کی گود لینے کے نظام، خواتین کے شیلٹرز اور زچگی مراکز میں وہ کردار ادا کیا جس نے اس تحریک کو انسانی سطح پر مضبوط بنایا۔
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ناجائز بچے مار دیے جاتے تھے، وہاں بلقیس ایدھی نے "جھولا” رکھ کر ایک نئی روایت قائم کی یعنی زندگی کو بچانے کی روایت۔ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست نے ہمیشہ فلاحی کاموں کے لیے نجی شعبے کا سہارا لیا۔ لیکن ایدھی نے ریاست کا متبادل نہیں، ریاست کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی۔ وہ مذہبی انتہا پسندی کے مخالف تھے مگر مذہب دشمن نہیں تھے۔ ان کا ایمان عمل تھا، قول نہیں۔ اسی اصولی موقف نے انہیں معاشرے میں ایک اخلاقی اتھارٹی بنا دیا۔
ایدھی کی کامیابی کا راز "غیر سیاسی خدمت” تھا۔ انہوں نے کسی جماعت، فرقے یا طبقے کو ترجیح نہیں دی۔ یہی آفاقیت انہیں دوسرے فلاحی کارکنوں سے ممتاز کرتی ہے۔
ایدھی نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں امدادی کام کیے۔ ایتھوپیا کے قحط زدہ علاقے ہوں یا امریکہ میں طوفانِ کیٹرینا، انہوں نے خدمت کی سرحد کبھی پاکستان تک محدود نہیں رکھی۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر انہیں متعدد اعزازات ملے۔
نوبیل انعام نہ ملنا ایک الگ بحث ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقام اس سے بڑا تھا۔ انہیں دنیا نے ایک ایسے انسان کے طور پر یاد رکھا جو کسی نظریے، کسی قومیت، کسی مذہب کی قید میں نہیں تھا۔
ایدھی صرف خدمت گزارک ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ضدی، جرات مند اور اصول پسند شخص بھی تھے۔ وہ کرپٹ مذہبی تنظیموں، مسلکی اداروں اور سیاسی مفادات پر مبنی فلاحی پراجیکٹس کے کھلے ناقد تھے۔
ان کا لباس، ان کی جھونپڑی، ان کی دو جوڑی کپڑے یہ سب علامتیں تھیں کہ فلاحی کام دولت سے نہیں، نیت سے ہوتا ہے۔
ایدھی کے انتقال کے بعد یہ سوال اور بھی اہم ہو گیا ہے کہ کیا ایک ایسی شخصیت دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے؟ کیا ایدھی فاؤنڈیشن اپنی اصل روح برقرار رکھ سکتی ہے؟
تاریخی تجربے میں یہ حقیقت دکھائی دیتی ہے کہ بڑے ادارے اکثر بانی کے بعد کمزور ہوتے ہیں۔ تاہم ایدھی فاؤنڈیشن تاحال فعال ہے، مگر اس کے سامنے معاشی اور سماجی چیلنج موجود ہیں۔
ایدھی کے انتقال نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستانی معاشرے میں ان کے درجے کی کوئی متبادل اخلاقی قیادت موجود نہیں۔عبدالستار ایدھی نے پاکستانی معاشرے کو دکھایا کہ خدمت حکومت کی محتاج نہیں ہوتی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک فرد نیت اور مسلسل جدوجہد سے پورا نظام بدل سکتا ہے۔ تاریخی، اخلاقی اور سماجی سطح پر ایدھی ایک ایسا باب ہیں جسے پاکستان کی اجتماعی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا ورثہ صرف ادارے کی صورت نہیں بلکہ ایک فکری پیغام کی شکل میں موجود ہے۔ انسان کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔ اللہ کریم عبدالستار ایدھی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • احساس محبت
  • وکالت بزنس یا ایمانداری
  • شہری آبادی میں اضافہ: ایک سنگین چیلنج
  • میرا گھر میرا پاکستان اسکیم!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
معصوم پری
پچھلی پوسٹ
نسیم دشت

متعلقہ پوسٹس

کیا یہ غور طلب نہیں!

اگست 30, 2024

بڑے گھر کی بیٹی

دسمبر 10, 2019

کیا نظریاتی تنقید ممکن ہے؟

مئی 27, 2024

فیس بک پر شادیوں کا رجحان

فروری 16, 2020

چوری

جنوری 28, 2013

یہ خود غرض ہے یہ کم نسب

فروری 21, 2026

سفیرِ ادب

اپریل 9, 2026

آبروئے غزل

فروری 21, 2021

افسر کا فن

مئی 17, 2025

سورۃ الملک: مالک ہونے کا وہم

فروری 13, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زندگی

اگست 19, 2025

یوگا – جسم اور ذہن کے...

اگست 29, 2025

مذہب کی اصل روح

مارچ 18, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں