101
جہاز اک دن سمے کے دوسرے ساحل سے پہنچیں گے
ہمارے حال تک کچھ لوگ مستقبل سے پہنچیں گے
زمیں والو رصد گاہ زماں سے دیکھتے رہنا
ہمارے عکس نوری سال کے جھلمل سے پہنچیں گے
میں خود تو ہو چکا ہوں کائناتی دھول کا حصہ
مرے ذرات تم تک گرد لا حاصل سے پہنچیں گے
ہمیں دیکھو کہ کتنا سہل پہنچے نارسائی تک
غلط تم نے کہا تھا ہم یہاں مشکل سے پہنچیں گے
غزل دل کے گرامو فون پر بجتی ہوئی دھن ہے
جہاں پہنچے گی دھن ہم بھی وہاں تک دل سے پہنچیں گے
زمانوں پار جا نکلیں گے آنکھیں موند کر شاہدؔ
مقامات خبر تک خواب کی منزل سے پہنچیں گے
شاہد ماکلی
