467
سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
مجھے یقین ہے جب تک کسی کے آنے کا
ملے سفر میں ٹھکانے تو بے شمار مگر
ملا نہ ہم سفروں میں کوئی ٹھکانے کا
کئی تو زندہ و جاوید بھی ہوئے مر کے
کسی کے ہاتھ نہ آیا سِرا زمانے کا
کھلی ہوا کے سوا باغباں سے کیا مانگوں
معاوضہ نہیں لیتے طیور گانے کا
نظامِ زر میں کسی اور کام کا کیا ہو
بس آدمی ہے کمانے کا اور کھانے کا
انور شعور
