600
میری قسمت کہ وہ اب ہیں میرے غمخواروں میں
کل جو شامل تھے تیرے حاشیہ برداروں میں
زہر ایجاد کرو اور یہ پیہم سوچو
زندگی ہے کہ نہیں دوسرے سیاروں میں
کتنے آنسو ہیں کہ پلکوں پہ نہیں آسکتے
کتنی خبریں ہیں جو چھپتی نہیں اخباروں میں
اب تو دریا کی طبیعت بھی ہے گرداب پسند
اور وہ پہلی سی ساکت بھی نہیں پتواروں میں
آپ کے قصر کی جانب کوئی دیکھے ، توبہ !
جرم ثابت ہو تو چن دیجئے دیواروں میں
آج تہذیب کے تیور بھی ہیں قاروں جیسے
دفن ہو جائے نہ کل اپنے ہی انباروں میں
اپنی آواز کو بھی کان ترستے ہیں میرے
جنس گفتار لیے پھرتا ہوں بازاروں میں
تہمتیں حضرت انسان پر نہ دھریئے انور
دشمنی ہے کہ چلی آتی ہے تلواروں میں
