خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباڈیم ہے یہ حمام نہیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

ڈیم ہے یہ حمام نہیں

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 3, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 3, 2025 0 تبصرے 49 مناظر
50

مجھے یاد ہے، بہت اچھی طرح یاد ہے کہ میری ماں جو اکلوتی اولاد تھیں، ان کو وراثت میں میری نانی کا جو گھر حصے میں آیا، اس گھر کی بس کچھ مرمتیں کروائی گئی تھیں، مگر بنیادی ڈھانچہ تقسیم سے قبل کا تھا۔ حتیٰ کہ اس میں ایک لکڑی کا صوفہ بھی تھا سنا ہے کہ وہ مہاجر چھوڑ گئے تھے۔ خیر، یہ گھر پانی کے استعمال اور اسٹوریج کے لیے بڑی دلچسپ صورتحال اختیار کرتا تھا۔ یہ عجیب تو نہیں کہ ایسی صورت آپ میں سے بہت لوگوں کو پیش آئی ہوگی۔ چھوٹے سے چِپس کے فرش والے صحن میں ایک کھُرّا تھا۔ اس میں ایک کونے پر ایک قدِ آدم حمام کھڑا تھا۔ کھُرّے کے درمیان میں کچھ ٹونٹیاں تھیں جن میں ایک سرکاری پانی کی ٹونٹی تھی، ایک کھُرّے کے بالکل اوپر بنی سیمنٹ کی ٹینکی تھی اور دوسری انتہائی سمت پر ایک ہینڈ پمپ تھا۔

اب جب سرکاری پانی آتا تو پینے اور منہ ہاتھ دھونے کے لیے حمام میں بھر لیا جاتا اور ایک بڑا پائپ چند سیڑھیاں چڑھ کر ٹینکی میں ڈال دیا جاتا۔ اس ٹینکی کے اوپر ایک لکڑی کا ڈھکن تھا جسے اٹھا کر پائپ پھینکا جاتا، اور میرے لیے وہ لمحہ بڑا وحشت بھرا ہوتا۔ ڈھکن اٹھاتے ہی کائی کی بو اور دو تین موٹی چھپکلیاں گھورتی ملتیں۔ خاندان کی ضرورت اور پانی کے پریشر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اوپر کی منزل پر باتھ روم کے اوپر ایک بڑی سیل بند سیمنٹ کی ٹینکی تعمیر کی گئی۔ اس حمام میں ہی ایک تالاب جتنا پانی ہوتا تھا کہ ایک بار اس میں زنگ لگنے سے سوراخ ہو گیا اور صبح سارا گھر پانی سے بھر گیا تھا۔

جی جناب! پانی کو خاندان کی اکائی سے لے کر شہروں، ضلعوں اور پھر صوبوں اور ملک کی ضرورت کے حساب سے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اگر یہ نہ کریں تو ذرا سوچئے، کروڑوں کی آبادی کھائے پیے گی کیسے؟ پانی تو حیات کی علامت ہے۔

پانی کا یہ ذخیرہ دریاؤں پر ڈیم بنا کر یا پھر بیراج جو دریا کے پانی کو چینلائز کرتے ہوئے نہروں میں تقسیم کرتے ہیں، سے ہی ممکن ہے۔ قصبات میں چھوٹے چھوٹے تالاب بھی بنا لیے جاتے ہیں، مگر جب بارشوں کا موسم گزر جاتا ہے اور منہ زور دریا اتر جاتے ہیں تو اس ذخیرے کے بغیر زندگی کا پہیہ چلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اب ان حالات میں ڈیمز کی مخالفت کا ایک چلن اور بحث نکل آئی ہے۔ ان لوگوں کا موقف ہے کہ ڈیم دریا کے قدرتی ایکو سسٹم کو تباہ کر دیتے ہیں، دریائی مٹی جھیل میں جمع ہوجاتی ہے، آبی حیات متاثر ہوتی ہے اور ڈیمز کی تعمیر کے لیے بہت سا رقبہ زیر آب آتا ہے اور لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ جی، یہ قیمت ہے ڈیمز کی! مگر کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ:

There is no free dinner…

چلیے، ان نقصانات پر بات کرتے ہیں۔

اگر نیت نیک ہو، دل میں درد ہو، سیلاب کو ایک ”متبادل کاروبار“ نہ سمجھا جائے تو ڈیمز کے ان ”“ سائیڈ افیکٹس ”کو flushing یعنی تیز بہاؤ، بائی پاس چینلز۔ جیسا کہ غازی بروتھا میں کیا گیا۔ اور سلٹ ایجوکیٹر جیسی نئی تکنیک سے قابو کیا جاسکتا ہے جو پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتی ہے اور سلٹ کو نیچے سے بہا کر دریا کے سپرد کر دیتی ہے۔ دوسرا سب سے بڑا اور اہم کام بالائی علاقوں میں جنگلات اگانا ہے۔

اب یہ ڈیم نہ صرف سوکھے دنوں میں پانی کا ذخیرہ ہیں بلکہ یہ گہری نیلی سبز جھیلیں بھی ایکو سسٹم پیدا کرتی ہیں، زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہوتی ہے، سستی بجلی ملتی ہے، فصلوں کے لیے پانی دستیاب ہوتا ہے اور سیلاب کی روک تھام بھی یہ ڈیم ہی کرتے ہیں۔

اب یہ اعتراض کہ جہاں ڈیمز یا بیراج نہ بن سکیں وہاں کیا کیا جائے؟ تو حضور! دریا کو اس کی جاگیر واپس کر دیں، اس کے ساتھ نشیبی بستیوں میں صرف وہ فصلیں ہوں جو پانی مانگتی ہیں، دریاؤں کے کنارے درخت لگائیں۔ اس کے باوجود یاد رکھیے یہ صرف انسانی کاوش ہے، محض انسانی کاوش۔ جو نقصان کو کم کر سکتی ہے، بچاؤ کر سکتی ہے، مگر قدرتی آفات کے سامنے انسان بہت بے بس ہے۔

ہونے کو تو بہت کچھ ہو سکتا ہے : یہ امکان کہ ڈیم ٹوٹ جائے، بیراج کے گیٹ ٹوٹ جائیں۔ یہ محض امکان ہے۔ امکان بے بسی کا دوسرا نام ہے، آپ سے کچھ کرنے کی قوت چھین لیتا ہے۔ لیکن اس بے بسی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم حادثے کی تیاری نہ کریں اور خود کو طوفان کے حوالے کر دیں۔

اس سب کے باوجود ڈیمز کی مخالفت اندھا دھند اور پوری شدت سے جاری ہے۔ لوگوں کو مزید منتشر اور کنفیوز کیا جا رہا ہے۔ یہ وقت جو آگاہی اور یکجائی کا تھا، تضاد اور انتشار میں ضائع ہو رہا ہے۔

چلیے، ٹھیک ہے۔ دریا کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں، قدرتی طریقے سے بہہ کر سمندر میں گم ہونے دیتے ہیں۔ مگر بھول جاتے ہیں کہ آپ کو سیلاب سے بچنا ہے، آپ کو آبپاشی کے لیے پانی چاہیے، سستی بجلی درکار ہے جس سے ہر صنعت کا پہیہ چلتا ہے۔ یہ سب بھول کر اگر آپ کا موقف مان بھی لیا جائے کہ ماحولیات کی بقا کے لیے ڈیمز کے ارادے سے باز آ جایا جائے تو بہتر ہے کہ جناب! آپ اپنے کھیتوں میں لگے ٹیوب ویل اور زمینی پانی کھینچنے والی موٹریں بھی اتار دیں، کیونکہ اس سے زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ یا آبی تہہ (aquifer) بگڑ رہی ہے۔

پھر آپ واپس اپنے اونٹ، گھوڑے یا گدھا گاڑی پر آئیے، یہ دھواں چھوڑتی گاڑیاں ماحول برباد کر رہی ہیں۔ صنعت و حرفت کا دھواں، شور کی آلودگی، جدید جنگی ہتھیار، فضاؤں میں اڑتے طیارے۔ سب چھوڑ دیجیے اور بہت پیچھے چلے جائیے، سادہ طرزِ زندگی اپنائیے، اپنی آبادی کو آدھا کر لیجیے تاکہ قدرتی وسائل آپ کو پورے پڑ جائیں۔ فی الحال تو تیس کروڑ کے ملک کو صاف پانی، بجلی اور بنیادی ضرورتیں دینا ہی ہماری نالائق حکومتوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔

چلیے، چشمِ تصور سے فرض کر لیتے ہیں کہ ہم نے وقت کا پہیہ گھما دیا، آبادی کم کرلی، صنعت و حرفت کے سادہ روایتی طریقے اپنا لیے، گھوڑے پھر سے آ گئے۔ تو آپ کو یہ جان کر جھٹکا لگے گا کہ ڈیمز اس زمانے میں بھی موجود تھے۔

جی ہاں! کیا آپ کو پتہ ہے دنیا کا پہلا قدیم ترین ڈیم ”جاوہ ڈیم“ اردن میں تین ہزار قبل مسیح بنا تھا؟

اب دنیا کے قدیم ترین مگر فعال ڈیمز پر نظر ڈالتے ہیں : شام میں لیک ہومز ڈیم جو 1304 قبل مسیح میں بنا اور فرعون سِتی اول نے بنوایا، اب بھی فعال ہے۔ بھارت میں ”کالانی ڈیم“ 150 عیسوی میں دریائے کاویری پر بنا، اب بھی فعال ہے۔ اسپین کا ”پروسرپینا ڈیم“ پہلی دوسری صدی عیسوی میں رومیوں نے بنایا جو آج بھی Merida کو پانی مہیا کرتا ہے۔ اسپین کا ”المانڈر ڈیم“ 1578 عیسوی میں بنا اور فعال ہے۔ بھارت کا ”موتی تالاب ڈیم“ 12 ویں صدی میں کرناٹک میں بنا اور آج بھی کارآمد ہے۔ ایران کا ”صدکو بادَم ڈیم“ 10 ویں صدی میں بنا اور آج بھی کام کر رہا ہے۔ جاپان کے ”مونوی ڈیم“ ، ”سے مائی ڈیم“ ، ”کیروماٹائی ڈیم“ ساتویں صدی اور 162 عیسوی میں بنے اور تاحال فعال ہیں۔ اسپین کا ”کارنل ڈیم“ پہلی صدی عیسوی میں بنا۔

جی جناب! یہ دنیا کے عظیم ترین قدیم شاہکار ہیں، اس بات کا ثبوت کہ پانی کی ضرورت سے نمٹنے کا یہ قدیم دانشمندانہ طریقہ ہے۔ اور ان کی کارکردگی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی حمام نہیں کہ بہہ جائے گا۔

اگر امکانات ہی سوچنے ہیں تو یہ کیوں نہ سوچیں کہ اگلے برس بارشیں زیادہ ہو جائیں، بادل پھٹ جانے (cloud burst) کی آفت آئے، یا پگھلتے گلیشیئرز کا سامنا ہو؟ آپ اس کی تیاری کیسے کریں گے؟

سیمیں کرن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نوجوان نسل اور روشن مستقبل
  • معاشرتی رویے اور جدیدیت کا چیلنج
  • مسکرائیں
  • دل کو کہیں سکوں نہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مولانا
پچھلی پوسٹ
سیلاب کے زخم اور کیمروں کا تماشہ

متعلقہ پوسٹس

نظارہ درمیان ہے

نومبر 15, 2019

ولی دکنی اُردو غزل کا باوا آدم ؟

جنوری 25, 2026

پناہ چاہتے ہیں سیلاب سے

ستمبر 17, 2022

سندھ دریا کا پانی

مارچ 18, 2025

پاکستانی فوج کی داستان

مارچ 20, 2026

وقت جب بے امان ہوتا ہے

مئی 20, 2020

درویش جو مسکرا رہا ہے

اکتوبر 25, 2025

کوئی تو ہو جو ہمیں خوف سے رہائی دے

نومبر 27, 2021

برگ صدا کو لب سے اڑے

مئی 28, 2024

نئے دھان سے پہلے

جون 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاوں بھاجی

مئی 21, 2020

اخلاق, اقدار اور معاش!

فروری 27, 2021

بڑھاپے میں جوانی کی یادیں

ستمبر 29, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں