خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابارش – رحمت یا زحمت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمحمد یوسف برکاتی

بارش – رحمت یا زحمت

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 17, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 17, 2025 0 تبصرے 106 مناظر
107

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آج کل یعنی جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں پورے ملک میں مون سون بارشوں کا سلسلہ اپنی مخصوص آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے اور شاید جناب احمد فراز نے یہ شعر ہم جیسے لوگوں کے لیئے ہی لکھا تھا کیونکہ ہم جس ملک کے باسی ہیں وہاں یہ بارش رحمت نہیں زحمت بن جاتی ہے اور بارش کے اس سسٹم نے ہمارے ملک کے کئی علاقوں کو سیلاب کے تباہ حال علاقوں میں تبدیل کردیا ہے تو کئی گھروں کے گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں تو کہیں پورے کے پورے شہر اور ان کی سڑکیں تالاب ندی اور دریا کی شکل اختیار کر چکی ہیں یعنی اس وقت ہر طرف نقصان ہی نقصان ہے جانی بھی مالی بھی لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ ہر سال ہوتا آیا ہے اور ہر سال ہی اتنی ہی تباہی ہوتی ہے گھروں کے گھر ختم ہوجاتے ہیں کئی لوگ لاپتہ ہوجاتے ہیں تو کئی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ بارش رحمت ہے یا زحمت ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے زرا تصویر کا دوسرا رخ بھی تو دیکھ لیں کہ یہ جو بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے والے لوگ ہیں اس موسم میں ان کے حالات کیا بتاتے ہیں وہ لوگ جو ایسے موسم میں اپنے بنگلے کے خوبصورت باغیچہ میں بارش کا لطف اٹھانے میں مصروف ہوتے ہیں گرم گرم سموسے اور پکوڑے ان کے ٹیبل کی زینت ہوتی ہے ہاتھ میں گرم گرم چائے کے کپ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ٹی شرٹ اور شارٹس پہن کر بارش میں نہاتے ہوئے لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بارش تو بڑی اچھی چیز ہے اور یہ رب العزت کی بڑی رحمت ہے مگر وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ بات اگر اچھی اور نیک بھی ہو لیکن انداز تکبرانہ ہو تو مقصد وہ نہیں رہتا جو ہوتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس بات میں نہ تو کوئی شک ہے اور نہ ہی کوئی دو رائے کہ بارش واقعی اللہ تعالیٰ کی ہم پر بڑی رحمت ہے لیکن بارش کا آنا شرعی اعتبار سے بھی رحمت کے ساتھ ساتھ عذاب کی وعید بھی مانی جاتی ہے جیسے صحیح البخاری کی ایک حدیث ہے جسے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابر کا کوئی ایسا ٹکڑا دیکھتے جس سے بارش کی امید ہوتی تو آپ کبھی آگے آتے، کبھی پیچھے جاتے، کبھی گھر کے اندر تشریف لاتے، کبھی باہر آ جاتے اور چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا۔ لیکن جب بارش ہونے لگتی تو پھر یہ کیفیت باقی نہ رہتی۔ ایک مرتبہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق آپ سے پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نہیں جانتا ممکن ہے یہ بادل بھی ویسا ہی ہو جس کے بارے میں قوم عاد نے کہا تھا، جب انہوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تھا۔ آخر آیت تک (کہ ان کے لیے رحمت کا بادل آیا ہے، حالانکہ وہ عذاب کا بادل تھا)۔
( صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3206 )

اس حدیث کی تفسیر کچھ یوں ہے کہ باری تعالیٰ نے قوم عاد پر قحط کا عذاب نازل کیا انہوں نے اپنے کچھ لوگوں کو مکہ شریف بھیجا کہ وہاں جاکر بارش کی دعا کریں مگر وہاں وہ لوگ عیش و عشرت میں پڑ کر دعا کرنا بھول گئے وہاں جب قوم کی بستیوں پر بادل چھائے تو قوم نے سمجھا کہ یہ ہمارے ان آدمیوں کی دعاؤں کا اثر ہے مگر اس بادل نے عذاب کی شکل اختیار کرکے اس قوم کو تباہ کردیا۔اس واقعہ کا ذکر اور اس کی تفصیل قرآن مجید کی کئی سورتوں میں موجود ہے اسے ضرور پڑھیئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس حدیث اور اس کی تفسیر سے یہ معلوم ہوا کہ جب بھی بارش ہونے کے آثار نظر آئیں تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ یا اللہ اگر تونے بارش کو برسانے کا اہتمام کر ہی لیا ہے تو اس بارش کو ہمارے لیئے رحمت بنا کر بھیجنا اور عذاب بنا کر نہیں بھیجنا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بارش ہمای زندگی کے لیئے بہت اہم ہیں اور اس سے ہماری ضروریات کے کتنے معاملات حل ہوتے ہیں اسی بارش کی بدولت ہمیں پھل اور اناج بھی حاصل ہوتے ہیں اسی بارش کی بدولت ہمارے ڈیموں میں یہ پانی ذخیرہ ہوتا ہے اور ہمیں اپنے استعمال کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی کئی سورتوں میں بارش کو باران رحمت قرار دیا ہے قرآن مجید کی سورہ اعراف کی آیت 57 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِؕ-كَذٰلِكَ نُخْرِ جُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(57)
ترجمہ کنزالایمان:
اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی یہاں تک کہ جب اٹھالائیں بھاری بادل ہم نے اُسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا پھر اس سے پانی اُتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے کہیں تم نصیحت مانو۔
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ اپنے ان نافرمان بندوں سے مخاطب ہے جو روز محشر پر یقین نہیں رکھتے کہ جس طرح میں بارش کے برسانے سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں بھیجتا ہوں جو بارش کے برسانے کی خبر تمہیں دیتی ہیں پھر بھاری بھاری بادل پانی لیئے شہروں کی طرف آتے ہیں اور برستے ہیں پھر اس پانی سے ہم طرح طرح کے پھل اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تمہارے لیئے نعمت ہیں بالکل اسی طرح بروز محشر ہم قبروں سے مردوں کو دوبارہ نکال کر انہیں زندہ کریں گے کہ یہ میری قدرت کی نشانی ہے کہ تم جان سکو اور میری باتیں مان لو اور یہ میری نصیحت ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جس ملک کے رہائشی ہیں اس ملک بنے ہوئے یعنی آزاد ہوئے کم و بیش 78 سال ہوگئے لیکن آج بھی بارش ہمارے لیئے رحمت ہونے کی بجائے زحمت بنی ہوئی ہے ہر سال ملک کے کونے کونے میں بارش کے موسم میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے گھروں کے گھر تباہ ہوجاتے ہیں کئی کئی لوگ اپنے گھروالوں سے بچھڑ جاتے ہیں اور کئی کئی لوگوں پتہ تک نہیں ہوتا اب سوال یہ ہے کہ یہ بارش ہمارے لیئے عذاب کیوں بن جاتی ہے تو اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ یہ ہمارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے ورنہ بارش تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت سمجھی جاتی ہے اس کے نہ برسنے کی وجہ سے دعائیں مانگی جاتی ہیں نوافلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ آج نہیں بلکہ حضور ﷺ کے دور سے ہوتا آیا ہے کیونکہ بارش کی وجہ سے ہی ہم پھل فروٹ اور سبزی کا استعمال کرتے ہیں اور یہ بارش کا پانی ہی ہمارے پورے سال کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے تو پھر اللہ رب العزت کی اتنی بڑی نعمت ہمارے لیئے زحمت کیسے بن جاتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ہمارے ملک کا کوئی بھی صوبہ ہو چاہے وہ پنجاب ہو یا بلوچستان چاہے وہ خیبرپختونخوا کا صوبہ ہو یا صوبہ سندھ ہر صوبہ کے دیہی علاقے ہمیشہ سیلاب کی نظر ہوجاتے ہیں اور شہری علاقوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کئی کئی دنوں تک کھڑا رہتا ہے یہ سب حکومت کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی کے سبب ہوتا آیا ہے لیکن ان ناکارہ اور نااہل لوگوں کو حکومتی منصبوں پر بٹھانے والے بھی تو ہم ہی ہیں لہذہ قصور وار تو ہم بھی ہوئے نہ بلکہ قصوروار ہم ہی ہیں لہذہ ہم نے اور ہماری نسلوں نے اگر اس ملک میں رہنا ہے تو ان مسائل کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا اور جو استطاعت رکھتے ہیں وہ یہ ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اپنے اور اپنے بچوں کے محفوظ مسقبل کی خاطر لیکن ایک متوسط طبقہ اور ایک غریب انسان جو پاکستان کے آزاد ہونے سے لیکر اب تک اپنے آباؤاجداد سے آج کی نسل تک یہیں آباد ہیں وہ کہاں جاسکتے ہیں ان کا جینا مرنا تو یہیں ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہم اتنے خوش نصیب لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بیشمار گناہوں کے باوجود ہم پر اپنی نعمتوں کا نزول جاری رکھے ہوئے ہے بالکل اسی طرح بارش بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہمیں رب العزت کا اس بات پر شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ یہ بارش ہمیں صرف ایک مخصوص وقت یعنی اپنے موسم کے حساب سے عطا کرتا ورنہ ہمارے یہاں جو حالات بارش کے بعد ہوتے ہیں تو اگر رب العزت اس کا سلسلہ یا اس کی مدت بڑھا کر مون سون کو زیادہ اسپیل میں تبدیل کردے تو ہمارا کیا حال ہوگا اور وہ ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے لیکن وہ صرف ہمیں جھلک دکھاتا ہے عذاب کی ایک معمولی جھلک ہمیں سمجھانے کے لیئے ہمیں ہوشیار کرنے کے لیئے ایک بھرپور رحمت کو ہمارے لیئے بڑا عذاب بناکر تاکہ ہم سنبھل جائیں اور اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور اگر آپ دنیا کی طرف نظر دوڑائیں تو دیکھیں کہ دنیا کے کتنے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا طاقتور ممالک جب پانی کا برساتی پانی طوفان کی شکل اختیار کر جاتا ہے تو کیا حال ہوتا ہے اور کتنی تباہی ہو جاتی ہے ان کی ترقی ان کی جدید سائنس اور ان کی طاقت کسی کام نہیں آتی ان کا اس طوفان کو روکنے اور نقصان کو روکنے کا کوئی طریقہ کام نہیں آتا کیونکہ اس کرہ ارض کی تمام تر طاقت کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اس کے خلاف چلے گا تو وہ رب العالمین اس کو تباہ و برباد کردیتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میں یہاں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت یعنی بارش کو زحمت نہ بننے دینے میں ہم کوئی کردار ادا کریں لیکن بجائے سرکاری امداد کی پہنچ اور انتظار کے اگر ہم اپنی مدد آپ کے تحت جب موسم کے عام حالات ہوں یعنی بارش کا موسم نہ ہو تو بارش کے متوقع موسم کی آمد سے پہلے کچھ ایسا بندوبست کرلیں کہ ہمیں بارش میں کوئی مشکل نہ ہو اور کسی بڑی تباہی سے ہم کسی حد تک بچ سکیں تاکہ یہ بارش زحمت کی بجائے واقعی ہمارے لیئے رحمت بن جائے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے 2050 تک یا ساٹھ تک پاکستان کا نام دنیا کے نقشے سے مٹا جائے گا جبکہ ہر سال ہونے والے بارش کے بعد سیلابی صورتحال کو اگر ٹھیک نہ کیا گیا تو ہوسکتا ہے کہ چند ہی سالوں میں یہ ملک رہنے کا قابل بھی نہ رہے ( میرے منہ میں خاک ) لیکن آج کی نوجوان نسل کے وہ لوگ جنہیں اپنے ملک اور اپنے شہر سے اپنے گائوں اور اپنے دیہات سے دلی محبت ہے تو اٹھنا ہوگا اپنی نئی نسل اور آنے والی اور نئی نسل کے مستقبل کے لیئے اور کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ ماہرین کا اندازہ غلط ثابت ہو جائے اور یہ ملک جو اسلام کے نام سے بنا ہے وہ اسی طرح پھلتا پھولتا رہے آباد رہے شاد رہے انشاء اللہ ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک بات اچھی طرح سے ذہن نشین کرلیں کہ بارش ہمارے لیئے ہمیشہ سے رحمت رہی ہے اور رہے گی آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیاوی اور آسمانی پریشانیوں سے محفوظ رکھے اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھتے ہوئے اسے ترقی و خوشحالی عطا فرمائے مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چٹان کی دہلیز
  • کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے
  • فقیر
  • جدید اُردو مرثیہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پروفیسر رشید حسن خان
پچھلی پوسٹ
مسابقت کے امتحانات اور انگریزی

متعلقہ پوسٹس

مجھ کو ہی نہیں اسکو بھی

نومبر 8, 2025

دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا

اکتوبر 12, 2025

بس کی کھڑکی سے

جنوری 3, 2022

ٹھاکر دوارہ

فروری 24, 2022

باہر کا دروازہ بھی ہم درد نہیں

مارچ 11, 2022

مخبر

مئی 10, 2023

یوں وقت ہم سے گزارا نہیں گیا

جنوری 15, 2017

آوازوں کی بازگشت

جنوری 5, 2022

پھر ترا ذکرِ چلے

نومبر 7, 2021

زبردستی کی شادی

اپریل 1, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زخم

جنوری 24, 2020

ہر ایک بات میں تیرا

جولائی 6, 2025

بستر ہے ناتواں سا جوتا ہے...

جون 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں