437
ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے
آج کل ہیں وہ یاد آئے ہوئے
میں نے راتیں بہت گزاری ہیں
صرف دل کا دیا جلائے ہوئے
ایک اُسی شخص کا نہیں مذکور
ہم زمانے کے ہیں ستائے ہوئے
سونے آتے ہیں لوگ بستی میں
سارے دن کے تھکے تھکائے ہوئے
مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ
نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے
گو فلک پہ نہیں، پلک پہ سہی
دو ستارے ہیں جگمگائے ہوئے
الوداعی مقام تک آئے
ہم نظر سے نظر ملائے ہوئے
اے شعورؔ اور کوئی بات کرو
ہیں یہ قصّے سُنے سنائے ہوئے
