خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشمالی علاقہ جات کی سیاحت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2023
از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2023 0 تبصرے 72 مناظر
73

پاکستان کے نقشے پر مشرق سے مغرب کی طرف نظر دوڑائیں تو سب سے پہلے کشمیر کی وادی آتی ہے جو کہ شمال میں مزید مشرق کی طرف جھک کر بلتستان میں داخل ہو جاتی ہے۔ مغرب کی طرف بڑھتے ہوئے کاغان، سوات، ہنزہ اور پھر چترال تک ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑوں میں گھری یہ وادیاں ایک دوسرے سے مختلف اور انوکھے رنگ لیے ہوئے ہیں۔ بلتستان میں اٹھلاتی بل کھاتی ندیاں مغرور حسیناؤں کی طرح دامن اٹھا کر چلتے ہوئے خود کو اباسین کے دھارے کے حوالے کر دیتی ہیں، جس کے دور تک پھیلے ہوئے ریتلے، چمچماتے، دودھیا کہر میں لپٹے دامن میں برفاب چھپاکے مارتا ہوا دوڑتا چلا جاتا ہے۔

اس وادی میں آسمانوں کو چھوتے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان جہاں کہیں پانی کی دھارا مٹی سے ملاپ کرتی ہے وہیں ان کنجوں میں حسیناؤں کے گالوں کے ہم رنگ پھول اور ان کے ہونٹوں جیسے سرخ پھل اپنی جوانی بکھیرتے ہیں۔

کشمیر کی تو بات ہی الگ ہے، وہاں کی ندیاں، جہلم و نیلم کے سنگ سنگ پتھروں سے ٹکراتی اٹھلاتی ہیں تو ان حسیناؤں کے پیروں کے بچھوے اپنے ڈنک اٹھائے دشمنوں کی تلاش میں پا بارکاب نظر آتے ہیں۔ دو دہائیاں گزر گئی ہیں کہ دشمن اپنے بل میں چوہیا کی طرح دبک گیا ہے اور وادی باہیں پھیلائے بروگی عشاق کے لیے چشم براہ ہے۔ کشن گنگا ایمان و دین کا افشردہ پیتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو لعل و نیلم، در و گوہر ساتھ لاتا ہے۔ اس کے جھرنوں کا پانی معشوق کی زبان کے نیچے پھوٹنے والے سوتوں کی طرح امرت رس بھرا ہوتا ہے۔

وادی کاغان میں ہمالیہ کی ہریالی اور برفشانوں کی چاندی دیوانہ بنا دیتی ہے۔ تنی ہوئی چھاتیوں جیسی پہاڑیاں، ہمہ ناز درز پستان جیسے تنگ درے جن کے نیچے کنہار کی وہ موجیں جنہوں نے محبوبہ کی کمر کے بل پر چلنا اور اچھلنا سیکھا۔ ٹھنڈی ہوائیں، معشوق کی ناف کے اتھلے پیالے سے مشک چرا کر لاتی ہیں۔ پہاڑوں کی بلندی سے گرتی ہوئی سیمیں آبشاروں میں ملکہ پربت موتی لٹاتی ہے۔ جھیلیں نٹ کھٹ دیویوں کی مدھ بھری آنکھوں سے بھی گہری، جس میں سیف الملوک جیسے مصری شہزادے بدیع المثال موتی ڈھونڈتے ڈھونڈتے ڈوب کر مکت ہو جاتے ہیں۔

بدھا کی پالتی کے زیر سایہ بستے سوات کی پرسکون ہواؤں میں اس قدر شانتی ہے کہ ان پر کئی عمریں قربان کی جا سکتی ہیں۔ موسم بہار کے آتے ہی شگوفہ زار قابل دید ہوتے ہیں۔ آڑو اور سیب کی عریاں شاخیں سفید، گلابی اور کاسنی پھولوں کا لباس پہن لیتی ہیں۔

کوئل یوں گاتی ہے جیسے بانسری بج رہی ہو، پیپیہا پی پی پکارتا ہے۔ ہوائیں آنے والے خوشگوار دنوں کا سندیسہ دیتی ہیں۔ برف پگھلتی ہے تو اشو اور اتروڑ ندیوں کا بہاؤ یوں بڑھ جاتا ہے جیسے محبوبہ چپکے چپکے چھپ کے ساجن سے ملنے جا رہی ہو۔ ان کا اٹھلانا، پتھروں سے ٹکرا کر اچھلنا اور پھر انہیں پتھروں میں چھپ جانا، سب وہی ادائیں ہیں۔ وادی اشو میں یہ ندی مہوڈنڈ جھیل کا روپ دھار کر یوں بکھر جاتی ہے جیسے وصال کی تھکن کے بعد الہڑ پہاڑن ریشمی گھاس جیسے بستر پر اوھندی پڑی ہو۔ اس جھیل کے شفاف پانی میں چمکدار ٹراوٹ تیرتی نظر آتی ہیں۔

ہزاروں بل ہیں اس کی چال میں۔ چترال تک پہنچتے پہنچتے سر بن پیے یوں گھومتا ہے کہ بادہ ریحانی و ارغوانی کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔ اس وادی میں سردی و گرمی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ مضطرب بادل امڈ آئیں، ننھی ننھی بوندیں حجاب ابر سے گرنا شروع کر دیں تو ٹھنڈی ہوائیں پسلیوں کے اندر دھنسی جاتی ہیں لیکن اساڑھ کا سورج چمکنا شروع ہو جائے تو اس کی دھوپ سے بدن میں چنگیں پڑنے لگتی ہیں۔

ان وادیوں میں سب کچھ ہے، بن پیے نشہ چڑھ جاتا ہے۔ یہاں عشرت افزا گلشن، تر و تازہ چمن، آب ہائے رواں اور چشمہ سار بے حساب و بے شمار ہیں۔ پہاڑوں سے گرتی آبشاروں کا ہجوم ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہواؤں کے دوش پر تیرتے رودباروں کا ہجوم یوں چکر لگاتا ہے جیسے مے گساروں اور بادہ خواروں کا ہجوم مے خانوں کی طرف امڈا چلا آتا ہے۔

ان کہساروں میں وہ سب کچھ ہے، جسے دیکھنے کی حسرت انسان کو دور دراز سے ادھر لے آتی ہے۔ سدا بہار گلزار دیکھنے کو لوگ بے تاب و بے قرار دوڑے چلے آتے ہیں۔ بہت پہلے چین سے ہیون سانگ آیا، مشرق وسطیٰ سے البیرونی، فرانس سے ڈاکٹر برینئر۔ اور بھی بہت سے لوگ پوری دنیا سے علم و ہنر سیکھنے، تجارت کرنے اور سیر سیاحت کے لیے ان علاقوں کا رخ کرتے رہے۔ صدیوں تک ان علاقوں میں بدھ مت کے سٹوپا اور ان کی بڑی بڑی جامعات میں شانتی و امن کی تعلیم دی جاتی رہی۔ یہاں سب کچھ ملتا تھا۔ آزادی تھی تو لوگ بھی آتے تھے۔ شاہراہ ریشم اور درہ خیبر سمیت کئی اہم تجارتی راستے ادھر سے گزرتے ہیں۔ اب کوئی غیر ملکی ادھر نہیں آتا۔ لوگ ہی لوگ ہیں لیکن صرف مقامی۔ کیوں؟

اب سوات کی وادی میں پرسکون ہوائیں تو ہیں شانتی نہیں، معشوق کی آنکھوں جیسی گہری جھیلیں تو ہیں، جھیل سی گہری آنکھیں ڈر کے مارے پردہ نشیں ہو گئی ہیں۔ مدھ بھری چال جیسی ندیاں تو ہیں مدھرا کہیں سے نہیں ملے گی۔ معشوق کے اتھلے ناف پیالے سے ہوائیں تو مشک چرا کر لا سکتی ہیں، بھنور جیسے پیالے کی گہرائیوں پر قوت شامہ کو آزمایا نہیں جاسکتا۔ ان وادیوں کو دیکھ کر بن پیے نشہ تو چڑھ جاتا ہے لیکن نشے میں بہکنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ ٹھنڈی ہوائیں جب پسلیوں کے اندر دور تک دھنستی ہیں تو سینوں کو گرمی پہنچانے کا سامان کہیں بھی میسر نہیں۔ تیز دھوپ سے جب بدن میں چنگیں پھوٹنے لگیں تو ٹھنڈ حاصل کرنے کے لیے صرف برفاب ہی سر پر انڈیلا جا سکتا ہے، برف بھرا پیالا ہونٹوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ پہاڑی راستوں کی سیاحت سے نڈھال ہو کر ریشمی پلنگوں پر پڑے رہو۔ کسی بدن کی سیاحت سے نڈھال ہونے کا کوئی سوچے بھی نہ ورنہ کوئی مقامی ایسے گرم بندے کا سر پھوڑ کر اسے مکمل طور پر ٹھنڈا کر دے گا۔ کوئل تو بانسری کی آواز نکال سکتی ہے اور پپیہا پی پی پکار سکتا ہے کسی میوزیکل پروگرام میں پی کی جدائی کا راگ نہیں الاپا جاسکتا کیونکہ طالبان کے شاگرد لاٹھیاں کندھے پر اٹھائے دندناتے پھرتے ہیں۔

تجارتی راستے موجود ہیں، ان پر قیمتی گاڑیاں دوڑتی ہیں قیمتی سامان کی نقل و حمل مفقود ہے۔ دختر رز تیار کرنے والی مری کی اکلوتی فیکٹری اب انار و انگور کا افشردہ تیار کر رہی ہیں۔ ہم غیر ملکی سیاح کو ضرورت کا کوئی بھی ساماں مہیا نہیں کریں گے۔ ہمارے معاشرے میں خوبصورت لڑکی پر چچیرے ممیرے بھائی ہی قبضہ جما لیتے ہیں، ان سے بچ جائے تو اہل محلہ و قرابت دار اپنا حق جتلاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے شمالی علاقہ جات کی دلہنیا بھی اپنوں کے ہاتھوں ہی لٹنے کے لیے پیدا ہوئی ہے کوئی مصری شہزادہ اب اسے بیاہنے نہیں آ سکتا۔ یہ سوہنی چناب کے ٹھنڈے پانی میں ڈوب مرے گی، بلخ و بخارا کے مہینوال جیسا کوئی تاجر اس کی مانگ نہیں سنوار سکے گا۔

ہم سیاحت کو فروغ دیں گے لیکن ان اوچھے بھونڈے چھوکروں کے لیے جو ناران کے بازاروں، کیلاش کی پر پیچ گلیوں اور کشمیر کے چوراہوں میں بیٹھ کر کھیتوں سے لے کر بن ماں باپ کی سڑکوں، گاڑیوں، پہاڑیوں تک ہر چیز کی ماں بہن سے اپنے جنسی تعلقات کا زور شور سے اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

(پچھلے سال یوکے ویزا اپلائی کرنے کے لیے میر پور آزاد کشمیر جانے کا اتفاق ہوا۔ ٹی بی ٹیسٹ کی رپورٹ شام کو ملنی تھی۔ کچھ گھنٹوں کے لیے ہوٹل کا کمرہ لینے کا سوچا ہوٹل والوں نے پوری فیملی کے کارڈ مانگ لیے۔)

پوچھا، کیوں؟
کیا ایک ہی بندے کا شناخت نامہ کافی نہیں؟
جواب ملا کہ یہاں بہت سختی ہے۔

سامنے لگے ہدایت نامہ پر نظر پڑی جس میں یہ سب واضح طور پر لکھا تھا اور ہاں نیچے ایک سطر میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ نوجوان جوڑے نکاح نامہ دکھائیں۔

اس سال عید کے بعد محکمہ سیاحت نے پشاور سے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 8 لاکھ 90 ہزار 722 ملکی اور 55 غیر ملکی سیاحوں نے خیبر پختون خواہ صوبے کا رخ کیا۔

گزشتہ ایک ماہ میں گلیات میں 3 لاکھ 33 ہزار 666 ملکی اور 4 غیر ملکی سیاح آئے۔

 

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پریشے کا مقدر
  • آج یاد آرہی ھے
  • مجھ کو دے دے خوشی محبت کی
  • مندر والی گلی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سمینٹ میں دفن آدمی
پچھلی پوسٹ
کتنے پل صراط

متعلقہ پوسٹس

آخری آندھی نے سب کچھ پہلے جیسا کر دیا

مئی 13, 2020

پاکستانی اُردو ناول

اپریل 19, 2023

اپنے وطن میں امن و اماں

مارچ 19, 2025

نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے

مئی 9, 2020

غزہ کی پکار

اپریل 7, 2025

جیسا بیج ویسا پھل

فروری 14, 2020

سرخی میں جذب لمحے

دسمبر 22, 2024

مراۃ العروس : ڈپٹی نذیر احمد

اپریل 12, 2025

صدام حسین

مارچ 8, 2026

سید ضمیر جعفری

نومبر 25, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اعصاب شکن!

فروری 26, 2024

یوں اپنے آپ سے بیٹھے

جولائی 6, 2025

ہے ترے عشق کے

جولائی 6, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں