خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرسمپورن سنگھ کالرا
اردو تحاریراردو کالمزشہزاد نیّرؔ

سمپورن سنگھ کالرا

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2024
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2024 0 تبصرے 98 مناظر
99

دُنیا سے عدم اطمینان کا اظہار ہر بڑے فن کی بنیاد بنتا ہے۔ ہر نئی ایجاد، نئی کہانی یا نئی نظم، گویا دُنیا کو بہتر بنانے کی کوشش ہے یا پھر کسی خلا کو پُر کرنے کی کاوش۔

شاعر اور ادیب نغموں، نظموں اور کہانیوں میں دُنیا کی ایک اپنی تصویر بناتے ہیں۔ اِن کی تحریر میں ایک نئی دُنیا بستی ہے جو پڑھنے والوں کی آنکھوں میں بھی بَس جاتی ہے۔ یہ دُنیا در دُنیا بساتے ہیں۔

پھر ایک مُدت بیت جاتی ہے تو ان کو خیال آتا ہے کہ دُنیا میں تو کچھ بھی بدلاؤ نہیں آیا۔ وہ تو ویسی ہی ہے جیسی کہ ہوا کرتی تھی! یہ سچے لوگ ہیں سو خود ہی مان لیتے ہیں لیکن پھر بھی لکھتے رہتے ہیں۔ شاید کبھی کہیں کچھ بدل جائے اور تبدیلی کا خواب دیکھنے والوں میں ان کا شمار ہو جائے۔ شاید کہیں کچھ بدلتا بھی ہو۔ باہر نہیں تو اندر۔ ذہنوں میں، دلوں میں! کچھ تو ضرور بدلتا ہو گا۔

یہ وہی لوگ ہیں جو خوش نصیب ہیں، شاعر ادیب ہیں۔ اپنے خوش طینت، نیک نصیب گلزار بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔ گلزار کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، سو انہوں نے خوب کہا۔ فلم میں کہا، نظم و غزل میں کہا، کہانی میں کہا، جوانی میں کہا اور اب پیرانہ سالی میں بھی کہہ رہے ہیں۔

گلزار کا کہا ہوا کروڑوں دلوں تک پہنچا۔ سرحدوں کے پار گیا اور اس آواز کی طاقت کے آگے لکیروں کا جال ہار گیا۔ برقی مواصلات نے فضا میں ایسا جال بُن رکھا ہے جو زمینی لکیروں کی شناخت نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی فن کی کوئی لکیر تو ہوتی نہیں۔ گلزار کو فن آتا تھا سو دُنیا لکیریں پھاندتی آتی چلی گئی اور گلزار کے رنگ و بو میں بستی چلی گئی۔

:کسی نے پوچھا
یہ بمبئی کی فلمی صنعت میں گلزار ہیں کیا یہ ہندو ہیں؟ یا ہم میں سے ہیں
ہم نے کہا گلزار کو بس گلزار ہی سمجھیں تو اچھا ہے پھولوں کا ایمان تو آنکھوں کو جچنا ہے
وحید احمد (پیش لفظ، شفافیاں )

گلزار نے پر دۂ سیمیں پر گُل بوٹے کاڑھے تو دُنیا سَج سی گئی۔ فلمی مکالموں سے روزمرہ ترتیب پایا اور پھر ان کی کومل، سبک نظمیں۔
گلزار نے نئی نظم کو وہ سوچتا ہوا رنگ دیا ہے جو زمین سے اٹھتا ہے۔ خاکستری رنگ۔ اسی خاک رنگ سے سات رنگ دھنک سجتی ہے۔ زمین کے لوگوں کی باتیں، فلیٹوں میں رہنے والے لوگ، جب سیلاب آ جائے، بتی چلی جائے، خط کا انتظار ہو، چادر کھینچ کر سوئی پڑی حسینہ، خون میں لت پت اخبار، دو وقت روٹی کی چکی میں پستے ہوئے لوگ۔ یہ سب کچھ گلزار کی نظم میں ہے۔

ان کی زبان نکھری نتھری ستھری، گنگا جمنی اُردو زبان جو ایک طرف عربی اور فارسی تو دوسری جانب ہندی اور سنسکرت سے سیراب ہوتی ہے۔ گلزار کی نظمGulzar جب سبک ملائم رو میں بہتی ہے تو معنی کے کنول سطحِ آب کو سجاتے رہتے ہیں۔ گلزار کی نظم جدید نظم نگاری سے نہ صرف ہم آہنگ ہے بلکہ آگے بڑھ کر سوچتی بھی ہے۔ یہ نظم نرمی سے سوال اٹھاتی ہے۔ غزل کی روایتی تلازمہ کاری اور طرزِ اَدا سے بچ بچا کر اپنی راہ چلتی ہوئی نظم جس پر گلزار کے اپنے دستخط ثبت ہیں۔ نظم جو بیک وقت سہل بھی ہے اور گہری بھی۔

سارا دِن میں خُون میں لَت پَت رہتا ہوں
سارے دن میں سُوکھ سُوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے
خون کی پپڑی سی جم جاتی ہے
کھرچ کھرچ کے ناخنوں سے چمڑی چھلنے لگتی ہے
ناک میں خُون کی کچی بُو
اور کپڑوں پر کچھ کالے کالے چُکتے سے رہ جاتے ہیں
روز صبح اخبار مرے گھر خون میں لت پت آتا ہے
(آشوب)
گلزار نے غزل کہی تو پُرتاثیر کہی، تازہ کہی اور خوش آہنگ کہی۔ گاتی ہوئی رقص کرتی ہوئی غزل۔

تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کی
کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی
آنکھوں اور کانوں میں کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں
کیا تم نے اُڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی

گرم لاشیں گری فصیلوں سے
آسماں بھر گیا ہے چیلوں سے

ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا
میری تصویر جو گرتی تو چھناکا ہوتا
کیوں مری شکل پہن لیتا ہے چھپنے کے لئے
ایک چہرہ کوئی اپنا تو خدا کا ہوتا

افسانے کی کہانی گلزار خود بیان کرتے ہیں۔

”ہم نثر بھی پڑھتے تھے۔ کبھی کبھی کوئی کہانی ڈَس جاتی تو دنوں ہائے ہائے کرتے۔ شعر پہ شعر تو چڑھ جاتے لیکن کہانی مہینوں نہ اُترتی۔ تب جی چاہتا ہم بھی ایک بار کہانی لکھیں گے“

(گلزار، پیش لفظ، دستخط)
اب صورت یہ ہے کہ گلزار کی کہانی پڑھ کر ہم لوگ مہینوں ہائے ہائے کرتے ہیں پھر بھی پھانس دل سے نکلتی نہیں۔ برسوں بیتے ”فنون“ میں ”گاگی اور سپرمین“ پڑھی تھی۔ آخری فقرہ آج بھی خنجر کی طرح دل میں پیوست ہے :۔

”خدا بھی سپرمین کی طرح ہے۔ کتابوں میں بہت کچھ کر لیتا ہے“ اس کہانی کے آخر میں سرطان میں مبتلا ننھی گاگی مر جاتی ہے!

پاک بھارت سرحدی جھڑپوں پر لکھا گیا ان کا افسانہ ”اوور“ پڑھا تو یہ فقرہ کانوں میں ہمیشہ کے لیے رُک گیا ”بم سے تو بیڑی بھی نہیں سلگا سکتے“

اور وہ شاہکار افسانہ جو پورے کا پورا یوں وجود میں گھل گیا ہے جیسے پانی میں نیل، کہ کپڑا بھگو کر نکالو تو نیلا، زہر بھرا۔ اس افسانے کا عنوان ہے ”مائیکل اینجلو“ یہ کہانی کبھی بھی خود کو کہنا بند نہ کرے گی۔

”میں وہی یسوع ہوں جیسے تم یہودہ نقش کر رہے ہو“

کہانیاں ہیں اور کہانی کار ہے۔ نظمیں ہیں اور نظم نگار ہے۔ غزلیں ہیں اور غزل کا دلدار ہے۔ فلمی گیت ہیں اور رَس بھرا فنکار ہے۔ یہ سارے پُھول ایک ساتھ کِھل جائیں تو ”گلزار“ ہے۔ ہم سب کا گلزار۔ سب کا سانجھا گلزار۔ برصغیر کے باغ سے اُٹھی یہ خوشبو دُنیا کے کونے کونے تک پہنچی ہے۔

دینہ (جہلم) میں پیدا ہو کر ممبئی میں زندگی گزارنے والا سمپورن سنگھ کالرا کہیں بھی رہے، دراصل وہ دلوں میں رہتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ گلزار تو ”وہاں“ کے ہیں۔ میں دِل پہ ہاتھ رکھ کے کہتا ہوں گلزار یہاں کے ہیں۔

شہزاد نیّرؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میر، غالب، اور ایک منٹ کے چاول
  • پشاور ایکسپریس
  • علمیت اور ذکاوت کے مقابلے
  • قومی زبان اُردو کے نفاذ کا ادھورا سفر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟
پچھلی پوسٹ
کوئی تھا نہ ہے نہ ہوگا

متعلقہ پوسٹس

برف کا پانی

جنوری 12, 2020

ہالی ووڈ کا فریب – پہلی قسط

جنوری 18, 2025

بروٹس سے میر جعفر تک

اکتوبر 2, 2020

کافی وِد انڈر ٹیکر

دسمبر 23, 2021

راما پرم کا آدم خور

نومبر 23, 2019

کہنو مجنوں کے مرنے کی

جولائی 5, 2024

ڈیجیٹل معیشت اور ہمارا بدلتا ہوا زمانہ

نومبر 21, 2025

میلاد االنبیؐ کی خوشی

ستمبر 29, 2023

نوری نت اور موگیمبو کا زمانہ لوٹ آیا

اپریل 7, 2023

خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ کا طرز خلافت

جولائی 20, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غل خان

مئی 10, 2020

تنقید کیا ہے

اپریل 11, 2026

آنکھیں

فروری 13, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں