خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریررشید حسرتؔ
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدرشید حسرتمقالات و مضامین

رشید حسرتؔ

از رشید حسرت نومبر 18, 2025
از رشید حسرت نومبر 18, 2025 0 تبصرے 51 مناظر
52

مٹی، روشنی اور باطن کی ہریاول کا شاعر۔۔۔ رشید حسرتؔ

بلوچستان کی اس خاموش مگر باوقار سرزمین پر، جہاں پہاڑ صدیوں سے اپنے اندر گم شدہ زمانوں کی آوازیں سنبھالے بیٹھے ہیں، لفظ جب جنم لیتے ہیں تو اُن میں مٹی کی خوشبو، ہوا کی سنجیدگی اور پہاڑوں کی دیرپا تنہائی سب ایک ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کی سنگلاخ زمین بھی جب کسی فنکار کے دل پر اترتی ہے تو اس میں ایک ایسی گہری روشنی جاگتی ہے جو دکھوں کے اندھیرے میں بھی بجھتی نہیں۔ اسی سرزمین سے ایک ایسی آواز اُبھری ہے جس نے لفظ کو وقار دیا، جذبے کو نرمی اور فکر کو روشنی۔ یہ آواز پروفیسر رشید حسرتؔ کی ہے، وہ استاد بھی ہیں، سخنور بھی اور اپنے عہد کے فکری اندھیروں میں چراغRasheed Hasrat رکھنے والے اُن خاموش مسافروں میں سے بھی جو راستہ خود نہیں پاتے مگر دوسروں کے لئے روشن کر جاتے ہیں۔ ان کا چھٹا شعری مجموعہ”پیلی دھوپ”محض غزلوں کا مجموعہ نہیں، یہ ایک شاعر کے پورے اندرونی سفر کی روداد ہے، درد کی دھیمی تپش، دعا کی لرزتی ہوئی حرارت، باطن کی ہریاول اور زندگی کے گزرے ہوئے موسموں کا خاموش اعتراف۔

رشید حسرتؔ کے فن کا پہلا تاثر سادگی ہے، وہ سادگی جو کسی کمی سے نہیں بلکہ اندرونی ہریاول سے جنم لیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھاوا نہیں، بناوٹ نہیں، اُن کا باطن اُن کے لفظوں میں چلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ خود بھی اپنے ظاہر و باطن کی اس دوہری کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
حسرتؔ کو بڑا خشک مزاج آپ نے پایا
اوپر سے بڑے خشک ہیں اندر سے ہرے ہم
یہ ہریاول ان کے فن کی گہرائی ہے۔کبھی دعا بن کر، کبھی درد کی مہربان آنچ بن کر، کبھی فکری تازگی، کبھی انسان دوستی کی نرم بارش بن کر۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے دل کے اندر کہیں ایک چراغ آہستہ آہستہ روشن ہو رہا ہو۔
ان کی شاعری خالقِ کائنات کی تعریف سے شروع ہوتی ہے مگر روایتی عقیدت سے آگے بڑھ کر انسان کی اپنی بے بسی کا اعتراف بن جاتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انسانی کوشش کی ایک حد ہے اور وہی حد انہیں عاجز بناتی ہے مگر یہی عاجزی ان کے فن کو بلند بھی کرتی ہے:
کمال کوئی کہاں ہے حقیر بندے میں
اثر جو شعر میں ہے وہ تو معجزاتی ہے
یہ معجزہ دراصل اُن کی اندرونی سچائی کا معجزہ ہے، کسی دعوے یا تصنع کا نہیں۔ اس داخلی روشنی کا عکس اُن کی نعت میں بھی اترتا ہے جہاں شاعر کی دعا نم ہو کر لفظوں پر بیٹھتی ہے:
مری دعا ہے کہ تعبیر جلد مل جائے
مدینہ جانے کا اے دوست خواب جن کا ہے
یہ نعت نہیں، دل کی ایک لرزتی ہوئی سسکی ہے، فن کے آگے جھکا ہوا انسان۔

رشید حسرتؔ کے یہاں غم صرف ذاتی نہیں، ایک تہذیبی ورثہ بھی ہے۔rasheed hasrat ان کا دکھ احتجاج نہیں بنتا، صبر کی تہذیب اختیار کر لیتا ہے۔ ان کے اندر ایک ایسی خاموش آنچ سلگتی ہے جو شعر کو وقار عطا کرتی ہے۔ بیٹی کی وفات پر کہے گئے ان کے اشعار اس درد کے وقار کی بہترین مثال ہیں:
ابتدا بھی خاک اپنی، انتہا بھی خاک ہے
کیا کہوں، انسان کیا ہے؟ بس خس و خاشاک ہے
ایک مدت تک رفو کرتا رہا ہوں زخمِ دل
آج سینہ چاک ہے، اپنا گریباں چاک ہے
یہ وہ صبر ہے جس میں لرزش چھپی رہتی ہے مگر چیخ نہیں نکلتی۔ ایسے اشعار بتاتے ہیں کہ فنکار کا دل کتنا وسیع، کتنا زخمی اور کتنا روشن ہے۔

رشید حسرتؔ کی غزل کا پہلو سب سے دل آویز ہے۔ ان کے ہاں سادگی ہے مگر اس میں حیرانی، محبت ہے مگر اس میں تھکن، طنز ہے مگر اس میں نرمی، سیاست ہے مگر اس میں احتجاج کا شور نہیں، صرف حقیقت کی دھیمی چبھن۔ مثلاً عشق کی شکستگی کو یوں بیان کرتے ہیں:
دل تو پہلو میں کبھی تھا ہی نہیں
تم خریدو گے تو سر بیچنا ہے
یا انسانی تھکن کی نہایت لطیف تصویر دیکھیے:
مجھے گلوں کی لطافت سے اختلاف نہیں
بجھا بجھا سا ہے چہرہ مہک کے پار کہیں
یہ نگاہ ہر شاعر کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ یہ کم گو فنکار کی گہری بصیرت ہے۔
وہ اپنی شہرت گریزی کو بھی ایک کھری سادگی میں بیان کرتے ہیں:
وہ اور کوئی ہوں گے جو شہرت پہ مٹے ہیں
ہم اور ہی ڈھب کے ہیں سو رہتے ہیں پرے ہم
یہی "پرے رہنا” ان کے فن کو زیادہ معتبر بناتا ہے کیونکہ اصل فنکار ہجوم سے نہیں، تنہائی اور سچائی سے جیتا ہے۔

رشید حسرتؔ سیاست کے شہری شاعر نہیں، مگر زمانے کی ناانصافی ان کے دل سے ٹکراتی ہے اور شعر بن جاتی ہے۔ ان کا احتجاج نرم ہے مگر سچا، پرنور ہے مگر چیخ نہیں:
جرمِ یکساں پہ غریبوں کو سزا دے قانون
چھوٹ دیتا ہے امیروں کو یہ ترمیم کے ساتھ
یا طاقت کے ظلم پر ان کا کرب دیکھیے:
سب یزیدوں نے یہاں مل کر کیا ہے فیصلہ
کربلا ترسے گا پھر اک بوند پانی کے لیے
یہ اشعار احتجاج نہیں، زمانے کا زخم ہیں، انسانی ذہن کی تھکن اور انصاف کی بھوک۔

رشید حسرتؔ رومان کے شاعر ضرور ہیں مگر اُن کا رومان جشن نہیں، سفر ہے۔ خوشبو نہیں، خاک ہے۔ وصل نہیں، انتظار کا بوجھ ہے۔
عشق لپٹا ہی سارا خساروں میں ہے
فائدہ کیا ہوا گر خسارے گئے
یا:
تمہارے بعد یہ جیون تھا آگ کا دریا
نہ پوچھ کتنی مشقت سے پار ہم نے کیا
یہ غمِ عشق نہیں، غمِ زیست ہے جس میں محبت بھی شامل ہے اور زندگی کی تھکن بھی۔
ان کا تخیل کبھی کائنات کی وسعتوں میں اڑان بھرتا ہے، کبھی زمین کی دھول میں بیٹھ کر درد شمار کرتا ہے:
ہم بھی وہاں تھے سیر کو، ثاقب شہاب بھی
اُس کو ہٹا کے کہکشاں نے راستہ دیا
یہ صرف خیال نہیں، ایک باطنی پرواز ہے، شاعر کا وجدان۔
انسان اپنی پوری ٹوٹ پھوٹ، تنہائی، زخم اور امید کے ساتھ ان کی شاعری کا مرکز ہے:
ہم سخت مرحلوں سے گزارے گئے ہوئے
اپنے ہی ساتھ جنگ میں مارے گئے ہوئے
یہ انسان دوستی ان کے فن کی اصل روشنی ہے، وہ روشنی جو دکھ میں بھی موجود رہتی ہے۔ یہ کتاب محض غزلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زمانہ ہے، ایک وجود ہے، ایک دل کی مسلسل دھڑکن ہے۔ اس میں امید بھی ہے اور رنج بھی، تھکن بھی اور روشنی بھی، انسانیت بھی اور شعری وقار بھی۔
آخر میں وہ اپنے فن کا نچوڑ یوں بیان کرتے ہیں:
زہر پیالہ پیا مسکراتے ہوئے
اک صفت مشترک مجھ میں، سقراطؔ میں
یہ مسکراہٹ ہی ان کی پہچان ہے۔ درد میں بھی وقار، تکلیف میں بھی روشنی، خاموشی میں بھی اخلاق، اور لفظ میں بھی انسانیت۔

رشید حسرتؔ ہمارے عہد کے اُن شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جن کا فن "پیلی دھوپ” کی طرح نرم بھی ہے، گرم بھی اور دیرپا بھی۔

آئیے، اب اس پیلی دھوپ کی روشنی میں، رشید حسرتؔ کے چند اور اشعار کے لمس میں خود کو بھیگنے دیتے ہیں۔

ارمان کئی سینے میں دفنائے ہوئے ہم
بستی میں تری لوٹ کے پھر آئے ہوئے ہم

تو اگر مجھ سے ہے وابستہ تو اظہار بھی کر
منہ سے مانگی ہوئی، چاہت نہ ہوئی، بھیک ہوئی

پھر سماعت میں پرانی یاد کی پائل بجی
شہ مریدیؔ درد جاگا ایک ہانیؔ کے لیے

بہت دنوں سے یہ چھپ چھپ کے وار کرتا ہے
صفایہ سانپ کا اے آستین کیسے کریں؟

بریدا سر تھے مرے خواب جو ٹھکانے لگے
ابھی سے لوگ بہت انگلیاں اٹھانے لگے

اسی اک شخص کو دیکھے ہوئے مدت ہوئی ہے
ہٹاتا ہی نہ تھا جو سر مرے شانے سے پہلے

جو جتنا اٹھا پائے کوئی ٹوک نہیں ہے
ہوں مالِ غنیمت، کوئی سامان پڑا ہوں

ناؤ احساس کی ڈگمگا سی گئی
اور ہاتھوں سے ندیا کے دھارے گئے

ابھی باقی ہے اس کے دل میں تنگی
اگرچہ گھر کشادہ کر لیا ہے

اتنے عرصے میں مری آہیں رہیں کیوں بے اثر
درد بن کر دوست کے دل میں سمونا چاہیے

یہ پردیس میں تیرے کام تو آئیں گی
سونی آنکھیں، سپنے، بانہیں، لیتا جا

دیا ہے میرا جو ساتھ تم نے، صراحی تم نے
تو کیسے بے اعتنائی دوں گا، جدائی دوں گا

کہا یہ موسیٰؔ سے حق نے کلام کرتے ہوئے
تمہاری ماں نہیں زندہ، سنبھل کے بات کرو

کاش اک روز ہمیں ساتھ بھی دیکھا جاتا
ہم چلے جاتے ہیں پھر اپنے نصیب آتے ہیں

اور تو کچھ بھی محبت سے مجھے کیا لینا
میری وابستگی رہتی ہے فقط میم کے ساتھ

نکال پھینکا جو معمول سے تمہیں ہم نے
اسی طرح سے نکالیں گے زندگی سے بھی

فساد ویسے بھی انسانیت کے حق میں نہیں
ورنہ آج کے ہیں لوگ دیکھے بھالے ہوئے

کیا تھا جس نے بھی دعویٰ، غلط نکل آیا
مگر یہ سچ ہے کہ ہمدرد اپنے چھالے ہوئے

جنوں میں کوئی بھی شئے پاس کب رہی اپنے
رہا گریباں، سو وہ تار تار ہم نے کیا

رواج زخم لگانے کا ہے یہاں رائج
ستم تو یہ ہے کہ قدغن بھی اندمال پہ ہے

مبادہ لوگ اثر گفتگو کا لینے لگیں
وہ نفرتوں کی کرے بات کس محبت سے

مری سرشت میں دھوکہ نہیں ہے، اس کی ہے
ہر ایک شخص ہے مجبور اپنی فطرت سے

جو دور ورہ کے بھی اتنی دعائیں دیتا ہے
قریب ہو گا تو وہ شخص کیا نہیں دے گا

تو اپنی سوچ، مُڑ کے نہیں دیکھ اِس طرف
گھر میرا تیرے بعد جو ویران ہے تو ہے

جب چل پڑے تو راہ کی دشواریوں کا کیا؟
جنگل ہے بیچ، راستہ سُنسان ہے تو ہے

وہ خوف شہر پہ طاری، کہ جسم ڈھانچہ ہیں
لہو کی بوند تلک اب کسی بھی نس میں نہیں

کیا ہے دل سے یہ سودا تو کیسا پچھتاوا؟
زمین لی تو، مگر آسمان دے کے گیا

وہ رخت و ساز میں رکھتا تھا اپنے ہجرت بھی
ہزار طرح کے وہم و گمان دے کے گیا

آپ نے اچھا کیا جو آج اپنایا ہمیں
ورنہ وہ تو بیچ دیتے، سب جواری لوگ تھے

اپنے لہجے پہ کبھی غور کیا ہے تم نے
آگ بھرنے کو بہت ہے یہ کھڑے پانی میں

آرزو سہل مگر اس کا نتیجہ توبہ
مشکلات کتنی چھپی رہتی ہیں آسانی میں

ڈوبنے سے اگر بچا لے گا
بول پیراک دام کیا لے گا

ایسے رفتار کم رکھو گے اگر
پھر لٹیرا تو ہم کو آ لے گا

زمانہ آخری ہے قول کے قربان جاؤں میں
کوئی کم ظرف، اہلِ ظرف کے درجے بناتا ہے

آئیں کہاں سے لہجے میں یہ سرد مہریاں
حائل ہے کیسی بیچ میں دیوار، کچھ کہو

حسرتؔ کھڑے ہیں رنج قطاروں میں چار سو
کب تک رہو گے برسرِ پیکار، کچھ کہو

کیا دور کہ انسان کا فقدان پڑا ہے
دستار اٹھا لائے ہیں، سر ہے تو بتاؤ

ممکن ہے کوئی اس کا نکل آئے تدارک
دل خوف سے بے تاب ہے، ڈر ہے تو بتاؤ

پِنگھوڑے میں جسے دیکھا تھا تُو نے
ترے قد کے برابر ہو گیا ہے

ہم تم مزدوروں کی صف میں ہوتے ہیں شامل
قیدی بن کر رہ جاتے ہیں جاگیروں میں خواب

آیا سندیس وہ ملنے کے لیے آئے گا
سو شکستہ در و دیوار سجانا ہے مجھے

بہت بے ساختہ منظر نظر میں گھوم جاتے ہیں
تمہاری یاد پھر آنکھوں کو دھیرے سے بھگوتی ہے

بقا بلوچ
سیاہ آف
18 نومبر 2025

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دوہزار بیس بھی گزر گیا!
  • بوگس شناختی کارڈ
  • پھوجا حرام دا
  • پیا سا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
رشید حسرت

اگلی پوسٹ
تعلیم، ہنر اور روزگار
پچھلی پوسٹ
یاد کے دریچے

متعلقہ پوسٹس

سٹیٹ بینک : شرحِ سود

اکتوبر 29, 2025

وہ جنت جو ظلم کے سائے میں دب گئی

اکتوبر 31, 2025

غلطی بانجھ نہیں ہوتی

دسمبر 20, 2019

زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ

نومبر 23, 2019

عشق باز ٹڈہ

دسمبر 15, 2019

ویرا

جنوری 3, 2020

طوفان کے بیچ سفرِ شجاعت

نومبر 27, 2024

تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی بلندی پر

نومبر 11, 2025

آبادی کی دوڑ، شعور کا جنازہ

اگست 15, 2025

یاد کا وہ لمحہ

مئی 27, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جنریشن گیپ

مئی 21, 2020

جلوس

جون 14, 2020

دنیا کا سب سے انمول رتن

مارچ 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں