298
ملاح ڈر نہ جائیں روانی کو دیکھ کر
میں کشتیاں بناؤں گا پانی کو دیکھ کر
چہرہ فروش لوگ بھی مٹی کے ہو گئے
اوقات بھولتے ہیں جوانی کو دیکھ کر
سوکھے پڑے گلاب کے پھولوں کی اک لڑی
وہ یاد آ گئے ہیں نشانی کو دیکھ کر
لہجہ بگاڑ کر جہاں آواز دی گئی
کردار کپکپائے کہانی کو دیکھ کر
تصویر اس کے ساتھ احامر کی دیکھ کے
جلتے ہیں دوست یاد پرانی کو دیکھ کر
رانا عثمان احامر
