خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابایوم پاکستان ایک نئی قرارداد کا منتظر!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

یوم پاکستان ایک نئی قرارداد کا منتظر!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 19, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 19, 2022 0 تبصرے 64 مناظر
65

مارچ کا مہینہ اہم سے اہم ترین ہوتا جا رہا ہے ، خواتین کا عالمی دن اسی مہینے میں منایا جاتا ہے ، جنگلی حیات کا دن ، شاعری کا دن ، ٹی بی کا دن اور پانی کا دن بھی مارچ کے مہینے میں ہی منایا جاتا ہے ۔ اسکے علاوہ اور بھی دن ہیں جو اس مہینے میں منائے جاتے ہیں اور اب اس فہرست میں ایک اہم ترین دن امت مسلمہ کیلئے شامل ہوا ہے جو کہ پہلا دن ہوگا جو اسلامو فوبیہ کے حوالے سے ہر سال پندرہ مارچ کو منایا جائے گا ۔ پہلے تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب کی جنرل اسمبلی میں جو اسلامی اور غیر اسلامی دنیا کے رویوں کا فرق واضح کیا اوراس تاریخی تقریر نے دنیا کے سوچنے کے زاوئیے کو تقریباً بدل کر رکھ دیا، اس تقریر سے یہ ہوا کہ یکطرفہ مفاد کی حکمت عملی سے نجات مل گئی ۔ وزیر اعظم پاکستان نے یوں سمجھ لیجئے کہ اقتدار ناصرف پاکستانیوں کیلئے لیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی زبوں حالی کو بھی بہتر کرنے کیلئے لیا ۔ جس کا منہ بولتا ثبوت مذکورہ بالا تقریر ہے ۔ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں جمع کرائی جانے والی قرارداد کی بدولت ہر سال پندرہ مارچ کی تاریخ کو اسلام فوبیہ کا دن منایا جائے گا ۔ تاریخ میں اسے ہمیشہ تاریخی حیثیت حاصل رہے گی اور سنہری حروف سے لکھا جائے گا ۔ اسے اسلام کی فتح کا دن بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کیا یہ آلو پیاز کی قیمتوں پر قابو پانے سے کہیں بڑا کا م نہیں تھا ۔

مارچ کے مہینے کی تاریخی حیثیت سے ہم تمام پاکستانی بخوبی واقف ہیں اس کی بنیادی وجہ ہمارا پاکستانی ہونا ہے ۔ 23 مارچ 1940 کو جو تاریخی قرارداد پیش کی گئی ، اس قرارداد میں ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ۔ مسلمانانِ ہند قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قراداد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نکل23 march کھڑے ہوئے اور اس عزم اور حوصلے سے نکلے کہ سات سال کی انتہک جدوجہد کے بعد جس میں لاتعداد انسانی جانوں کی قربانی دی گئی ، عزتیں پامال ہوئیں اور زر و زمین کے نقصان کا تو کوئی حساب نہیں ،تب کہیں جاکر سرزمین پاکستان کی سرحدوں کا تعین ہوا ۔ ہم پاکستانی ہر سال ا س تاریخی دن کو بھرپور طریقے سے مناتے ہیں اور اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یقینا یہ دن پاکستان بننے کی بنیاد بنا اقبال کا خواب اگر اس دن عیاں نا ہوتا تو شائد ہم پاکستانی کبھی بھی خواب سے تعبیر کے سفر کا مطلب نہیں سمجھ سکتے تھے ۔ اسلام کی سربلندی کیلئے اور اسکے لئے ایک الگ خطہ زمین کے تقاضے ، سرزمین کی آزادی کیلئے ایک اور اپنے سے کہیں گنا بڑے مخالف سے لڑجانے کی بھی ایسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ مکہ سے مدینے کی ہجرت کے بعد ہندوستان سے پاکستان کی طرف دوسری بڑی ہجرت قرار پائی ۔

یقینا قوموں کی سالمیت کا دارومدار انکے نظریات پر ہوتا ہے اور نظریات کی پاسداری ملکی استحکام اور دنیا کے سامنے شناخت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے ۔ الحمدوللہ پاکستان دنیا کی گنی چنی نظریاتی ریاستوں میں سے ایک ہے ۔ جو قو میں اپنے نظریات سے انحراف کرتی ہیں وہ پستی کا شکار ہوتے ہوئے تاریخ کے سیاہ اندھیروں میں گم ہوجاتی ہیں ۔ ہم پاکستانیو کو آزادی کے پہلے دن سے اپنے نظرئیے سے بھٹکانے کی کوشش شروع کردی گئی جس کے لئے پہلے تو بیرونی طاقتوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے آس پڑوس سے طرح طرح کے حربے استعمال کئے جاتے رہے ، پھر وہ وقت بھی آگیا کہ جب ہمارے ملک کے سیاستدانوں نے یہ ذمہ داری لے لی اور قوم کو الجھانے اور طرح طرح سے ڈرانے کا کام کیا جاتا رہا ، اسی اثنا ء میں وہ دور بھی شروع ہوگیا جب نا صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن کر کے رکھ دی گئیں اور مسلمان زبوں حالی کا اتنے شکار ہوگئے کہ دنیا میں مسلمان شرمندگی کی علامت بن کر رہے گئے ۔ اس برے وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں جہاں ممکن ہوسکا بری طرح سے پسپا کیا گیا اور نسل کشی کی طرز پر قتل و غارت کی گئی جسکے لئے من گھڑت الزامات لگائے گئے اور بدقسمتی یہ کہ اپنوں نے بھی دنیاوی طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ۔

رات اور دن کی تبدیلی قدرت نے بطور بہترین مثال روزانہ کی بنیاد پر یاد دہانی کرانے کیلئے رکھی ہے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ، موسم سے سمجھ لیجئے کہ کبھی راتیں بڑی ہوتی ہیں تو کبھی کے دن یعنی کبھی خوشی دیر تک رہتی ہے اور کبھی غم ۔ وقت نے ہلکا سا بدلاءو لانے کی کوشش کی مسلمانوں میں چند حکمرانوں کو یہ طاقت دی کے وہ اپنے فیصلے خود کریں اور اپنے ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں ۔ بدترین حالات میں مہاتیر محمد ، طیب اردوان نے کلمہ حق بلند کرنے کی کوشش کی جو کسی حد تک کارگر ثابت ہوئی پاکستان میں عمران خان صاحب نے تبدیلی کا نعرہ لگایا ہوا تھا جسے ان لوگوں کی پشت پناہی کی بنیاد پر کافی فروغ ملا ۔ عمران خان نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ہر ممکن کوشش کی کے ناصرف ملک میں قانون کی بالادستی کو نافذ کیا جائے بلکہ پاکستان سے بدعنوانی اور بدعنوانوں کو نکال باہر کیا جائے، پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ ارباب اختیار کو قانون کے سامنے پیش ہونا پڑے لیکن ایسا ہوا ۔ دوسری طرف امریکہ کی عالمی مداخلت میں پسپائی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کو دنیا میں بدلتے ہوئے طاقت کے کھیل میں حصہ لینے کا ایک بار پھربھرپور موقع ملا جس سے فائدہ اٹھانے کے اقدامات بھی اعلی سطح پر کئے گئے ، وزیراعظم عمران خان کا روس کا دورہ اس بات منہ بولتا ثبوت تھا ۔ دنیا میں تو طاقت کے توازن کا عمل شروع ہوچکا ہے لیکن اس عمل کو عدم توازن کی طرف دھکیلنے میں پاکستان کی وہ تمام سیاسی جماعتیں جو ہمیشہ سے امریکہ نواز رہی ہیں ایک طرف کھڑی ہوگئی ہیں یا شائد کھڑی کردی گئی ہیں ۔ یہ وہ سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے کبھی بھی ملک کی سالمیت اور بقاء کو خاطر میں نہیں رکھا ۔ تاریخ یاد رکھے گی کہ ایک دور حکومت ایسا بھی آیا تھا کہ جس میں مہنگائی بے قابو ضرور تھی لیکن اس حکومت نے ملک کا سارا گند اور گندگی ایک جگہ جمع کردیا تھا اور ہر دیکھنے والی آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان ملک کے مفاد میں ڈٹے ہوئے ہیں تو دوسری طرف ملک کو پسپائی کی دلدل میں دھکیلنے والوں کا ٹولہ ہے ۔ ہمیشہ یہ سنا ہے ، پڑھا ہے اور سمجھا ہے کہ حق رہنے کیلئے ہے اور باطل ختم ہونے کیلئے ۔ اب وقت کس کا ساتھ دینے والا یہ فیصلہ آسمانوں میں ہوچکا ہوگا ، سچائی اور آگاہی کا طوفان کہاں جا کر تھمنے والا ہے ،کیا عوام ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انکے مقدس ووٹ کیساتھ کیا کیا جارہا ہے ۔ 23مارچ 2022 قوم کو ایک بار پھر قرارداد مقاصد پیش کرنی ہوگی ،جس میں یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ مزید کسی ایسی سوچ یا نظرئے کی غلامی نہیں کرینگے جو ملک کی سالمیت کے خلاف ہو جو اسلام کے خلاف ہو جو اسلاف کے خلاف ہو ۔ اب وقت نے ثابت کرنا ہے کہ یہ قوم ، قوم بن چکی ہے یا پھر ابھی بھی ریوڑ ہی ہے ۔ ہمارا واسطہ ان لوگوں سے پڑا ہے کہ جنہیں صرف اور صرف کرسی کی پڑی ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دوستی میں حِساب کی باتیں ؟
  • روشنی کا راستہ
  • اپنے اشعار کا عنوان کروں گامیں یار
  • ہر صدا تھک کے لوٹ آئی مری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہم اگر تیری نگاہوں پہ نہ وارے جاتے
پچھلی پوسٹ
نیند جب خواب کی زنبیل میں رکھی جائے

متعلقہ پوسٹس

کبھی کبھی مجھے کچھ بھی

مارچ 5, 2023

آہ

جنوری 16, 2021

اِسی ندامت سے اُس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں

مئی 13, 2020

حملہ ہوا تھا

دسمبر 16, 2019

فضائل صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ

جنوری 24, 2022

خواب کے پہلے جھونکے سے

مارچ 24, 2020

پہلے تشخیص ۔ پھر علاج

مارچ 21, 2020

اس کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو

مئی 29, 2020

سعادت حسن منٹو

جنوری 9, 2026

دنیا میں کچھ لوگ

دسمبر 2, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام...

ستمبر 15, 2023

وہ چھپ چھپ کے ملاقاتیں

اپریل 25, 2020

 لالہ جی​

دسمبر 12, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں