288
رقص کرتے ہوئے سب ہوش بھلا دیتا ہیں
دیر تک وجد میں رہتا ہے سراپا میرا
موسمِ سبز مجھے حیران کیے دیتا ہے
دل زمستان میں بھی پھول سا مہکا میرا
میں مغنی ہوں محبت کا مجھے دل سے سنو
ہجر میں رہتا ہے غم، زمزہ پیرا میرا
ایک شب زاد نے بسرام کیا تھا مجھ میں
بس کے دن، رات سا رہتا ہے ہمیشہ میرا
آئینہ عکس مرا دل سے لگائے رکھے
دھوپ رنگین کیے دیتی ہے سایہ میرا
مبشر سعید
