105
نہ زمیں پر نہ آسمان میں ہے
اک پرندہ کہ جو اڑان میں ہے
میں کہ اس سے جدا نہیں ہوں گا
وہ ابھی تک اسی گمان میں ہے
تیری چاہت کا ہے اثر مجھ میں
جان اب تک جو میری جان میں ہے
چارہ گر خود کو وہ سمجھتا ہے
زہر اس شخص کی زبان میں ہے
اور کیا اس میں ہے مرے ہمدم
راکھ ہی راکھ خاک دان میں ہے
جو حقائق کی بات کرتا تھا
آج وہ بھی کسی گمان میں ہے
ہے تعاقب میں جو نسیم ترے
تیر ایسا کسی کمان میں ہے۔
نسیم شاہانہ
