662
تھا شوق بہت مجھ کو رشتوں کی مسافت کا
ہے بوجھ مرے دل پر صدیوں کی مسافت کا
چلتے ہوئے سب راہی پیروں سے کُچلتے ہیں
احساس کسے ہو گا پھولوں کی مسافت کا
رستے ہیں یہاں سارے نفرت کے محبت کے
میں ایک مسافر ہوں جذبوں کی مسافت کا
اس جسم کے کمرے میں اک درد ٹھہرتا ہے
جب سلسلہ رُکتا ہے اشکوں کی مسافت کا
سوچا ہے یہیں اِ س کو اب روک دیا جائے
مقصد ہی نہیں کوئی سانسوں کی مسافت کا
اک درد کے صحرا میں گھر میں نے بسایا ہے
ہے شاذؔیہی حاصل خوابوں کی مسافت کا
شجاع شاذ
