خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

نوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت

از سائیٹ ایڈمن اگست 23, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 23, 2025 0 تبصرے 61 مناظر
62

پاکستان میں سوشل میڈیا کا کردار آج اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ یہ محض تفریح یا وقتی رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ زندگی کے ہر شعبے پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ ہماری سیاست، معیشت، ثقافت، تعلیم، حتیٰ کہ ہمارے خاندانی تعلقات بھی اس کے زیرِ اثر ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ دنیا ایک بڑے کمرے میں سمٹ آئی ہے اور ہر شخص اپنی آواز دوسروں تک براہِ راست پہنچا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس طاقت کو صحیح معنوں میں سمجھا ہے؟ کیا ہم نے اسے اپنی ترقی، اپنے اتحاد اور اپنی اصلاح کے لیے استعمال کیا یا ہم اسے انتشار اور وقت ضائع کرنے کے راستے پر لگا بیٹھے ہیں؟

پاکستان میں سوشل میڈیا نے سیاست کا مزاج بدل ڈالا ہے۔ ایک وقت تھا کہ عوامی جلسے اور ریلیاں سیاست دانوں کی طاقت کا پیمانہ سمجھی جاتی تھیں، اب ایک ٹویٹ یا چند سیکنڈ کی ویڈیو پوری حکومتوں کے بیانیے کو بدل دیتی ہے۔ کوئی رہنما اگر ایک جملہ بول دے تو لمحوں میں وہ جملہ ہیش ٹیگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ملک بھر میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔ عدالت کے فیصلے، پارلیمنٹ کی کارروائی یا وزیروں کے بیانات سے زیادہ اہمیت اب ان کے سوشل میڈیا کلپس کو حاصل ہو گئی ہے۔ لیکن یہ سچ بھی ہے کہ اسی طاقت نے معاشرے میں الجھنیں بڑھا دی ہیں۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر دھندلا چکی ہے۔ افواہیں اس رفتار سے پھیلتی ہیں کہ ان کی تردید تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے اور تب تک معاشرے کا ذہن متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: "یا ایھا الذین آمنوا إن جاءکم فاسق بنبإ فتبینوا أن تصیبوا قوماً بجھالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین” (الحجرات: 6)۔ یعنی جب کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کرو، ورنہ کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا دو گے اور بعد میں پچھتاؤ گے۔ افسوس کہ آج کا مسلمان اس حکم کو فراموش کر کے ہر خبر کو بنا تحقیق کے آگے بڑھا دیتا ہے۔

نوجوان نسل سوشل میڈیا کی اصل طاقت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر صارفین نوجوان ہیں جن کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ ہے۔ ایک عام طالب علم، ایک چھوٹے قصبے کا لڑکا یا لڑکی، آج یوٹیوب یا ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا کر لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک خطرہ بھی۔ موقع اس لیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتا ہے، مثبت پیغام عام کر سکتا ہے، تعلیم یا ہنر سکھا سکتا ہے۔ خطرہ اس لیے کہ شہرت کی دوڑ میں وہ کبھی غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی راستوں پر چل نکلتا ہے۔ ایک لمحے کی شہرت کے لیے وہ اپنی تعلیم، اپنی اقدار اور اپنے خاندان تک کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ یوں سوشل میڈیا ایک آئینہ ہے جو ہمارے اندر کے رجحانات کو دنیا کے سامنے لا دیتا ہے۔

ثقافتی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ ہماری ثقافت رنگوں اور روایتوں کا حسین امتزاج ہے۔ مگر سوشل میڈیا نے اسے ایک نئے زاویے سے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ پاکستانی گانے، ڈرامے اور مزاحیہ کلپس پوری دنیا میں دیکھے جاتے ہیں۔ ایک طرف یہ خوشی کی بات ہے کہ دنیا ہمیں پہچان رہی ہے، دوسری طرف یہ فکر بھی لاحق ہے کہ ہم مغربی کلچر کی نقالی میں کہیں اپنی اصل کھو نہ دیں۔ لباس، زبان اور رہن سہن میں نوجوان نسل تیزی سے مغربی اثرات کا شکار ہو رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی قوم اپنی تہذیب بھلا دیتی ہے تو وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اعتدال اختیار کرو، اچھی چیز اپناؤ لیکن اپنی اصل اقدار نہ چھوڑو۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر” یعنی بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔ اگر ہم اس ہدایت کو سوشل میڈیا پر بروئے کار لائیں تو یہ پلیٹ فارم حق اور انصاف کے لیے ایک مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔

تعلیم کے میدان میں بھی سوشل میڈیا نے نئی راہیں کھولی ہیں۔ آج ہر مضمون، ہر موضوع اور ہر علم آن لائن دستیاب ہے۔ ایک طالب علم جسے کبھی کتابیں ڈھونڈنے میں مہینے لگ جاتے تھے، وہ اب یوٹیوب کے ایک لیکچر سے اپنا مسئلہ حل کر لیتا ہے۔ آن لائن کورسز نے پاکستان کے طلبہ کو دنیا کے بہترین اساتذہ تک رسائی دی ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ زیادہ تر نوجوان سوشل میڈیا کو پڑھائی کے بجائے تفریح اور وقت گزاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امتحان قریب آتے ہی وہ پریشان ہوتے ہیں۔ علم کے بجائے گپ شپ، میمز اور ویڈیوز پر وقت گزر جاتا ہے۔ یہاں اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچوں کو رہنمائی دیں کہ یہ طاقت مثبت طور پر استعمال ہو۔

معاشی اعتبار سے بھی سوشل میڈیا پاکستان میں انقلاب لا رہا ہے۔ چھوٹے کاروبار انسٹاگرام اور فیس بک پیجز کے ذریعے لاکھوں گاہکوں تک پہنچ رہے ہیں۔ خواتین گھروں میں بیٹھ کر اپنے ہنر کو بزنس کی شکل دے رہی ہیں۔ فری لانسنگ نے نوجوانوں کے لیے عالمی مارکیٹ کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یوٹیوب چینلز اور بلاگز نے بے شمار لوگوں کو آمدنی کا ذریعہ فراہم کیا ہے۔ مگر اس میدان میں بھی دھوکہ دہی اور فراڈ بڑھ رہا ہے۔ کوئی جعلی آن لائن شاپنگ سے پیسے لوٹ رہا ہے، کوئی جھوٹے انعامی سکیم کے ذریعے۔ اگر حکومت نے اس کو منظم نہ کیا تو عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے گا اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔

سوشل میڈیا کا ایک بڑا اثر نفسیات پر بھی پڑ رہا ہے۔ ہر وقت موبائل ہاتھ میں رکھنے کی عادت نے نوجوانوں کو زیادہ تنہا کر دیا ہے۔ لائکس اور کمنٹس کی دوڑ نے ان کے ذہنوں پر دباؤ ڈال دیا ہے۔ اگر کسی تصویر پر زیادہ لائکس نہ آئیں تو وہ مایوسی میں چلے جاتے ہیں۔ یہ ایک بیماری کی شکل اختیار کر رہی ہے جسے ماہرین "سوشل میڈیا ڈپریشن” کہتے ہیں۔ اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اصل سکون دنیاوی شہرت میں نہیں بلکہ اللہ کے ذکر میں ہے: "الا بذکر الله تطمئن القلوب” (الرعد: 28)۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ حقیقی کامیابی اللہ کی رضا میں ہے تو سوشل میڈیا کی چمک دمک ہمارے لیے اتنی اہمیت نہیں رکھے گی۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا صرف خرابیوں کا نام نہیں۔ اگر ہم چاہیں تو یہ پلیٹ فارم ایک عظیم صدقۂ جاریہ بھی بن سکتا ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات عام کی جا سکتی ہیں، اخلاقیات اور مثبت رویے سکھائے جا سکتے ہیں، علم و ہنر پھیلایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی اسلامی اسکالرز نے یوٹیوب اور فیس بک کو دین کی تبلیغ کے لیے استعمال کیا اور لاکھوں دلوں کو بدل ڈالا۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی اپنی صلاحیتیں صحیح مقصد کے لیے صرف کریں۔

پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اتحاد، برداشت اور شعور ہے۔ سوشل میڈیا ان تینوں کے لیے ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کو مثبت رخ پر استعمال کریں۔ ورنہ یہی پلیٹ فارم ہماری تقسیم کو مزید گہرا کر دے گا۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو خیر کے لیے استعمال کریں گے یا شر کے لیے۔ اگر خیر کے لیے استعمال کریں گے تو یہ ہماری قوم کے لیے ترقی کا ذریعہ ہوگا، اگر شر کے لیے استعمال کریں گے تو یہ ہمارے زوال کا سامان کرے گا۔

آخر میں بات پھر وہی ہے کہ سوشل میڈیا ایک تیز دھار تلوار کی طرح ہے، جو ہاتھ میں ہے وہ اس کو جس مقصد کے لیے چاہے استعمال کرے۔ ہمیں چاہیے کہ اس طاقت کو اللہ کی رضا، قوم کی بھلائی اور اپنی اصلاح کے لیے بروئے کار لائیں۔ اگر ہم نے اس کے استعمال میں اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنایا، تحقیق کو اپنا اصول بنایا، اور سچائی کو اپنی پہچان بنایا، تو کوئی طاقت ہمیں ترقی سے روک نہیں سکتی۔ لیکن اگر ہم نے جھوٹ، بہتان اور بے حیائی کو عام کرنے کے لیے اسے استعمال کیا تو یہ ہمیں لے ڈوبے گا۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں۔ قرآن نے ہمیں وہی اصول دیا ہے: "فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یرہ ومن یعمل مثقال ذرة شراً یرہ” (الزلزال: 7-8)۔

یہ تحریر لکھتے ہوئے یہی احساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا ہمارے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم اسے نعمت بناتے ہیں یا زحمت۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پرانی قبر سے جلتا چراغ اٹھانے سے
  • بیکار ہے سب شکوۂ حالات وغیرہ
  • جشن میلادِ النبیﷺ:نئے معاہدے کی ضرورت!
  • مودی کا ہندو خطرے میں ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جسوندر سنگھ بھلا کی یاد میں
پچھلی پوسٹ
شرمندہ ہوں انساں ہوکر

متعلقہ پوسٹس

ججز استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں ؟

نومبر 26, 2025

بخشش کی دستاویز

نومبر 26, 2025

سوا سیر گینھو

دسمبر 10, 2019

جہاں کی ضد ہے

جون 15, 2024

دو بَیل

اکتوبر 25, 2019

عشق کینہ ور کی آگ

جنوری 12, 2020

جب عشق کا رستہ دیکھا تھا

مئی 8, 2020

چپ

جنوری 12, 2020

آخری پیڑ ہوں اور آخری پتھراؤ ہے

مارچ 28, 2022

جمعِ قرآن پر اعتراضات کا جائزہ

جنوری 9, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک...

جنوری 23, 2020

طلسم خواب سے باہر نکل کر

دسمبر 26, 2024

ولی دکنی اُردو غزل کا باوا...

جنوری 25, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں