108
کیوں گفتگو میں لہجہ_تر لگ نہیں رہا
باتوں میں تیری آج اثر لگ نہیں رہا
دو چار میل میں تری جانب چلوں مگر
دو چار میل کا یہ سفر لگ نہیں رہا
خون_جگر پلا دیا اُس کو مگر ابھی
جیسا میں چاہتا ہوں شجر لگ نہیں رہا
جب سے مکین_قلب نے چھوڑا ہے اپنا گھر
دل مثل_ریگ زار ہے گھر لگ نہیں رہا
میں خوبرو جوان تھا یہ مانئیے جناب
تصویر دیکھ لیجئے گر لگ نہیں رہا
تیرے بغیر شہر میں ہر ایک سے منیر
میں دل لگا رہا ہوں مگر لگ نہیں رہا
منیر انجم منیر

1 تبصرہ
بہت جیو یارا اللہ پاک مزید کامیابیوں سے نوازے تم کو