خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابرساتی مینڈک
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

برساتی مینڈک

از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2025
از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2025 0 تبصرے 29 مناظر
30

(اس افسانہ میں شہزادہ آزاد بخت اور مکھی کے کردار انتظار حسین کے افسانہ ’کایا کلپ‘ سے لیے گئے ہیں۔ The Frog Prince ایک جرمن کہانی ہے )

برسات کو کس نے سہانا موسم کہہ دیا؟ ہندوستان میں جو بھی آیا لوگوں نے کچھ دیکھے سوچے سمجھے بغیر اسے اپنا لیا، اس کی اچھائیاں برائیاں سب اختیار کر لیں۔ برسات مشہد و شیراز کے ٹھنڈے علاقوں میں خوشگوار رہی ہوگی۔ فارسی ادب میں اس موسم کو پیارا لکھا جاتا تھا۔ اردو والوں نے بھی اس کہانی کو قبول کر لیا۔ ہمارے ہاں تو اس موسم میں گرمی اور حبس، ہوا دم سادھے زمین پر لیٹ جاتی ہے تو پسینہ پرنالوں کی طرح بہتا ہے : انسان کو خود سے بھی بدبو آنے لگتی ہے۔ بارش اور پانی کے ساتھ مکھیوں کی بہتات، مچھروں کی یلغار اور مینڈکوں کی ٹر ٹر۔

اس موسم میں شادی؟ اس نے انکار کر دیا۔ برسات گزرے گی تو پھر سوچوں گی۔

ایونٹ کے بارے میں سارے فیصلے اس نے خود کیے۔ کس کس کو بلایا جائے؟ لہنگا کس رنگ کا ہو گا اور دلہا کیا پہنے گا؟ وینیو کون سا ہو گا؟ ویڈنگ پلانر کو خود سمجھایا کہ کیا کیا کرنا ہے؟ مردوں کو ان باتوں کا کیا پتا؟ منصور سے پوچھنا بھی گوارا نہ کیا، ”مرد کہاں ایسی باتوں پر غور کرتے ہیں؟ ویسے بھی وہ کہتے ہیں کہ مجھے تمہاری خوشی عزیز ہے۔“ ہر مشورہ دینے والے کو یہ جواب اتنی مرتبہ دے چکی تھی کہ اب منصور کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا۔

وہ کئی دنوں سے رابطے میں نہیں تھا۔ بیچلر پارٹی تین ہفتے پہلے ہوئی تھی۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ یورپ چلی گئی اور منصور دوبئی۔ اس نے جاتے وقت منصور کو کہہ دیا تھا، ”مجھے ان دنوں میں تنگ نہ کرنا۔“ اگر وہ کال کرتا تو جواب نہ دیتی۔ صرف میسج پر بات ہوتی رہی۔ اس نے اپنی تصویریں شیئر کیں۔ منصور کی طرف سے گڈ اور اکسیلنٹ کے میسج آتے۔ لڑکے تو لڑکے ہوتے ہیں ان کی پارٹیوں میں گالیوں اور بدتمیزیوں کے علاوہ اور ہوتا ہی کیا ہے جو وہ اپنے پیج پر پوسٹ کر سکیں؟ لڑکیاں تو دلہن کو ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں اور مہک جیسی دلہن۔ اتنی پیاری دلہن!

دلہن بننے کے سپنے وہ بچپن سے دیکھ رہی تھی۔ جب وہ اپنے بابا کی انگلی پکڑ کر شادیوں میں جاتی تو کہتی، ”بابا، میں بھی دلہن بنوں گی۔“

”میری شہزادی جتنی خوبصورت کوئی دلہن ہو ہی نہیں سکتی۔“ بابا کا جواب سن کر وہ خوش ہو جاتی۔ وہ ماں کی شادی کی تصویریں دیکھ کر کہتی، ”شادی کے لباس میں ماما بھی شہزادی لگ رہی ہیں۔“

وہ اسی طرح کا بڑا سا لہنگا پہننا چاہتی تھی جس پر تارے جڑے ہوں اور جو موتیوں سے بھرا ہوا ہو۔ جب اس نے لکھنا سیکھا تو شادی پر پہننے والے زیورات کی لسٹ بنانا شروع کر دی سب سے اوپر لکھا، ”بالوں کی لٹیں جن میں ہیرے جواہرات جڑے ٹسل اور سر پر سونے کا تاج۔“

دلہن بنے کا خواب اب سچا ہو رہا تھا۔

شادی کی بات ہوئی تو اس نے فرمائش کی، ”بابا آپ ڈانس کی ریہرسل کریں مہندی پر پہلا ڈانس میرا اور آپ کا ہو گا۔“

بچپن میں بابا کے بازو پر سر رکھ کر سوتے وقت شہزادی اور پریوں کی کہانی سننے کی فرمائش کرتی۔
***

’آزاد بخت شہزادی کو آزاد کروانے دیو کے قلعے میں پہنچا تو واپسی کا کوئی راستہ نہ سوجھا۔ دن بیت گیا۔ شام ہوئی اور دیو کی دھمک سے قلعہ کے در و دیوار ہلنے لگے تو وہ چوکنا ہوا۔ مگر اس نے دیکھا کہ شہزادی نے اس کی طرف منھ کر کے پھونک ماری اور وہ سمٹنا شروع ہو گیا۔

شہزادہ آزاد بخت نے اس دن مکھی کی صورت میں صبح کی۔ اگلے دن اس نے بہت یاد کرنا چاہا کہ رات کس عالم میں گزری۔ پر اسے کچھ یاد نہ آیا۔

ہاں اس نے شہزادی کو پھونک مارتے دیکھ لیا تھا۔ اس کا ماتھا ٹھنکا کہ کچھ دال میں کالا ہے۔ وہ اس سے مخاطب ہوا کہ اے بدانجام میں تجھے سفید دیو کی قید سے آزاد کرانے کے جتن کرتا تھا۔ تو نے اس کا بدلہ مجھے یہ دیا کہ مجھ پر سحر پھونکا۔ شہزادی نے بہت حیلے بہانے کیے، مگر شہزادہ کسی صورت مطمئن نہ ہوا اور حقیقت جاننے کے در پے رہا۔ تب شہزادی نے کہا کہ اے نیک بخت میں جو کچھ کرتی ہوں تیرے بھلے کو کرتی ہوں۔ سفید دیو آدمی کا دشمن ہے۔ اگر تجھے دیکھ لے تو چٹ کر جائے اور مجھ پر ظلم توڑے۔ پس میں عمل پڑھ کر تجھے مکھی بناتی ہوں اور دیوار سے چپکا دیتی ہوں۔ رات بھر وہ ’مانس گند۔ مانس گند‘ چلاتا ہے اور میں کہتی ہوں کہ میں آدم زاد ہوں مجھے کھا لے۔ پھر جب صبح کو وہ قلعے سے رخصت ہوتا ہے تو میں عمل پڑھتی ہوں اور تجھے آدمی بناتی ہوں۔

”تو کیا شہزادہ مکھی بن کر راتیں گزارتا رہا۔“ اس نے اپنے بابا سے پوچھا۔
”شہزادی اسے مکھی نہ بناتی تو دیو اسے کھا جاتا۔“

”پھر وہ شہزادہ تو نہ ہوا، بزدل کہیں کا! اس کی مردانہ غیرت نے جوش نہ کھایا کہ اپنے مفاد کے لیے وہ ایک عورت کا مرہون منت ہے اور وہ اس کی جان بچانے کے لیے یہ انوکھا جتن کرتی ہے۔ “

”شہزادہ بہت سوچتا رہا۔ کئی بار وہاں سے بھاگنا چاہا لیکن وہ شہزادی کا غلام بن گیا تھا۔ پھر ایک رات شہزادی نے اس پر منتر نہ پھونکا۔ اس رات دیو بھی ’مانس گند، مانس گند‘ نہ چلایا۔ شہزادے کی آدمی والی بو مر گئی تھی۔ اگلی صبح شہزادی نے شہزادے کو بنا منتر کے ہی مکھی بنا دیوار سے لپٹا دیکھا۔ وہ مکھی بن گیا تھا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“

***

رات بھر وہ مکھیوں کے خواب دیکھتی رہی۔ کبھی شہزادہ شہزادی کے ساتھ کھیلتا دکھائی دیتا۔ عیش و آرام سے لبریز دن اور پھر وہ اسے حقیر مکھی کی صورت میں دیوار سے چپکا نظر آتا۔

سکول سے واپس آ کر اس نے بابا سے کہا مجھے کل والی کہانی اچھی نہیں لگی۔
***

”آج میں تمہیں شہزادی اور مینڈک کی کہانی سناتا ہوں۔ شہزادی جس کا قیمتی گیند کنویں میں گر گیا اور اسے ایک مینڈک ڈھونڈ کر لایا۔ مینڈک کی شرط پوری کرتے ہوئے شہزادی نے اسے تین راتیں اپنے بستر پر سلایا۔ گندا مینڈک ساری رات ٹر ٹر کرتا اور کمرے سے بدبو بھی آتی رہتی۔ آخری رات وہ شہزادی کے پلنگ پر پھدک رہا تھا، شہزادی کو بہت غصہ آیا اور پکڑ کر دیوار پر دے مارا۔ چوٹ گہری آئی اور مینڈک مر گیا۔

شہزادی افسردہ ہو گئی اور اسے پکڑ کر پیار کرنے لگی۔ اسے بوسہ دیا تو وہ زندہ ہو کر اچھلنے لگا۔ اچھلتے اچھلتے وہ بڑا ہوتا گیا۔ پھر وہ انسان بن گیا۔

شہزادی حیران پریشان!

مینڈک نے اسے اپنی کہانی سنائی کہ جنگل کی ملکہ نے غلطیوں کی سزا پر اسے حقیر مینڈک بنا دیا تھا۔ وہ معافی کا طلبگار ہوا تو کہا کہ اگر کوئی شہزادی اس کے ہونٹوں پر بوسہ دے تو وہ دو بار انسان بن جائے گا۔ ”

بابا کہانی سنا کر خاموش ہوئے تو وہ پوچھنے لگی، ”یہ کیسے شہزادے ہیں جو خود کچھ نہیں کرتے، شہزادیوں سے کھیلتے رہتے ہیں؟ ان کے سارے کام شہزادیاں ہی کرتی ہیں؟

بابا! وہ کئی سال مینڈک کی طرح کودتا پھلانگتا رہا تو واپس انسان بن کر بھی اس کی یہ عادت ختم نہیں ہوگی۔ ”

***

جوانی آئی تو بابا اور اس کی محبت میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اب کہانیاں بھی مختلف ہو گئیں۔ فلمیں مل کر دیکھتے۔ بابا کی پسند پرانی اور اس کی جدید دور کی۔ قلوپطرہ دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ کتنی خوبصورت شہزادی ہے اور کیسی ذہانت سے اپنے عوام کو ظالم رومیوں کے استبداد سے محفوظ رکھا۔ اس کا پسندیدہ سین قلوپطرہ کی روم آمد تھا۔ سینکڑوں مرتبہ اسے دیکھ چکی تھی۔ کاش وہ بھی ایک ایسا ہی فلوٹ تیار کروا سکتی جس پر بیٹھ کر وہ اپنے دلہا کے سامنے آتی۔ اسی وجہ سے اس نے شادی کی شاپنگ کا آغاز اٹالین ہاؤس آف بیویلگری کا سونے کے سکوں والا نیکلس اور سرپنٹ بریسلٹ خرید کر کیا تھا۔

***

منصور اسے پہلی بار ایک سہیلی کی مہندی پر ملا تھا۔ اس کی طرف دیکھ رہی تھی تو سہیلی نے اس کے کان میں سرگوشی کی، ”کیوٹ بوائے!“

ماتھے پر بکھری کالی سیاہ گھنی زلفیں، جوان گدرائے ہوئے جامنی ہونٹ، جو آب بھی تھے اور آتش بھی۔ ان میں ایسی مقناطیسیت تھی کہ وہ اس کی طرف کھنچتی چلی گئی۔ اسے خود پر اعتماد تھا کہ وہ اس کے دام حسن میں گرفتار ہونے سے نہیں بچ سکتا۔ جوان مرد حسن کے قدموں پر عزت، دولت، مذہب اور زندگی سب کچھ ہنسی خوشی لٹا دیتا ہے۔ یہی ہوا، دو ہفتے بعد ہی اس نے پروپوز کر دیا۔

پرانے شہر کے ہوٹل کے ایک خوبصورت کمرے میں بیٹھ کر دونوں نے مستقبل کی باتیں کیں۔ کمرے کو بہت اچھے طریقے سے سجایا گیا تھا۔ کینڈلز، تازہ پھولوں کی ٹوکریاں، گجرے اور ہلکا ہلکا میوزک۔ کمرے میں بھینی بھینی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ روح کو وجد میں لانے والے سارے سامان جمع تھے۔ وہ تھوڑا قریب ہوتی تو منصور کے خوش رنگ بدن کی خوشبو، مردانہ خوشبو کی بے پایاں کشش سب پر غالب آ جاتی۔ کھانا انتہائی لذیذ اور با افراط تھا۔ طرح طرح کی ڈشز۔ منصور کے ساتھ تصویریں بنا کر انسٹا گرام پر پوسٹ کیں۔ وہ تو لڑکا تھا ایسی کسی بات میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مہک اسے سب باتیں بتاتی رہی۔ اسے اچھا لگ رہا تھا کہ وہ سب مان رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اسے شادی بیاہ کی تقریبات اور گھر گرہستی سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ منصور کسی کام میں مداخلت نہ کرے۔ وہ تو یہ بھی دعا کرتی تھی کہ اس کے سارے بیٹے ہی پیدا ہوں۔ لڑکیاں ایسے کاموں میں مداخلت کرتی ہیں، زیادہ توجہ مانگتی ہیں اور وہ یہ نہیں چاہتی تھی۔ گھر میں اکیلی عورت ہونے کا خیال اسے بہت پسند تھا کہ سارے مرد صرف اس کے گرد ہی گھومتے دکھائی دیں۔

شادی میں وہی توجہ کا مرکز تھی۔ سارے مہمان جانے پہچانے تھے۔ بس دور تیسرے ٹیبل پر ایک جوان اداس خاتون بیٹھی تھی۔ کسی رسم میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ اسے انسٹاگرام پر منصور کے ساتھ کئی تصویروں میں دیکھ چکی تھی۔

رات منصور سے اس خاتون کے بارے میں پوچھا۔
”چھوڑو اس کو۔ شادی کی پہلی رات ہی کس کا ذکر لے بیٹھی ہو۔“
”لیکن، وہ کون تھی؟“

”میری باس۔ وہی مجھے اس کمپنی میں لائی۔ میری پروموشن میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ آج کل مجھ سے ناراض ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ کمپنی چھوڑ دوں۔“

یہ کہہ کر منصور نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ منہ اس کے کانوں کے قریب لا کر مدہم سی آواز میں پیار بھری باتیں کرنے لگا۔

مہک کے ذہن سے وہ عورت نہیں نکلی تھی۔ منصور کی آواز اسے مانس مکھیوں کی بھن بھن کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اسے بانہوں میں سمیٹ کر ہونٹ ہونٹوں کے قریب لایا۔

اس کے منہ سے گند آ رہی تھی، برساتی پانی کی، برساتی مینڈک کی۔
مہک نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک تصویر
  • راضی
  • حیران ہیں سبھی تِری تنویر دیکھ کر
  • پاکستان میں خودکش دھماکے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سلطان الہند- خواجہ معین الدین اجمیری
پچھلی پوسٹ
ذیابیطس

متعلقہ پوسٹس

محفلِ محبت کا مزہ

دسمبر 3, 2024

جون کا میں درد ہوں

جون 27, 2025

قرۃ العین حیدر

اکتوبر 9, 2025

منظور

مارچ 16, 2016

خلقتِ نور کلام

جنوری 15, 2021

سُکُوں دے کر یہ کیا مُشکل

نومبر 12, 2025

سعادت حسن منٹو

اکتوبر 9, 2022

کورونا اوراُم مسائل آبادی کا عفریب

جولائی 10, 2020

شہزاد نیرّ اور ”گرہ کھُلنے تک“ 

جنوری 15, 2021

بے صدا ہورہی ہیں آوازیں

اگست 8, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

موت کچھ آسان ہوتی جا رہی

نومبر 30, 2020

عرض ِ اَلم بہ طرز ِ...

اپریل 23, 2020

دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم

جون 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں