خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراظہر عباس – شعری دشت کا تنہا مسافر
اردو تحاریراظہر عباس خانتحقیق و تنقیدڈاکٹر دانش عزیزمقالات و مضامین

اظہر عباس – شعری دشت کا تنہا مسافر

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2025 0 تبصرے 48 مناظر
49

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم

"اظہر عباس خان شعری دشت کا تنہا مسافر”

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے نعتی اشعار میں مدینہ منوّرہ کی خوشبو، حضورِ اکرم ﷺ سے عقیدت اور روحانی سرشاری کا ایک گہرا اور مؤثر جذبہ نمایاں ہے۔ شاعر نے نعت کے دائرے میں ایک ایسا وجدانی تجربہ پیش کیا ہے جو محض عقیدت نہیں بلکہ عرفانی شعور کی جھلک ہے:

پِھر آئی نَکیرَین کو خُوشبُوئے مَدِینہ
اُترا جو لَحد میں دِلِ یَکسُوئے مَدِینہ

یہ شعر قبر اور مدینہ کے بیچ ایک ماورائی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں ایمان کی وہ لطافت بولتی ہے جو مومن کے دل سے نکل کر عالمِ برزخ تک پھیل جاتی ہے۔ شاعر کا اندازِ بیان متانت اور تخیّل دونوں سے آراستہ ہے۔ اسی نعت میں وہ عقیدت کے انتہائی درجے کو یوں بیان کرتے ہیں:

بِن مانگے عَطا، دُنیا بھی جَنّت بھی خُدا بھی
کافِی ہے مُجھے اِک یَہی خُوئے مَدِینہ

یہاں شاعر کا عرفانی شعور واضح ہے۔ نعت اب صرف مدح نہیں بلکہ محبت اور فنا کا تجربہ بن جاتی ہے، جہاں مدینہ کا ذکر خود قربِ الٰہی کا مترادف ہے۔

اظہر عباس کی فکری جہت کا دوسرا رخ ان کے سلامیہ کلام میں نظر آتا ہے، جہاں کربلا کی ریت، حُرؓ کی توبہ، اصغرؓ کی شہادت اور زینبؓؓ کا صبر ایک ساتھ بولتے ہیں۔ شاعر کے الفاظ خواب اور حقیقت کی درمیانی لکیر مٹا دیتے ہیں:

خُود کو کَربَل میں دیکھا تھا پَہُنچا ہُوَا،
حُر نے مُجھ سے کہا: مَرحَبَا مَرحَبَا

تِیر لَگنے کو تھا، آنکھ ہی کھُل گئی،
خَواب کی تُو مِرے واٹ ہی لَگ گئی

یہ شعر وجدانی کیفیت کا مظہر ہے، جہاں عاشورہ کا منظر شاعر کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی سلام میں ایک فکری طنز اور روحانی سوال بھی جھلکتا ہے:

قَتلِ اَصغَرؓ پہ کوئی نَدامَت نہیں
پَر نَمازوں میں پَڑھتے ہیں صَلِّ عَلَیٰ

یہاں اظہر عباس امتِ مسلمہ کے تضاد پر نگاہ ڈالتا ہے۔ عقیدت اور غفلت کے اس امتزاج کو وہ علامتی انداز میں عیاں کرتا ہے۔
اظہر عباس خان کی غزل گوئی ان کے فنی شعور کی سب سے پختہ مثال ہے۔ ان کی غزلوں میں تغزّل، محاوراتی صفائی، صوتی آہنگ اور معنوی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کے اشعار عشق، عقل اور عرفان کے بیچ ایک لطیف توازن قائم کرتے ہیں:

کسی کے آنے کے کامِل یَقِیں پہ چلتا ہے
یہ دِل ابھی بھی مُحَبَّت کے دِیں پہ چلتا ہے

یہاں ’’یقین‘‘ اور ’’محبت‘‘ کے مابین تعلق کا بیانیہ صوفیانہ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اسی غزل میں شاعر عقل و خرد کے تکبّر کو یوں چیلنج کرتا ہے:

مَجال ہے جو کبھی آئے اَہلِ دِل کی طرف
خِرَد کا زور ہمیشہ ذِہیں پہ چلتا ہے

یہ شعر ایک فکری مزاحمت ہے جو جدید انسان کے روحانی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ غزل کا لہجہ سنجیدہ، مگر بیان سادہ اور پراثر ہے۔
اظہر عباس کی زبان میں ایک خاص شستگی اور مٹھاس ہے۔ وہ نہ غیرضروری لفاظی میں الجھتے ہیں نہ سطحی سادگی میں پناہ لیتے ہیں۔ ان کے مصرعے فصاحت اور بلاغت کے حسین امتزاج ہیں۔ روزمرہ کے لفظ بھی ان کے ہاں علامت بن جاتے ہیں۔

اظہر عباس کے عرفانی شعور کا نقطۂ عروج ان کی مشہور غزل ’’دیارِ عشق سے آئی نداءِ کن فیکون‘‘ میں نظر آتا ہے، جہاں تخلیقِ کائنات کو عشق کی قوت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

دِیارِ عِشق سے آئی نِداءِ کُن فَیَکُون
سو خُود کو پیش کیا ہے بَرائے کُن فَیَکُون

یہاں شاعر اپنے آپ کو تخلیقی نظام کا جزو سمجھتا ہے۔ اس غزل میں فلسفیانہ عمق کے ساتھ وجدانی کیفیت بھی موجود ہے۔ وہ ایک اور مقام پر کہتا ہے:

جہان کچھ بھی نہیں ہے سِوائے کُن فَیَکُون

اور پھر ایک فلسفیانہ سوال اٹھاتا ہے:

مُجھے بَتا مِرے عادِل کہ مَیں تو تھا ہی نہیں
تو پِھر مَیں کس لیے بَھگتوں سَزائے کُن فَیَکُون؟

یہ اشعار وجود، تقدیر اور خودی کے پیچیدہ رشتے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ سوالات نہ صرف فکری ہیں بلکہ ایک روحانی جستجو کا حصہ بھی ہیں۔

اظہر عباس خان کے یہاں کلاسیکی روایت کی جڑیں گہری ہیں۔ ان کے ہاں میر و غالب کی دردمندی، اقبال کی خودی، اور جگر مرادآبادی کی نرمی کے اثرات نظر آتے ہیں، مگر وہ تقلید نہیں کرتے۔ وہ روایت سے روشنی لے کر اپنی تخلیقی راہ تراشتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مصرعے آج کے قاری کے احساس سے ہم آہنگ معلوم ہوتے ہیں:

کہاں گُلاب، کہاں پر مِرے گُلال کے رُخ

یہ مصرعہ صرف رنگ کی بات نہیں کرتا بلکہ تخلیق اور تجربے کی حد بندیوں کو توڑ دیتا ہے۔ ان کی زبان میں زمان و مکان کی قید نہیں، بلکہ جذبے کی روانی ہے۔

شاعر کے مزاج میں متانت، تفکّر اور روحانی وقار نمایاں ہے۔ ان کے ہاں جذبے کی شدت کے باوجود اظہار کا ضبط قائم رہتا ہے۔ عشق کے تجربے کو وہ عقل کے تابع نہیں کرتے بلکہ دونوں کے درمیان ایک فنی توازن پیدا کرتے ہیں۔ جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں:

لِٹا کے اَپنی اَناؤں کو پائمال کے رُخ
جَبینِ وَصل گھُمائی تِرے خَیال کے رُخ

یہاں ’’اناؤں‘‘ کا ذکر محض نفسیاتی علامت نہیں بلکہ عرفانی صداقت کا استعارہ ہے۔ شاعر فنا اور بقا کے اس تصادم کو داخلی سکون میں بدل دیتا ہے۔

اظہر عباس خان کی شاعری روایت اور جدیدیت کے سنگم پر کھڑی ہے۔ ان کے کلام میں عقیدت بھی ہے، احتجاج بھی؛ وجد بھی ہے، شعور بھی۔ مدینہ سے کربلا تک، عشق سے عقل تک، یقین سے سوال تک — یہ سارا سفر ان کی شاعری میں نہایت نفاست سے طے ہوتا ہے۔ وہ اُن شعرا میں سے ہیں جو لفظ کے پردے میں جذبے کی حرارت، خیال کے بطن میں ایمان کی روشنی، اور شعر کے آہنگ میں دل کی دھڑکن چھپا دیتے ہیں۔
ان کے اشعار صرف پڑھے نہیں جاتے، محسوس کیے جاتے ہیں۔
ان میں سوز بھی ہے، سکون بھی؛سچائی بھی ہے، لطافت بھی۔
اظہر عباس خان کی شاعری اردو ادب کے اس تسلسل کی تازہ قندیل ہے جو میر سے غالب، غالب سے اقبال، اور اقبال سے آج تک دلوں کے آبگینوں میں سلسلہ در سلسلہ روشن چلی آرہی ہے

ڈاکٹر دانش عزیز

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
  • رمضان المبارک کا مہینہ
  • جال
  • بہارِ ارضِ فلپائن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عدو کی صف میں وہ کس
پچھلی پوسٹ
تنہائی

متعلقہ پوسٹس

عقل و عقیدہ کے ’’مابین‘‘

جولائی 5, 2024

تانتیا

جنوری 8, 2022

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

آخری آدمی

جنوری 22, 2020

گورمکھ سنگھ کی وصیت

جنوری 18, 2020

علامہ اقبال پر ایک اردو مضمون

دسمبر 15, 2016

تضادات کی درمیانی کیفیت

جون 13, 2025

میرا بچہ

مارچ 22, 2020

ایک خطرناک بیماری

جنوری 16, 2022

کس کی نظر لگی آشیانے کومیرے

جون 19, 2018

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زکوٰۃ

جنوری 2, 2020

مرتبان

دسمبر 23, 2021

ڈیجیٹل دہشتگردی

جنوری 4, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں