خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابے انتہا محبت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو ناولبینا خان

بے انتہا محبت

از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2022 0 تبصرے 87 مناظر
88

اسلام آباد آئے اسے تیسرا دن تھا سوچا تھا یہاں آکے بزی ہو جائے گی تو کیا پتا زوار کی یادیں اس کا پیچھا چھوڑ دیں پر یہ اس کی خام خیالی تھی وہ ایک دن ہاسپٹل نہیں گئی تھی اٹھتے بیٹھتے اسے وہی یاد آتا انجانے میں ہی سہی وہ اس کی کال کا انتظار کرنے لگی تھی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وہ کیسے اس کو فون کرے گا لیکن پھر بھی دل کہتا تھا کبھی تو وہ پتا لگا ہی لے گا اتنے دنوں میں وہ یہ تو جان ہی گئی تھی کہ وہ زوار سے محبت کرنے لگی ہے لیکن اس فیلنگ انکاری تھی وہ فواد سے بےوفائی نہیں کرسکتی تھی بہت دنوں سے وہ فواد کو کئی بار کال کر چکی تھی پر وہ اب اس کا فون نہیں اٹھاتا تھا آج بھی وہ اسے کال کر رہی تھی اتنی کالز کی اس نے پر بےسود۔۔۔۔
اس نے دوبارہ کال کی اور اب کی بار فون اٹھالیا گیا
فواد اس ٹائم اپنی نیو گرل فرینڈ کے پاس بیٹھا تھا سیل پہ چمکتا نام ناگواری سے دیکھا اور کال ریسیو کی
” کون ہو کیوں فون کررہی ہو بار بار”
” فواد میں پریشے ہوں ”
” پریشے۔۔۔۔ اوہ ہاں ہاں پریشے۔۔۔۔۔ پریشے زوار ” پریشے کو دھچکا لگا
” فواد تم۔۔۔۔”
” چپ کرو۔۔۔۔۔ اور میرا پیچھا چھوڑو اب ”
"فواد میں اسے چھوڑ آئی ہوں ”
” اوہ۔۔۔۔۔ تو طلاق یافتہ ہو۔۔۔۔۔ میرا کیا دماغ خراب ہوا ہے جو تم جیسی طلاق یافتہ سے شادی کروں ”
” فواد۔۔۔۔”
” نام مت لو میرا۔۔۔۔۔ اور رہی محبت کی بات تو وہ تو مجھے تم سے تھی ہی نہیں جسٹ پیسوں کی ضرورت تھی جو تم پوری کرتی تھیں اور تم سے شادی کا مقصد بھی یہی تھا ”
” واااٹ۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔تم مجھے یوز کررہے تھے ”
” ہاں۔۔۔۔۔ آسان لفظوں میں یہ ہی سمجھ لو ” وہ لاپرواہی سے بولا
” اور ہاں آئیندہ مجھے کال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”
کہہ کر اس نے فون رکھ دیا بہت دیر تک تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے اور جب سمجھ آئی تو اس کا دھاڑیں مار مار کے رونے کا دل چاہا اتنا بڑا دھوکا اس کے ساتھ۔۔۔۔۔
فواد سے اچھا تو زوار تھا جس نے اس سے بھلے زبردستی نکاح کیا لیکن اس نکاح کے باوجود اپنی کوئی غرض ظاہر نہ کی
اور فواد وہ تو منگنی سے بھی پہلے سے اپنے کام نکلواتا رہا اسے یاد آیا کہ جب بھی وہ فون کرتا اپنے کام کے لیے کرتا ورنہ وہ تو اسے پوچھتا تک نہ تھا
اور زوار ہر روز اسے فون کرتا اس کی کڑوی باتیں سہتا رہتا اس کے لیے اپنے آپ کو تک کو بدل دیا اس نے تو کیا محبت وہ تھی جو زوار اس سے کرتا تھا؟؟؟
وہ زوار اور فواد کا موازنہ کرنے لگی تھی۔
—————-
زوار اسے ڈھونڈتا ہوا لاہور پہنچ گیا تھا اس کے گھر پہ گیا تو تالا لگا پایا چوکیدار نے بتایا کہ وہ تو اسلام آباد لے گئے ہیں
” کہاں تک چھپتی پھرو گی پری مجھ سے۔۔۔۔ کہاں تک۔۔۔۔ میں تمہیں ڈھونڈہی لوں گا”
وہ خود سے بولا
—————
پریشے اب پھر سے اسی گاؤں جانا چاہتی تھی جہاں اس کی خوشیاں تھیں جہاں اس کا زوار تھا فواد تو کب جا اس کے دل سے اتر چکا تھا اب فواد کا ذکر تک وہ سننا نہیں چاہتی تھی وہ اب جلد سے جلد زوار سے ملنا چاہتی تھی اسے معلوم تھا وہ اس سے ناراض ہو گا پر وہ اسے منا لے گی
اس نے پھپو کو سب کچھ بتانے کا فیصلا کیا
رات کو پھپو اپنے روم میں آرام کر رہی تھیں کہ پریشے چلی آئی
” خیریت بیٹا۔۔۔۔۔اس وقت”
” جی پھپو آپ سے کچھ بات کرنی ہے”
” ہاں بیٹا بولو کیا بات ہے۔۔۔ بیٹھو”
” پھپو۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔” وہ جھجکی
” بولو بیٹا۔۔۔۔۔۔ جھجک کیوں رہی ہو بچپن سے آج تک تم نے ہر بات مجھ سے بےجھجک کی ہے پھر یہ آج جھجک کیوں ”
” پھپو وہ۔۔۔۔۔فواد نے جو آپ کو فون پہ بتایا تھا نا نکاح کا”
وہ آہستہ آہستہ بتانے لگی
” پھپو وہ۔۔۔ وہ سچ کہہ رہا تھا” پھپو شاکڈ رہ گئیں
” کیاااااا۔۔۔۔۔ یعنی۔۔۔۔۔یعنی تم۔۔۔۔تمہارا نکاح۔۔۔۔۔”
” جی پھپو۔۔۔ پر یہ ”
"بسسسس۔۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں سننا یہ بتاؤ تمہارا نکاح تمہاری مرضی سے ہوا ہے؟؟؟”
” پھپو میں بتاتی ہوں ”
” میں نے پوچھا ہے تمہارا نکاح تمہاری مرضی سے ہوا ہے ”
” جی۔۔۔۔۔ جی پھپو پر۔۔۔ پر یہ پورا سچ نہیں ہے آپ۔۔۔ آپ تو مجھے جانتی ہیں نا "” پھر کیا سچ ہے۔۔۔ میں تم سے پوچھا تم نے جھوٹ بولا کہ نہیں اور اب تم کہہ رہی ہو کہ فواد سچ کہہ رہا ہے”
” پھپو یہ نکاح جیسے آپ سمجھ رہی ہیں ویسے نہیں ہوا جیسے آپ سمجھ رہی ہیں ” اور پھر پری نے ساری کہانی سنا ڈالی
پھپو نے آگے بڑھ کے اسے گلے سے لگا لیا
” ہائے میری بچی۔۔۔ اتنے دن تک مجھ سے کیوں چھپایا”
” میں آپ کو پریشان نہیں دیکھنا چاہتی تھی پھپو تب ہی نہیں بتایا ”
” میری بچی۔۔۔۔۔۔میری جان” وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کے رونے لگیں
” ہم ان پہ کیس کروا دیں گے انہیں۔۔۔ انہیں ہر حال میں تمہیں طلاق دینی ہو گی” پریشے کرنٹ کھا کے پیچھے ہوئی
” نہیں۔۔۔۔۔نہیں پھپو”
” مگر کیوں؟؟؟ ”
” وہ نکاح جو کبھی میری مجبوری تھا وہ اب میری زندگی کا حصہ ہے۔۔۔۔۔ وہ آدمی جسے مجبوری میں میں نے اپنا شوہر بنایا وہ اب میری کل کائنات ہے ”
” پر بیٹا وہ آدمی پتا نہیں کیسا ہو ویسے بھی یہ جاگیردار لوگ اچھے نہیں ہوتے”
” نہیں پھپو۔۔۔۔۔ وہ وہ بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔ پتا ہے اس نے میرے لیے اپنے آپ کو بدل دیا۔۔۔ اس نے مجھ سے بے غرض محبت کی سوائے میری محبت کے مجھ سے کچھ نہ چاہا ”
” اور فواد۔۔۔۔۔”
” نام مت لیں اس کا میرے سامنے۔۔۔۔۔ آپ ٹھیک کہتی تھیں وہ بہت لالچی ہے وہ اس لالچ میں ہی مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا شکر ہے اللٰہ کا اس نے مجھے ضائع ہونے سے بچالیا اور ایک ایسے آدمی کے نصیب میں لکھا جو مجھ سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔اب مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ اللٰہ نے مجھے بہت پیار سے بنایا ہے وہ کیوں مجھے غلط آدمی کے ہاتھوں ضائع ہونے دیتا”
” یہ تو ٹھیک کہا اللٰہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے”
” پری نام کیا ہے اس کا؟؟؟ ”
” ملک زوار” پریشے نے پہلی بار یہ نام محبت سے لیا تھا
” میں ملنا چاہتی ہوں اس سے”
” کل چلیں گاؤں پھپو” وہ ایک دم تیار ہوئی
” توبہ ہے لڑکی یہاں آنے کی بھی جلدی تھی اور جانے کی بھی”
پری مسکرادی آج بہت دنوں بعد وہ یوں دل سے مسکرائی تھی۔
————-
ملک وجاہت تو اسے دیکھ کے ڈر ہی گئے تھے ان کو یہ تو پتا تھا کہ وہ ضد کا پکا ہے پر اس کی جنونیت اب دیکھی تھی انہیں اپنا یہ بیٹا جان سے پیارا تھا
” آپ کیوں میرے پتر کی زندگی داؤ پہ لگا رہے ہیں ملک صاحب۔۔۔۔۔ میرے بچے کا کچھ تو خیال کریں ” اماں پریشانی سے بولیں
” تو کیا کریں ہم اس کی بے جا فرمائش پوری کردیں ”
” ہاں کردیں۔۔۔۔۔ زندگی تو میرے پتر نے گزارنی ہے اس کے ساتھ ہمیں نہیں۔۔۔۔۔ جہاں وہ خوش وہاں ہم”
” خدارا یوں زبردستی نہ کریں ورنہ جان لیں ضد میں وہ آپ سے چار ہاتھ آگے ہے اگر اس نے اپنے ساتھ کچھ کرلیا تو۔۔۔۔۔ دیکھا نہیں اس دن کیسے بندوق اٹھا لی تھی” انہوں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پھر بولیں
” وہ آج تک آپ کا فرمابردار رہا ہے اس نے آج تک آپ کی کوئی بات نہیں ٹالی کیا آپ اس کی ایک ضد پوری نہیں کر سکتے”
” وہ ہم سے کچھ بھی مانگے ہم ہر خواہش پوری کریں گے پر بےجا ضد نہیں ”
کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئے پیچھے اماں بہت دیر تک روتی رہی تھی زوار کا فون بھی نہیں لگ رہا تھا وہ پاگلوں کی طرح اس لڑکی کو ڈھونڈنے میں لگا ہوا تھا ایک لڑکی کے پیچھے وہ یوں پاگل ہو جائے گا انہوں نے سوچا نہ تھا وہ دل ہی دل میں اس کی عافیت کی دعا کرنے لگیں۔

بینا خان

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • صبح دم سارے پرندے یار کیوں خاموش ہیں
  • عشق کرنا میرے ہمدم
  • ہڈیاں اور پھول
  • کرب کی زنجیر سے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک معمولی سی عورت
پچھلی پوسٹ
پریشے کا مقدر

متعلقہ پوسٹس

صبح کا گیت گا رہی ہوں میں

مارچ 20, 2020

سی پیک کی سیاست

جنوری 10, 2021

تاج نے تخت نے بغاوت کی

اکتوبر 10, 2025

کیکٹس لینڈ

جنوری 5, 2020

کبوتروں کو اڑاتا ھوں

جنوری 5, 2025

راجندر بیدی کے اسلوب

دسمبر 18, 2019

فلک کی قید سے ڈر کر نہیں نکلے زمیں زادے

اکتوبر 1, 2020

سیاست کو چھوڑو ریاست کو بچالو

اگست 28, 2022

نجات

جنوری 2, 2022

شلجم

جنوری 12, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ذرا سی روشنی لا کر

جنوری 22, 2025

خود سے جب بے زاری ہو

اپریل 6, 2020

مسلمانوں کی حالت زار

اکتوبر 24, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں