خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےبےجسم
اردو افسانےاردو تحاریرایم مبین

بےجسم

از سائیٹ ایڈمن مئی 23, 2023
از سائیٹ ایڈمن مئی 23, 2023 0 تبصرے 55 مناظر
56

واپس گھر پہنچنےتک ٩ بج گئےتھے۔

اسےجھنجھلاہٹ ہورہی تھی ۔ ہر بار وہ چاہتا ہےکہ جلد سےجلد گھر پہنچےلیکن اُس کی یہ چاہ کبھی پوری نہیں ہوتی تھی ۔ آفس سےنکلنےکےبعد راستےمیں کچھ نہ کچھ مسائل اُٹھ کھڑےہوتےتھےاور وہ تو دس بجےہی گھر پہونچ پاتا تھا ۔

کبھی آفس کی مصروفیات یا باس کا کوئی آرڈر اُسےآفس سےجلد نہ نکلنےکےلئےمجبور کردیتا تھا ۔ تو کبھی لمبی مسافت کا سفر اور سفر کےدوران پیش آنےوالےواقعات ۔

اس نےکبھی بھی اس کےگھر پہونچنےپر مایا کےچہرےپر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی ۔

اسےدیکھ کر مایا کےچہرےپر کوئی تاثر نہیں اُبھرتا تھا اور وہ کسی روبوٹ کی طرح بیزار سی اس کی خدمت میں لگ جاتی تھی ۔

خدمت کیا ‘ اُس کےاُتارےکپڑوں کو سلیقہ سےلےجاکر ہینگر میں لگانا ، اسےگھر میں پہننےوالےکپڑےدینا ، جب وہ واش بیسن سےمنہ دھوکر ہٹےتو ٹاول لےکر کھڑی رہنا ۔

اس کےبعد بہت مختصر سےمعمولات ہوئےتھے۔

دونوں ساتھ کھانا کھاتے، تھوڑی دیر تک ٹی وی دیکھتےاور سوجاتے۔ سویرےجلدی اُٹھ کر مایا اس کےلئےٹفن بناتی اور وہ دفتر جانےکی تیاری کرتا اور آٹھ بجےسےپہلےگھر چھوڑ دیتا ۔

اس دِن جب وہ کمرےمیں داخل ہوا تو رگھو اطمینان سےبیٹھا کُرسی بنا رہا تھا ۔ مایا ٹی وی دیکھ رہی تھی ، اس کی آہٹ سن کر مایا نےپلٹ کر اُسےدیکھا ، اس کےچہرےپر کوئی تاثر نہیں اُبھرا ، وہ دوبارہ ٹی وی دیکھنےمیں مصروف ہوگئی ۔

رگھو نےاس کی آہٹ پاکر سر اٹھا کر اسےدیکھا اور دوبارہ اپنےکام میں مصروف ہوگیا ۔

اس کےچہرےپر اطمینان اور ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔

اس نےاندازہ لگالیا تھا ‘ سب کچھ ٹھیک ہے۔

بجوکا اپنی جگہ کھڑا ہے، اس کےسر کی جگہ رگھو کا سر لگا ہوا ہےاور وہ اپنےفرائض انجام دےرہا ہے۔

اسےاطمینان محسوس ہوتا ‘ جیسےیہ اطمینان اس کی سب سےبڑی دولت ہے، اس کی زندگی کا حصول ہے۔ اس اطمینان کو قائم رکھنےکےلئےوہ زندگی کی جنگ لڑ رہا ہےاور اس اطمینان میں اس کی فتح یابی پنہاں ہے۔

وہ ایک کسان ہےاس کےماں باپ ، دادا ، پردادا کسان تھی۔گاو

ں میںزراعت کرتےتھی۔اس نےکھیتی نہیں کی ہی۔ وہ اپنےگاو

ں اور کھیت سےکوسوں دُور ہے۔ لیکن اس کی فطرت نہیں بدل پائی ہے۔ ایک کسان کی طرح اسےسب سےزیادہ فکر اپنےکھیت کی رہتی ہے۔

لیکن یہاں تناظر بدل گیاہے۔

اس کےپاس کھیت نہیں ہےوہ اپنی زمین ، کھیت ، گاو

ں سےبہت دور ہے۔اسےان کی کوئی فکر نہیں ہے۔

لیکن نئےتناظر نےاسےایک نئی فکر دےدی ہے۔

مایا

مایا اس کےلئےایک مسئلہ ہے۔ اس کی سب سےبڑی فکر ،پریشانی ہے۔اس کی زندگی کی سب سےبڑی اُلجھن ہے، اُس کی سب سےبڑی چنتا ہے۔

مایا اس کی بیوی ۔

کبھی کبھی اسےمحسوس ہوتا ہےکہ اس نےمایا سےشادی کرکےسب سےبڑی غلطی کی ہے۔

لیکن جب سنجیدگی سےسوچتا تو اسےیہ اپنی کوئی غلطی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔

اسےشادی تو کرنی تھی ، بنا شادی کےتو وہ جی نہیں سکتا تھا ۔

اگر مایا سےشادی نہیں کرتا تو کسی ریکھا ، رُوپا یا گنگا سےشادی کرتا ۔

اور جب اپنےحالات پر غور کرتا تو اُسےمحسوس ہوتا ‘ جو بھی لڑکی اس کی بیوی بن کر آتی‘اس کےلئےوہی مسئلہ ہوتی جو مایا ہے۔

کبھی سوچتا مایا سےہمیشہ کےلئےنجات پالے۔

لیکن بھلا مایا سےنجات ممکن ہے؟

کبھی سوچتا مایا کو اپنےگاو

ں یا اس کےمیکےبھیج دے۔ لیکن دونوں میں سےکوئی بھی کام مسئلہ کا حل نہیں تھا ۔ وہ اور مایا اسی مسئلہ میں گھری رہتی جس میں آج گھری ہے۔

آج کم سےکم مایا کےپاس یہ احساس تو ہےکہ رات کو اس کا پتی اس کےپاس ہوتا ہے۔ اگر وہ مایا کو اپنےگاو

ں یا اس کےمیکےبھیج دےتو اس سےیہ احساس بھی چھن جائےگا ۔ تب اس کی حالت کیا ہوگی ؟ اور وہ کیا کر ڈالےگی اس کےتصور سےہی اس کی رُوح کانپ اُٹھتی تھی ۔

مایا اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مایااسےپسند ہےوہ مایا کو بےحد چاہتا ہے۔ مایا بھی ایک سعادت مند بیوی کی طرح اس کی ہر طرح سےخدمت کرتی ہے۔ اس کا ہر طرح سےخیال رکھتی ہے، اس نےاسےزندگی میں کبھی کوئی کمی محسوس نہیں ہونےدی ہے۔

اور اس نےبھی اپنی جان سےبڑھ کر مایا کا خیال رکھا ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتا ہےاپنےاور مایا کےلئےہی تو کرتا ہے۔ ان کی زندگی میں اور کوئی بھی نہیں ہے۔ اسےمایا کی ہر خواہش ، ہر مانگ کو پوری کرنےمیں رُوحانی مسرت ہوتی ہےاس کا دِل چاہتا ہےکہ مایا اس سےکوئی چیز مانگےاور فوراً مایا کی مانگ پوری کرےیا مایا کی مانگ پوری کرنےکےلئےاپنےتن ، من ، دھن کی بازی لگادے۔

لیکن مایا کا رویّہ اُس کےلئےایک سوالیہ نشان تھا ۔

صرف کبھی کبھی ہی نہیں ‘ ہمیشہ اسےمایا کےرویّےسےایسا محسوس ہوتا تھا جیسےمایا اس کےساتھ خوش نہیں ہےیا مایا اسےشریک حیات کےطور پر پاکر خوش نہیں ہے۔

اِ س بات کو سوچ کر اس پر ایک افسردگی کا طوفان چھا جاتا تھا ۔ اس کی آنکھوں کےسامنےاندھیرا چھانےلگتا تھا اور دِل کی دھڑکنیں ڈوبنےلگتی تھی ۔

” آخر مجھ میںکیا کمی ہے، میں نےمایا کی کسی خواہش کو پورا نہیں کیا ہے، مایا کی زندگی میں ایسی کون سی کمی رکھی ہےجو مایا میرےساتھ خوش نہیں ہے۔ ؟ “

وہ خود سےیہ سوال بار بار کرتا تھا ۔ لیکن اس میں مایا سےیہ سوال پوچھنےکی ہمت نہیں تھی ۔

وہ ڈرتا تھا کہ اگر مایا اس بات کا اقرار کرلےکہ وہ اس کےساتھ خوش نہیں ہےاور اپنی زندگی کی اس کمی کےبارےمیں بتادےجو وہ پوری نہیں کرپارہا ہےتو شاید اس کی زندگی میں ایسا طوفان آجائےگا جو دونوں کو بہالےجائےگا اور ہمیشہ ہمیشہ کےلئےایک دُوسرےکو جدا کردےگا ۔

یہ سوال جیسےاس طوفان کو روکنےوالا دروازہ تھا اور وہ خود یہ سوال پوچھ کر اس طوفان کا دروازہ کھول کر اس کی تاب لانےکی سکت نہیں رکھتا تھا ۔

دھیرےدھیرےاسےمایا کی خواہشات کا پتہ چلنےلگا تھا ۔ مایا چاہتی تھی کہ وہ مہینےمیں ایک دوبار کسی دُوسرےشہر سیر و تفریح کےلئےجائے، ہر شام جلد گھر آجائےاور اسےلےکر شہر کےتفریحی مقامات پر جائے، ہوٹلوں میں کھانا کھائے، فلمیں دیکھے، اپنےدوست اس کی سہیلیوں کےگھر پارٹیوں میں لےجائے۔

اور اتوار کا دِن کا تو ایک لمحہ بھی گھر میںنہ گذارے۔

لیکن سب کچھ مایا کی اُمیدوں کےبرخلاف ہوتا تھا ۔

آفس کی مصروفیات کی وجہ سےوہ رات نو ، دس بجےسےپہلےگھر نہیں آپاتا تھا ۔

کوئی سرکاری نوکری نہیں تھی کہ پانچ بجےبھی اگر دفتر چھوڑدیا جائےتو کوئی جواب طلب کرنےکی ہمّت نہیں کرےگا ۔

پرائیویٹ سروس تھی ۔ ہر لمحہ ، قدم قدم پر باس منیجمنٹ کا خیال رکھنا پڑتا تھا ۔

آفس آنےکا وقت متعیّن تھا ۔ اس میں تاخیر نہیں ہوسکتی تھی ۔ لیکن آفس سےجانےکا کوئی وقت متعیّن نہیں تھا ۔ اگر رات کےبارہ بھی بج جائےتو بنا کام پورا کئےگھر جانےکی اجازت نہیں تھی ۔

مایا کو اس کی اس مجبوری کا علم نہیں تھا ۔

ویسےوہ مایا کو سیکڑوں بار اِس بارےمیں سمجھا چکا تھا ۔

لیکن مایا کی خواہشات کےآگےاس کی مجبوریاں کچھ نہیں تھیں ۔ ہفتہ بھر تو صبح آٹھ بجےسےنو، دس بجےتک گھر کےباہر ہی رہنا پڑتا تھا ۔ کھانا کھانےکےبعد بھلا جسم میں اتنی قوت کہاں باقی بچتی تھی کہ کہیں باہر جایا جائےیا رات زیادہ دیر تک جاگ کر آوارگی سےلُطف اندوز ہوا جائے۔ کیونکہ سامنےصبح جلدی اُٹھ کر آفس جانےکا آسیب منہ پھاڑےکھڑا ہوتا تھا ۔

اتوار کو اس کا من چاہتا تھا ‘ وہ ہفتہ بھر کام کی تھکن اُتارے۔ اور دِن بھر سوتا رہے، دِن بھر تو سو نہیں پاتا تھا ، اُٹھ کر تیّار ہونےاور دوپہر کا کھانا کھانےمیں دو بج جاتےتھے۔ پھر ایک دو گھنٹہ کےلئےبھی باہر جانا ہوگیا تو اچھی بات تھی ۔ اگر کوئی مہمان آگیا تو وہ بھی ممکن نہیں تھا ۔ ایسےمیں مایا کی خواہشات کیسےپوری ہوسکتی تھیں ۔

اس کےآفس جانےکےبعد وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی ۔ اس کا آفس بھی گھر سے٠٦ ، ٠٧ کلومیٹر دور تھا ۔ وہ مایا کی خبر بھی نہیں لےسکتا تھا ۔ نہ مایا اس کی خیریت پوچھ سکتی تھی ۔

شادی کےبعد برسوں تک یہی معمولات چلتےرہتے۔

ان میں کچھ دِنوں کی تبدیلی اس وقت آئی تھی جب وہ دونوں ایک دودِنوں کےلئےگاو

ں جاتےتھے۔ لیکن یہ صرف سالوں میں ہی ممکن تھا ۔

پھر دھیرےدھیرےاسےایسی خبریں ملنےلگیں جن کو سن کر اس کی زندگی کا سکون درہم برہم ہوجاتا تھا ۔

آس پڑوس والوں نےبتایا کہ اس کےآفس جانےکےبعد مایا گھنٹوں گھر سےغائب رہتی ہی۔ اس سےملنےاجنبی لوگ گھر آتےہیں اور گھنٹوں گھر میں رہتےہیں ۔

اس نےاس سلسلہ میں جب مایا سےپوچھا تو مایا کےپاس اس کا بڑا سیدھا سا جواب تھا ۔

آج اس سہیلی کےگھر اس سےملنےگئی تھی ۔

ملنےکےلئےآنےوالا وہ مرد میری اس سہیلی کا شوہر تھا ۔ وہ یہ چیزیں لینےکےلئےگھر آیا تھا ۔

مایا کےاس جواب کےبعد دوبارہ کوئی سوال کرنےکی اس کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی ۔

دھیرےدھیرےایسےثبوت ملنےلگےکہ اس کا شک یقین ہےاور مایا کی ہر بات جھوٹی ہے۔

گھر میں فون تو نہیں تھا جس کےذریعےپتا لگایا جاسکےکہ مایا گھر میں ہےیا نہیں ؟ پڑوس میں فون تھا ، دوچار بار اس نےپڑوس میں فون لگا کر مایا کو فون پر بلاناچاہا ، ہر بار اسےجواب ملا کہ گھر پر تالہ لگا ہے۔

رات میں اس سلسلہ میں اس نےمایا سےپوچھا تو مایا کا جواب تھا ۔

” وہ لوگ جھوٹ کہتےہیں ، میں تو ایک لمحہ کےلئےبھی گھر سےباہر نہیں نکلی ۔ پر تالہ لگا ہے، میں گھر میں نہیں ہوں ، یہ کہہ کر وہ مجھےبدنام کرنا چاہتےہیں اور تمہارےدِل میں بدگمانی پیدا کرنا چاہتےہیں ۔ ‘

مایا کا جواب اسےاُلجھن میں ڈال دیتا تھا ۔

سچائی کا پتہ اس وقت لگ سکتا تھا جب گھر میں کوئی گھر کا بڑا ہو ، گھر کےکسی بھی چھوٹےبڑےآدمی کےگھر میں آئےمایا کا گھر سےباہر قدم نکالنا مشکل تھا ۔ نہ اس کےہوتےکوئی غیر مرد گھر میں آسکتا تھا ۔

اُس کا دُنیا میں کوئی بھی تو نہیں تھا ۔ماں ، باپ ، بھائی ، بہنیں ، کوئی بھی تو نہیں جس کو وہ گھر میں لاکر رکھتا تاکہ مایا کےپیروں میں زنجیریں پڑی رہے۔

ایک ہی راستہ تھا جو مایا کو راہ پر لاسکتا تھا ۔ لیکن وہ راستہ بھی اسےمسدُود محسوس ہورہا تھا ۔

اسےاپنا بچپن یاد آیا ۔

وہ بچپن میں اپنےماں باپ کےساتھ کھیتوں میں جایا کرتا تھا ۔ ماں باپ دِن بھر کھیتوں میں کام کرکےاپنےخون پسینےسےسیراب کرکےکھیتوں کو لہلہاتےتھے۔

جب فصل پک جاتی تو اس فصل کو پرندوں سےبچانا سب سےبڑا مسئلہ ہوتا تھا ۔

اس کےلئےوہ کئی طریقےاستعمال کرتےتھے۔

ڈھول تاشےبجا کر شور مچاکر پرندوں کو اُڑاتےتھے۔

اور ہر فصل کےساتھ ایک بجوکا تو بنایا جاتا ہی ہے۔

لکڑیوں سےبنا ہوا بجوکا ، جس کو پرانےکپڑےپہنادئےجاتےتھے۔ اور سر کی جگہ ایک ہانڈی لگادی جاتی تھی ۔ جس پر یہ بھیانک آنکھیں منہ ، ناک وغیرہ بنادئےجاتےتھے۔ تب پرندےاسےکوئی انسان سمجھ کر پھر اس طرف کا رُخ نہیں کرتےتھے۔

اسےشدت سےاحساس ہونےلگا اسےاپنےگھر کی حفاظت کےلئےایک بجوکا کی ضرورت ہے۔

جو اس کےکھیت کی حفاظت کرسکے۔

کچھ ماہ قبل اسےاس کےچاچا کا خط ملا تھا ۔

” رگھو نےبہت پریشان کر رکھا ہے۔ ٨١ سال کا ہوگیا ہےکوئی کام دھندا نہیں کرتا ہی۔ اسکول وغیرہ تو بہت پہلےہی چھوڑ چکا ہے۔ اسےاپنےپاس بلا کر کسی کام دھندےسےلگادو ۔ ورنہ بگڑ جائےگا ۔ “

اس خط کو یاد کرکےاس کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں ۔

اسےایسا محسوس ہوا جیسےاسےاپنےگھر کےلئےبجوکا مل گیا ہے۔

رگھو اگر صرف اس کےگھر میں رہےتو بھی کافی ہوگا ۔ بھلےسےوہ کوئی کام نہ کرے، کم سےکم اس کےگھر ، مایا کی حفاظت تو کرےگا ۔ اس نےچاچا کو خط لکھا کہ رگھو کو اس کےپاس بھیج دیں ۔

آٹھ دِن بعد ہی رگھو اُن کےپاس آگیا ۔

اور جیسےاس کی ساری پریشانیاں دُور ہوگئی تھیں ۔

وہ دِن بھر گھر میں بیٹھا ٹی وی پر فلمیں دیکھا کرتا تھا یا گھر کےچھوٹےموٹےکام کیا کرتا تھا ۔

رات کو جب وہ گھر آتا تو مایا کو اپنےکام میں مصروف پاتا اور رگھو کو اپنے۔

وہ اپنےتصور کےبجوکا کو دیکھتا تو اس کےسر کی جگہ اسےرگھو کا سر لگا نظر آتا اور وہ مسکرا کر اس سےکہتا میں اپنا فرض بخوبی نبھا رہا ہوں ۔

رگھو کےآجانےسےمایا بھی بجھی بجھی سی تھی ۔ اس کی ساری آزادی سلب ہوگئی تھیں لیکن وہ چاہ کر بھی اس کےخلاف احتجاج نہیں کرپارہی تھی ۔

ایک دوبار دبےلفظوں میں اس نےاس سےکہا بھی ۔

” یہ رگھو کب تک یوں ہی گھر میں بیٹھا رہےگا ۔ اس کےلئےکوئی کام تلاش کرو ، ورنہ اس کےماں باپ ہم پر الزام لگائیں گےکہ ہم سےایک چھوٹا کام بھی نہیں ہوسکا ۔ ہم رگھو کو کام بھی نہیں دِلا سکتے۔ “

” میں اس کےلئےکام تلاش کررہا ہوں ۔“ کہہ کر وہ مایا کو لاجواب کردیتا تھا ۔

وہ سکون بھری زندگی گذار رہا تھا ۔ اس کی ساری پریشانیاں ، وسوسے، بدگمانیاں ، شک و شبہات رگھو کےگھر آجانےکی وجہ سےجیسےختم ہوگئے۔

ایک دِن جب وہ آیا تو اسےگھر کا ماحول کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہوا ۔

رگھو الماری کی صفائی کرتا ایک پوربی لوک گیت گارہا تھا ۔

اور مایا بھی دھیرےدھیرےکچھ گنگنا رہی تھی ۔

اس کا چہرہ پھول سا کھلا ہوا تھا ، چہرےاور آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی ۔

اس کا دِل دھڑک اُٹھا ۔

اس نےاپنےتصور کےبجوکا کو دیکھا تو اسےایک جھٹکا سا لگا ۔

اسےاس بجوکا کےسر کی جگہ رگھو کےبجائےاپنا سر لگا ہوا دِکھائی دےرہا تھا ۔

 

ایم مبین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مچھر
  • نیلی ساڑھی
  • نظام عدل
  • محبت کے بادل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
الاؤ
پچھلی پوسٹ
یودھا

متعلقہ پوسٹس

مرثیے اور قصیدے کی مشترک جہتوں کا جائزہ

جنوری 1, 2023

بُڈّھا کھوسٹ

جنوری 24, 2020

ایک ادنٰی سی استدعا

مارچ 30, 2020

ایک ماں کی ڈائری سے

جنوری 26, 2026

بے وزنی روح کی کہانی

نومبر 27, 2024

جشن آزادی اور شریعت

اگست 9, 2024

ووٹ کا صحیح استعمال

اپریل 3, 2022

روایات سے روشنی تک

جنوری 4, 2026

جفا کے راستے آسان نہیں ھوتے

دسمبر 19, 2024

قلم کی طاقت اور ذمہ داری

مارچ 12, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

نفسیاتی مطالعہ

ستمبر 16, 2013

اہل منصب ، دکھاوا اور انجام

جون 10, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں