خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرسمپورن سنگھ کالرا
اردو تحاریراردو کالمزشہزاد نیّرؔ

سمپورن سنگھ کالرا

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2024
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2024 0 تبصرے 41 مناظر
42

دُنیا سے عدم اطمینان کا اظہار ہر بڑے فن کی بنیاد بنتا ہے۔ ہر نئی ایجاد، نئی کہانی یا نئی نظم، گویا دُنیا کو بہتر بنانے کی کوشش ہے یا پھر کسی خلا کو پُر کرنے کی کاوش۔

شاعر اور ادیب نغموں، نظموں اور کہانیوں میں دُنیا کی ایک اپنی تصویر بناتے ہیں۔ اِن کی تحریر میں ایک نئی دُنیا بستی ہے جو پڑھنے والوں کی آنکھوں میں بھی بَس جاتی ہے۔ یہ دُنیا در دُنیا بساتے ہیں۔

پھر ایک مُدت بیت جاتی ہے تو ان کو خیال آتا ہے کہ دُنیا میں تو کچھ بھی بدلاؤ نہیں آیا۔ وہ تو ویسی ہی ہے جیسی کہ ہوا کرتی تھی! یہ سچے لوگ ہیں سو خود ہی مان لیتے ہیں لیکن پھر بھی لکھتے رہتے ہیں۔ شاید کبھی کہیں کچھ بدل جائے اور تبدیلی کا خواب دیکھنے والوں میں ان کا شمار ہو جائے۔ شاید کہیں کچھ بدلتا بھی ہو۔ باہر نہیں تو اندر۔ ذہنوں میں، دلوں میں! کچھ تو ضرور بدلتا ہو گا۔

یہ وہی لوگ ہیں جو خوش نصیب ہیں، شاعر ادیب ہیں۔ اپنے خوش طینت، نیک نصیب گلزار بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔ گلزار کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، سو انہوں نے خوب کہا۔ فلم میں کہا، نظم و غزل میں کہا، کہانی میں کہا، جوانی میں کہا اور اب پیرانہ سالی میں بھی کہہ رہے ہیں۔

گلزار کا کہا ہوا کروڑوں دلوں تک پہنچا۔ سرحدوں کے پار گیا اور اس آواز کی طاقت کے آگے لکیروں کا جال ہار گیا۔ برقی مواصلات نے فضا میں ایسا جال بُن رکھا ہے جو زمینی لکیروں کی شناخت نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی فن کی کوئی لکیر تو ہوتی نہیں۔ گلزار کو فن آتا تھا سو دُنیا لکیریں پھاندتی آتی چلی گئی اور گلزار کے رنگ و بو میں بستی چلی گئی۔

:کسی نے پوچھا
یہ بمبئی کی فلمی صنعت میں گلزار ہیں کیا یہ ہندو ہیں؟ یا ہم میں سے ہیں
ہم نے کہا گلزار کو بس گلزار ہی سمجھیں تو اچھا ہے پھولوں کا ایمان تو آنکھوں کو جچنا ہے
وحید احمد (پیش لفظ، شفافیاں )

گلزار نے پر دۂ سیمیں پر گُل بوٹے کاڑھے تو دُنیا سَج سی گئی۔ فلمی مکالموں سے روزمرہ ترتیب پایا اور پھر ان کی کومل، سبک نظمیں۔
گلزار نے نئی نظم کو وہ سوچتا ہوا رنگ دیا ہے جو زمین سے اٹھتا ہے۔ خاکستری رنگ۔ اسی خاک رنگ سے سات رنگ دھنک سجتی ہے۔ زمین کے لوگوں کی باتیں، فلیٹوں میں رہنے والے لوگ، جب سیلاب آ جائے، بتی چلی جائے، خط کا انتظار ہو، چادر کھینچ کر سوئی پڑی حسینہ، خون میں لت پت اخبار، دو وقت روٹی کی چکی میں پستے ہوئے لوگ۔ یہ سب کچھ گلزار کی نظم میں ہے۔

ان کی زبان نکھری نتھری ستھری، گنگا جمنی اُردو زبان جو ایک طرف عربی اور فارسی تو دوسری جانب ہندی اور سنسکرت سے سیراب ہوتی ہے۔ گلزار کی نظمGulzar جب سبک ملائم رو میں بہتی ہے تو معنی کے کنول سطحِ آب کو سجاتے رہتے ہیں۔ گلزار کی نظم جدید نظم نگاری سے نہ صرف ہم آہنگ ہے بلکہ آگے بڑھ کر سوچتی بھی ہے۔ یہ نظم نرمی سے سوال اٹھاتی ہے۔ غزل کی روایتی تلازمہ کاری اور طرزِ اَدا سے بچ بچا کر اپنی راہ چلتی ہوئی نظم جس پر گلزار کے اپنے دستخط ثبت ہیں۔ نظم جو بیک وقت سہل بھی ہے اور گہری بھی۔

سارا دِن میں خُون میں لَت پَت رہتا ہوں
سارے دن میں سُوکھ سُوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے
خون کی پپڑی سی جم جاتی ہے
کھرچ کھرچ کے ناخنوں سے چمڑی چھلنے لگتی ہے
ناک میں خُون کی کچی بُو
اور کپڑوں پر کچھ کالے کالے چُکتے سے رہ جاتے ہیں
روز صبح اخبار مرے گھر خون میں لت پت آتا ہے
(آشوب)
گلزار نے غزل کہی تو پُرتاثیر کہی، تازہ کہی اور خوش آہنگ کہی۔ گاتی ہوئی رقص کرتی ہوئی غزل۔

تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کی
کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی
آنکھوں اور کانوں میں کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں
کیا تم نے اُڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی

گرم لاشیں گری فصیلوں سے
آسماں بھر گیا ہے چیلوں سے

ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا
میری تصویر جو گرتی تو چھناکا ہوتا
کیوں مری شکل پہن لیتا ہے چھپنے کے لئے
ایک چہرہ کوئی اپنا تو خدا کا ہوتا

افسانے کی کہانی گلزار خود بیان کرتے ہیں۔

”ہم نثر بھی پڑھتے تھے۔ کبھی کبھی کوئی کہانی ڈَس جاتی تو دنوں ہائے ہائے کرتے۔ شعر پہ شعر تو چڑھ جاتے لیکن کہانی مہینوں نہ اُترتی۔ تب جی چاہتا ہم بھی ایک بار کہانی لکھیں گے“

(گلزار، پیش لفظ، دستخط)
اب صورت یہ ہے کہ گلزار کی کہانی پڑھ کر ہم لوگ مہینوں ہائے ہائے کرتے ہیں پھر بھی پھانس دل سے نکلتی نہیں۔ برسوں بیتے ”فنون“ میں ”گاگی اور سپرمین“ پڑھی تھی۔ آخری فقرہ آج بھی خنجر کی طرح دل میں پیوست ہے :۔

”خدا بھی سپرمین کی طرح ہے۔ کتابوں میں بہت کچھ کر لیتا ہے“ اس کہانی کے آخر میں سرطان میں مبتلا ننھی گاگی مر جاتی ہے!

پاک بھارت سرحدی جھڑپوں پر لکھا گیا ان کا افسانہ ”اوور“ پڑھا تو یہ فقرہ کانوں میں ہمیشہ کے لیے رُک گیا ”بم سے تو بیڑی بھی نہیں سلگا سکتے“

اور وہ شاہکار افسانہ جو پورے کا پورا یوں وجود میں گھل گیا ہے جیسے پانی میں نیل، کہ کپڑا بھگو کر نکالو تو نیلا، زہر بھرا۔ اس افسانے کا عنوان ہے ”مائیکل اینجلو“ یہ کہانی کبھی بھی خود کو کہنا بند نہ کرے گی۔

”میں وہی یسوع ہوں جیسے تم یہودہ نقش کر رہے ہو“

کہانیاں ہیں اور کہانی کار ہے۔ نظمیں ہیں اور نظم نگار ہے۔ غزلیں ہیں اور غزل کا دلدار ہے۔ فلمی گیت ہیں اور رَس بھرا فنکار ہے۔ یہ سارے پُھول ایک ساتھ کِھل جائیں تو ”گلزار“ ہے۔ ہم سب کا گلزار۔ سب کا سانجھا گلزار۔ برصغیر کے باغ سے اُٹھی یہ خوشبو دُنیا کے کونے کونے تک پہنچی ہے۔

دینہ (جہلم) میں پیدا ہو کر ممبئی میں زندگی گزارنے والا سمپورن سنگھ کالرا کہیں بھی رہے، دراصل وہ دلوں میں رہتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ گلزار تو ”وہاں“ کے ہیں۔ میں دِل پہ ہاتھ رکھ کے کہتا ہوں گلزار یہاں کے ہیں۔

شہزاد نیّرؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیا ایسانہیں ہوسکتا
  • ماں قوم کی استاد ہوتی ہے
  • فطرت کے دامن میں خاموش جذبات
  • حکومت، حکمراں اور طریقۂ حکمرانی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟
پچھلی پوسٹ
کوئی تھا نہ ہے نہ ہوگا

متعلقہ پوسٹس

جوانی

دسمبر 9, 2019

پٹھانے خان

مارچ 14, 2025

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

مئی 12, 2026

فیصل آباد کرونا کا گڑھ بن چکا ہے

جون 7, 2020

موت کا راز

جنوری 17, 2020

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

اپریل 6, 2020

سیڑھیوں والا پُل

مارچ 20, 2020

شہرت عام اور بقائے دوام کا دربار

جنوری 15, 2026

مہتاب خاں

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

الفاظ ایک قیمتی خزانہ

نومبر 27, 2024

اچھے دن آنے والے ہیں

نومبر 12, 2025

توکل کیا ھے؟

نومبر 5, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں