102
وسعت ہے دل میں اتنی کہ صحرا خرید لوں
چاہوں تو تیری آنکھ سے دریا خرید لوں
میری محبتوں کو ہنسی میں نہ یوں اڑا
میں اپنے اک اشارے سے دنیا خرید لوں
سیرت کو چھوڑ تو میری صورت پہ بات کر
اتنا حسین ہوں کہ زلیخا خرید لوں
کیا کچھ نہیں خریدا ترے ہجر میں میاں
"وحشت، اداسی، خوف” میں کیا کیا خرید لوں
تو میرے حال پر نہ جا باطن کو میرے دیکھ
اتنی تونگری ہے کہ آقا خرید لوں
اتنی رسائی تو مری بھی ہے خدا کے ہاں
درویش تجھ سے تیرا یہ کاسہ خرید لوں
فیاض ڈومکی
