117
محبت کے نہ اب ایثار کے ہیں
یہاں رشتے سبھی بیکار کے ہیں
کسی سے کیا کہیں کہ داغِ الفت
تہِ دامن جو ہیں غم خوارکے ہیں
بنا بولے بنے نا بات کوئی
سبھی جذبے یہاں اظہار کے ہیں
خلوصِ دل سے وہ ملتے نہیں اب
بڑے نخرے مرے دلدار کے ہیں
پسِ پردہ تجھے چاہا ہے ہم نے
ہاں عاشق ہم ترے کردار کے ہیں
سناتے ہیں تمھیں رو رو کے جو ہم
سبھی قصے دلِ بیزار کے ہیں
لگا کے دل سے جن کو جی رہے ہیں
وہ سب دکھ شازیہؔ بیکار کے ہیں
شازیہؔ طارق
