خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباصحافت اور خبر
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

صحافت اور خبر

از سائیٹ ایڈمن نومبر 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 6, 2025 0 تبصرے 42 مناظر
43

پاکستان کے موقر ترین، موثر ترین ، تیز ترین اور جدید ترین اخبار ” امروزِ فردا” میں آج لگی شہ سرخی ” آگئے۔ آگئے ۔ آگئے۔مدار المہام پلٹ کر واپس گھر کو آگئے” پر جب نظر پڑی تو دل نے بے اختیار چاہا کہ اس اہم خبر کے باقی مندرجات کو بھی غور سے پڑھا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ اس خبر کا ہمارے ہاں چھائے سیاسی جمود پر کیا اثر پڑے گا۔جب پوری خبر تفصیل سے پڑھی جو کہ اخبار کے پورے ایک صفحے پر محیط تھی تو اُس کے بعد علم ہوا ” امروزِ فردا کے مدار المہام اور پاکستان میں توانا صحافت کی تگڑی آواز جناب سیٹھ کاردراز صاحب ایبٹ آباد، گلیات اور حویلیاں کے صحت افزاء مقامات کی سیر کرنے اور ایک ہفتہ وہاں قیام فرمانے کے بعد واپس اپنے گھر کو لوٹ آئے ہیں "۔ اس کے بعد اخبار کا اداریہ پڑھا جس کے مطابق چونکہ سیٹھ صاحب ایک عرصے سے ملک کے دگر گوں حالات اور عوام کی حالتِ زار سے کبیدہ خاطر ہونے کی وجہ سے پریشان ہوکر خلوت نشینی کی زندگی گزار رہے تھے ، اُن کیلئے یہ دورہ نہ صرف طبی لحاظ سے ضروری تھا بلکہ خیبر پختونخواہ کے یہ علاقے بھی آپ کے وجودِ مسعود کی برکات سمیٹنے کیلئے صدیوں سے راہ دیکھ رہے تھے۔ آپ نے اس مختصر مگر انتہائی اہم دورے میں حویلیاں کے مرغ چنے ، گلیات کے انڈے اور ایبٹ آباد کی الیاسی مسجد کے پکوڑوں کا لطف اٹھانے کے علاوہ دیگر مشہور کھابوں سے بھی ذوقِ طعام کی حس جو عرصے سے پژمردگی کا شکار ہوکر سو رہی تھی اُسے جگایا تاکہ اُسے علم ہو کہ ” ذرا نم ہو تو بڑی زرخیز ہے یہ مٹی ساقی”۔ اداریہ لکھنے والے صحافی جناب منا شرارتی کے مطابق اس دورے کے دوران جو ملکی سیاست اور عوام کی ترجیحات کا تعین کرنے کے واسطے کیا گیا تھا اُس کے عالمی سیاست پر دوووووووور رس اثرات مرتب ہونگے اور فلسطین کو اسرائیل کی مخالفت سے باز آنا پڑے گا۔ سیٹھ صاحب نے اس کے علاوہ یہ دورہ کرکے اسلام آباد ، لاہور، سیالکوٹ، گجرانوالہ ، فیصل آباد اور کراچی کی تاجر برادری کے اس احساسِ محرومی کو ختم کیا جن کے مطابق پاکستان میں سیاحت کا مستقبل مخدوش ہے اور کوئی بھی اس المیے کا نوحہ لکھنے کو تیار نہیں۔آپ کا یہ دورہ جو عالمِ اسلام کے دل کی آواز تھا اس نے کفر کو ایوانوں میں لرزہ برپا کردیا ہے اور جی ایٹ کے سربراہان نے ہنگامی اجلاس بلا نے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایک قوت بن کر اس عفریت کا مقابلہ کر سکیں۔خبر کے مطابق سیٹھ صاحب نے جن دیہات اور دور افتادہ مقامات کا دورہ کیا وہاں آپ نے ہر بیٹھک ہر کھوکھے ہر ڈھابے اور ہر حجرے پر کشمیر اور صرف کشمیر کے مسائل کا ذکر کیا اور عوام کو بتایا کہ گو کشمیر کا بھی حسن اپنی جگہ معنی خیز ہے مگر یہ علاقے دیکھ کر تو کشمیر کا حسن بھی منہ شرمائے اور دل لگانے کو یہاں آئے۔الغرض ادرایے کو پورا چاٹنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ اگر سیٹھ صاحب یہ دورہ نہ کرتے تو عالمِ کفر نہ تو اپنی ریشہ دوانیوں سے باز آتا اور نہ ہی عالمِ اسلام کے مجبور و مقہور اور آفت رسیدہ مسلمانوں کی ڈھارس بندھتی جو ایک مرتبہ پھر کسی صلاح ادین ایوبی کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ آپ نے یہ دورہ کرکے گویا واشنگٹن سے لیکر تل ابیب تک مسلمانوں کی یہ آواز پہنچا دی ہے کہ ” اِب کہ مار ” جس کے بعد نیو یارک سٹاک ایکسچینج کریش اور امریکی صدر طیش میں آکر اپنے ہی منہ پر چماٹ مار رہے ہیں۔
اس اداریے کے بعد اخبار کے صفحہ نمبر دوئم پر نظر دوڑائی تو صفحہ دوئم ، سوئم اور چہارم ملک بھر کی مقتدر شخصیات ، اداروں اور کمپنیوں کی طرف سے دیے گئے پیغاماتِ تہنیت سے بھرا پڑا تھا اور ہر کوئی فرہنگِ آصفیہ کے مشکل ترین الفاظ کا سہارا لیکر آپ کی خدمت میں قصیدے پیش کر رہا تھا۔ان قصائد میں سے کچھ قصیدوں کے مطابق آپ کی ذات ،”مرجع خلائق ، ظلم کے ضابطے ختم کرنے کی توانا ترین آواز، چراغ ِسحری، شکستہ دلوں کا سہارا ” وغیرہ وغیرہ ہے جو اگر یہ دورہ نہ کرتے تو شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم باب نامکمل رہ جاتا۔
اس شہ سرخی اور اداریے کو جسے جناب منا شرارتی صاحب نے لکھا اور اخبار ” امروزِ فردا” میں شائع ہوا اسے پڑھ کر میرا دل نہ صرف سیٹھ صاحب کے متعلق دل ہی دل میں بہت رویا بلکہ ذہن میں موجود اس غلط فہمی کا بھی خاتمہ ہوگیا کہ اب اس مٹی نے شاید نگینے جنم دینا بند کر دیے ہیں اور مکمل بانجھ ہوچکی ہے۔روزنامہ ” امروزِ فردا” دراصل سیٹھ صاحب کے عالی شان دماغ کی ہی عالی شان کارستانی تھی جو ملک میں صحافت کے زوال پر شدید تحفظات کا شکار تھے اور ہر محفل میں یہی بات کرتے نظر آتے تھے کہ ” صحافت اب خدمت کا نام نہیں رہا”۔ لیکن آپ نے پھر اس میدان میں قدم رکھا اور خدمت کے جذبے کے تحت اس اخبار کو لیکر چل رہے ہیں جو پہلے آٹھ صفحات پر مشتمل ہوتا تھا جسے ” عوامی مفاد” کی روشنی میں اور ” اشتہارات ” نہ ملنے کی وجہ سے چار صفحات پر محدود کردیا گیا ہے ۔اس اخبار میں پہلےصفحے پر جناب سیٹھ صاحب کے گزشتہ دن کے احوال شہ سرخی بن کر افق کی سرخی کو سرخی فراہم کرتے ہیں اور صفحہ دوئم پر ” کارِ دراز کی دراز ڈائری سے” کے عنوان سے اداریہ چھپتا ہےجس میں آپ کے پوشیدہ محاسن پر چالیس ہزار ووٹ کے بلب سے روشنی ڈال کر انہیں اجاگر کیا جاتا ہے ۔ صفحہ سوئم پر” آشنا کے ساتھ فرار، تلاشِ رشتہ، مجھے شوہر کہاں سے ملا، حسینہ کی حسین واردات، کولمبس اور افلاطون کے ایڈونچرز اور حکیم جان نثار کے طبی مشورے” جیسی اہم خبریں شامل ہوتی ہیں۔

صفحہ چہارم عوامی صفحہ ہے جس پر آپ پیسے دیجیے اور جو مرضی چھپوایئے والا کام کرسکتے ہیں اور یہی صفحہ دراصل اس اخبار کی جان ہے۔ آپ کو سوموار والے دن ” کونسلر حاجی خدمت خان نے محلہ بانڈی پورہ میں زلفی ہئیر ڈریسر شاپ کا افتتاح کرکے وہیں بیٹھے بیٹھے حجامت بھی بنوائی” جیسی انٹرنیشنل نیوز پڑھیں گے تو منگلوار آپ کو ” بانڈی پورہ کی ایکشن کمیٹی نے زلفی ہیئر ڈریسر شاپ کو مخرب اخلاق مجرے چلانے اور آوارہ گرد لڑکوں کی آماجگاہ بننے پر سیل کردیا” جیسی ایمان افروز داستان پڑھنے کو ملے گی جس کے بعد آپ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوجائیں گے کہ درست خبر کون سی تھی ۔اگرچہ کچھ سنجیدہ حلقوں نے کئی بار سیٹھ صاحب سے اس گورکھ دھندے کی وجہ جاننے کی کوشش کی مگر آپ سیٹھ صاحب ہر بار یہ کہہ کر جل دے دیتے ہیں ،” صاحبو! صحافت خدمت کا نام ہے اور میں خدمت کر رہا ہوں۔ اگر آپ کو تکلیف ہے تو ڈاکٹر کو بتائیے تاکہ آپ کا علاج ہوسکے”۔

واجد علی گوہر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • محمودہ
  • ہماری زندگی کا ایک ہی
  • گردش کے انتخاب کی حالت میں مرگیا
  • کامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 3)
پچھلی پوسٹ
انٹرنیٹ کے دور میں کالم نگاری کی جہتیں

متعلقہ پوسٹس

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ

مئی 27, 2024

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025

فوج پر تنقید : پاکستان کے لیے خطرہ

ستمبر 16, 2025

دلیل پختہ نہ تھی

اگست 10, 2024

ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں

اکتوبر 18, 2025

کیا عورت سائیکو ہے؟

اپریل 28, 2026

فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا

جون 10, 2024

گری ہے برق دل کے آشیاں پر

اکتوبر 16, 2025

اللہ پاک بہت رحیم ھے

اگست 1, 2025

ہم تو سجدے بھی کیا کرتے تھے

اکتوبر 30, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مالکن

فروری 15, 2022

بھلا پروانوں کا بھی کوئی وارث...

مئی 23, 2023

سوا سیر گینھو

دسمبر 10, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں