114
ہمیں ہی وہم تھا جس کو یقیں سمجھتے تھے
سفر میں ہو کے بھی خود کو مکیں سمجھتے تھے
انا کا روگ ہی ایسا ہے تیرا دوش نہیں
کسی کو ہم بھی کبھی کچھ نہیں سمجھتے تھے
جہاں پہ ہوتے ہیں ہم اب وہیں پہ ہوتے ہیں
کبھی کہیں پہ تھے ہم اور کہیں سمجھتے تھے
سنا ہے اب انہیں پانی بھی مانتا نہیں کوٸی
ترے وہ اشک جنہیں ہم نگیں سمجھتے تھے
عجیب دن تھے وہ جب اس کے ساتھ چلتے ہوۓ
ہم آسماں کو بھی صاٸم زمیں سمجھتے تھے
افضل شریف صائم
