416
کس لئے پروانہ خاکستر ہوا
شمع کیوں اپنی جلن میں گھل گئی
منتشر کیوں ہو گئے اوراق گل
چیختی گلشن سے کیوں بلبل گئی
آب دیدہ ہو کے شبنم کیوں چلی
دم کے دم کانٹوں میں آ کر تل گئی
سبزۂ طرف خیاباں کیا ہوا
آہ کیوں شادابیٔ سنبل گئی
کچھ نہ تھا خواب پریشاں کے سوا
اس تھئیٹر کی حقیقت کھل گئی
راہ کے رنج و تعب کا کیا گلہ
جب کہ دل سے گرد کلفت دھل گئی
اسماعیلؔ میرٹھی
