خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپچھتاوا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو تراجمسید محمد زاہد

پچھتاوا

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 10, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 10, 2021 0 تبصرے 74 مناظر
75

وہ آدمی مرتے وقت بہت پر سکون تھا۔ ہلکے پھلکے لہجے میں بات کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میں نے ایسی کامیاب زندگی گزاری ہے جس میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

اس شام وہ کچن میں بیٹھی اپنی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں سوچنے لگی۔ لطف اندوز ہوتے ہوئے ان کو ترتیب دینا شروع کیا۔ دو کالموں کی فہرست بنائی۔

پچھتاوا / اطمینان۔

پہلے کالم میں شادی، بچے اور پڑھانا جبکہ دوسرے کالم میں شراب نوشی، ریٹائرمنٹ کے بعد کی آزاد زندگی اور ٹیلی ویژن لکھا۔ کئی گھنٹے اس کھیل سے محظوظ ہونے کے بعد سونے کے لیے چلی گئی۔ ساری رات پرسکون نیند سوئی۔ صبح صحیح وقت پر اٹھی، ہائی کلاس کے طلبہ کی کلاس لی، فنڈز کی فراہمی کے بارے میں ایک میٹنگ کی صدارت کی، پھر ایک دوست کے ساتھ مے خانے کا رخ کیا۔ خوبصورت دن کا اختتام ہوا تو گھر لوٹ آئی۔ کچن میں پہنچی تو اسی کاغذ پر نظر پڑی جو اس نے ایک چینی کے برتن کے ساتھ رکھ دیا تھا۔

رات وہ چینی کے مرتبان پر ڈھکن رکھنا بھول گئی تھی۔ مرتبان چیونٹیوں سے بھر چکا تھا۔ اندر باہر ہر طرف چیونٹیاں رینگ رہی تھیں۔ بہت سی مرتبان کے گول کنارے پر بھی موجود تھیں۔ یہ دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔ چینی کے پیالے کو سنبھالنے کے بعد ، اس نے ایک گلاس میں تھوڑی سی شراب انڈیلی اور اپنی فہرست سامنے رکھ کر سوچنے لگی۔ کل کی ترتیب کچھ بے مزہ سی لگی تو اس کاغذ کو پھاڑ دیا۔ بھوک لگ رہی تھی۔ سوچ رہی تھی کہ اسے رات کا کھانا پکانا شروع کرنا چاہیے۔ فریج سے گوشت نکال کر پلیٹ میں رکھا اور کاغذ قلم لے کر نئی فہرست بنانا شروع کر دی۔ دونوں کالم دوبارہ بنائے اور اس بار زیادہ خوبصورتی اور صفائی کے ساتھ عنوانات لکھنے کے بعد واقعات کو نئی ترتیب دینا شروع کی۔

شادی؟
شادی کو پچھتاوا ہی کہا جا سکتا تھا۔

گرچہ یہ ایک ٹھوس حقیقت تھی کہ اس کی شادی شدہ زندگی میں ناخوشگواری کا عنصر بالکل شامل نہیں تھا۔ چند سال پہلے جب اس کے شوہر کی غیر متوقع وفات ہوئی، تو وہ بہت دکھی ہو گئی تھی۔ اب بھی دن کا آغاز اکثر اسی کی یاد سے ہی ہوتا تھا۔ ان حقائق کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ شادی بذات خود ایک پچھتاوا ہی تھی۔

بچوں کو بھی پچھتاوے کے کالم میں شامل نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن بہت سوچنے کے بعد بھی وہ ان کا نام اطمینان والے کالم میں لکھنے پر خود کو راضی نہ کر سکی۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ ان کی پرورش میں کیے گئے بہت سے فیصلوں پر پشیمان تھی۔ گرچہ وہ ابھی لڑکپن کی عمر میں تھے اس لیے دونوں باتوں کے امکانات موجود تھے۔ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔

پھر وہ اس آدمی کے بارے میں سوچنے لگی جس کا کہنا تھا کہ اس نے ایک ایسی زندگی گزاری تھی جس میں کوئی پچھتاوا موجود نہیں تھا۔ وہ اس کی کامیابیوں اور اس کے اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچنے لگی۔ فوراً ذہن میں اس آدمی کی خوبصورت جسامت، کرشماتی شخصیت اور روحانیت کی طرف حالیہ رغبت کا خیال آیا۔

ایسی خوبیوں کے حامل شخص کو کسی چیز کا پچھتاوا کیوں ہو گا؟

سوچتے سوچتے اس کا خیال بیس سال پہلے ملنے والے اس شخص کی طرف چلا گیا جو اس کا محرم بھی نہیں تھا اور جس کے ساتھ وہ اپنے گھر کی بالکونی میں کافی دیر کھڑی رہی تھی۔ وہ ایک بڑھئی تھا اور اس کے گھر کے اوپر والے خالی اپارٹمنٹ میں کام کر رہا تھا۔ اس گھر میں وہ اپنے خاوند اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ رہتی تھی۔ اس دن صبح سویرے اس کا شوہر کام پر چلا گیا اور وہ نومولود کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی۔ اسے ایک ہی بات کی فکر رہتی تھی کہ بچہ کسی وقت بھی جاگ کر رونا شروع کر دیتا تھا۔ لیکن یہی بچہ بڑھئی کو اس کی زندگی میں لایا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس بچے کی وجہ سے ہی وہ بڑھئی اس کے انتہائی قریب آ گیا تھا۔

اس صبح خاوند کی روانگی کے بعد اس کا سارا وقت بچے کو گود میں اٹھا کر برآمدے میں اوپر نیچے جاتے گزرا تھا۔ بچہ بہت رو رہا تھا۔ بڑی مشکل سے دودھ پلانے کے بعد اسے سلانے میں کامیاب ہوئی۔ جیسے ہی بچے کو جھولے میں لٹا کر وہ کافی بنانے کے لیے اٹھی۔ اوپر والے کمرے میں بڑھئی نے ٹھک ٹھک شروع کر دی۔ شور سن کر بچہ پھر جاگ گیا اور رونا شروع کر دیا۔ اس کے دل میں ایک غصے کی لہر دوڑ گئی۔ وہ بچے کو اٹھا کر دوبارہ دالان میں آ گئی۔

تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ بڑھئی نے بچے کو روتے دیکھ لیا تھا اور معذرت خواہ تھا۔ اس نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے معذرت قبول کی لیکن بڑھئی اس کے غصے کو جان گیا تھا۔ چہرے پر موجود تھکاوٹ کے آثار دیکھ کر وہ مزید شرمندہ ہو گیا اور اس سے باتیں کرتے کرتے اندر آ گیا۔ پھر بچہ اپنی گود میں لے کر اسے چپ کرانے لگا۔

آج وہ یہ لسٹ ترتیب دیتے ہوئے اسی وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ ان دنوں اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی۔ شاید بعد میں زندگی بھر اس نے وہ شدت پھر کبھی محسوس نہ کی۔ خاوند کی اس شدید چاہت کے باوجود بڑھئی کی خوبصورت جسامت دیکھ کر اس کی طرف کشش محسوس کر رہی تھی۔

وہ سوچ رہی تھی کہ اب اسے وہ سب کچھ بھول جانا چاہیے تھا۔ وہ سب جو صرف کشش نہیں تھا۔ بات بہت آگے کی تھی۔ وہ سوچ سوچ کر گھبراہٹ محسوس کر رہی تھی۔ بڑھئی کی گود میں اپنا بچہ دیکھ کر اس کا دل چاہا تھا کہ وہ ایک اور بچہ پیدا کرے۔ اب کی بار اس بڑھئی کا ۔ مستقبل میں نہیں، ابھی اور اسی وقت۔ اسی وقت جب دن پورے شباب پر تھا، نیچے سڑک پر کاریں دوڑ رہی تھیں، ہر طرف رونق ہی رونق تھی۔ وہ رات کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا۔ وہ بولنے کی صلاحیت کھو چکی تھی۔ صرف ٰایک ہی احساس تھا کہ بڑھئی اس کے گھر کے اندر ہی داخل نہیں ہوا، اس کے وجود میں بھی سرایت کر چکا تھا۔

اس نے سر کو جھٹکا اور سب بھولنے کی کوشش کرتے ہوئے واپس لوٹ آئی لیکن آج اس کے تن بدن میں پھر وہی جلن تھی۔ وہ اب بھی اس بڑھئی کی کشش محسوس کر رہی تھی۔ وہ بچہ پیدا کرنے کی عمر سے گزر چکی تھی، لیکن اب بھی اس کی دلی خواہش تھی کہ اس کا ایک بچہ پیدا کرے۔ درحقیقت وہ یہ چاہتی تھی جس بچے کو بڑھئی نے اپنی گود میں اٹھا رکھا تھا کہ کاش وہ اسی کا بچہ ہوتا۔ اس نے اپنے اس پہلوٹھی کے بچے کے بارے میں سوچا جو اب بیرون ملک مقیم تھا اور شاذ و نادر ہی اس سے رابطہ کرتا تھا۔ آج وہ سوچ رہی تھی کہ یہ اس کی چاہت کی پامالی ہے، حق تلفی ہے، اس کی خواہش کی بے حرمتی ہے کہ وہ بچہ بڑھئی کا نہیں تھا۔

لسٹ اس کے سامنے پڑی تھی۔ پچھتاوے کے خانے میں اس نے موٹا سا لکھ دیا۔
”بڑھئی کے ساتھ ہمبستری نہ کرنا۔“
پھر اسی کالم کی اگلی سطر میں لکھا۔
”میرا بیٹا بدیس چلا گیا۔“
ان دونوں باتوں میں اسے کوئی نہ کوئی ربط محسوس ہو رہا تھا۔

شاید وہ بڑھئی کا ساتھ ہم بستری کر لیتی تو آج وہ بچے سے زیادہ محبت کرتی اور وہ اسے چھوڑ کر غیر ملک میں رہائش پذیر نہ ہوتا۔

اس نے سر کو جھٹک کر بڑھئی کا خیال دل سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے شوہر کے بارے میں سوچا۔ گرچہ وہ اس کے ساتھ بے وفائی اور دھوکا دہی کی مرتکب ہوتی۔ وہ ایک ایسا مستقل مزاج انسان تھا جس میں انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اگر اس نے بڑھئی کے ساتھ ہمبستری کر لی ہوتی تو شاید شوہر کے ساتھ گزرنے والی زندگی میں پچھتاوے کا عنصر کم ہوتا۔

وہ مثبت خیالات کا حامل ہمیشہ پر امید رہنے والا شخص تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے بچے بھی بہت پر ہمت اور آزاد خیال تھے۔ اسی نے ان کے دلوں میں امید کی جوت جگائی تھی۔ یہی امید اس کے بیٹے کو اس سے دور، جنم بھومی سے دور، دیار غیر میں لے گئی تھی۔ دور بہت دور جہاں ایسا لگتا تھا کہ اس کے لیے حالات مشکل ہیں۔

زندگی کے آخری دنوں میں، اس کے شوہر نے بہت کوشش کی کہ حالات میں تلخی کم ہو۔ زیادہ تر لوگ کہتے کہ وہ اب بھی بہت پر امید تھا۔ لیکن سچ یہ تھا کہ وہ اس قدر مایوسی کا شکار ہو گیا تھا کہ وہ بچوں کو اس دنیا میں لانے پر شرمندگی محسوس کرنے لگا تھا۔ وہ بچے جو اس کے خیال میں دن بہ دن زیادہ مضر ہوتے جا رہے تھے۔ اس کا بھی یہی خیال تھا۔

اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنے شوہر کی اس رائے سے غیر متفق نہیں تھی۔ پھر اس نے چینی کے مرتبان کے بارے میں سوچا۔ اس نے واقعی ”اس کا خیال نہیں رکھا تھا“ بلکہ اسے صرف پچھلے دروازے کے باہر پتھر کی سیڑھیوں پر رکھ دیا تھا۔ اس نے اس کا خیال نہیں رکھا تھا کیوں کہ چیونٹیوں کو مارنا، گندی چینی کو ضائع کرنا حتیٰ کہ چینی کے پیالے کو صاف کرنے کا خیال بھی اس کی برداشت سے باہر تھا۔

وہ سوچ رہی تھی گرچہ پچھتاوے کے بغیر زندگی گزارنا ہی مقصد حیات ہے، لیکن اب ایسی زندگی جینے کا کوئی حقیقی امکان نہیں۔ لگتا تھا کہ پچھتاوے کی ایک خاص حد ہے۔ اب اس حد کے پار اترنے کے بعد اطمینان بھری زندگی کا خواب دیکھنا بھی ناممکن ہے۔

مصنف: Thom Conroy

ترجمہ: سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مری رہنما تری آنکھ ہے
  • شام کا سحر
  • عشق کی اقسام
  • شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
موجودہ صدی: نسل انسانی کے مٹ جانے کاخدشہ؟
پچھلی پوسٹ
مصطفےٰﷺ آپ کی چاہت کی ہے

متعلقہ پوسٹس

محبت بدلتی رہتی ہے

اپریل 15, 2019

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

اکتوبر 27, 2020

گھر کی دیوار پہ کیوں لکھا

فروری 26, 2025

پسند کی شادی

جنوری 4, 2022

ذرا سی چھاؤں میسر ہے تھوڑا دَم لے لوں

مئی 17, 2020

نادیدہ موت

مئی 2, 2020

اے کاش کہ گزرا وقت کبھی اک بار ہمارے ہاتھ...

اگست 15, 2020

بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات

جنوری 13, 2020

منتشر کرنے والا شاعر

ستمبر 15, 2016

کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

اپریل 6, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عادتاً بے وفا ہے ,جانے دو

جون 18, 2020

صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟

مارچ 10, 2020

نئے دیوتا

جون 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں