497
کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا
جسے پایا اسے بیگانہ پایا
کہاں ڈھونڈوں اسے کس طرح پاؤں
کوئ بھی ڈھونڈنے والا نہ پایا
اڑا کر آشیاں صرصر نے میرا
کیا صاف اس قدر تنکا نہ پایا
اسے پانا نہیں آساں کہ ہم نے
نہ جب تک آپ کو کھویا نہ پایا
دوائے درد دل پوچھوں میں کسی سے
طبیب عشق کو ڈھونڈا نہ پایا
ظفر دل جانے یا ہم ، کون جانے
کہ پایا آس میں کیا اور کیا نہ پایا
