خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارشتوں کی قدر کریں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

رشتوں کی قدر کریں

از سائیٹ ایڈمن جون 24, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 24, 2021 0 تبصرے 116 مناظر
117

 

رشتوں کی قدر کریں

انسان فانی ہے۔دنیا کا مہمان ہے۔لیکن اس مہمان داری کے چکر میں میزبان بن بیٹھتا ہے۔عارضی ہے مگر خود کومستقل سمجھنے لگتا ہے۔امانت دار ہے پر مالک بن جاتا ہے۔ اور یہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔اور اِس فانی دنیا کا حضرت ِانسان بڑا جھگڑالو ہے۔ہر ایک سے لڑتا ہے۔بیگانوں سے کم اپنوں سے ذیادہ الجھتا ہے۔کبھی مفاد اُسے لڑاتا ہے تو کبھی انا ا ُس کو دوسروں کی دشمنی اور نفرت پر اُکساتی ہے۔غلط فہمیوں کے گھوڑے پر سوار بدلے کی آگ کا کوڑا ہاتھ میں لیے ہوئے انجانی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے اور اسے کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔اُسے دوسروں کا طریقہ کار پسند نہیں آتا تو کبھی دوسروں کی سوچ اس کے ذہنی معیار پر پورا نہیں اترتی۔کبھی دولت درمیان میں حائل ہو جاتی ہے تو کبھی عہدے محبت و خلوص کی راہ کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔معیارِ زندگی کا یہ اختلاف بھائی کو بھائی سے جدا کر دیتا ہے اور ساری زندگی وہ آپس میں مل نہیں پاتے۔غیبت پسندیدہ موضوع بن جاتا ہے۔چغلی کھا کر سکون ملتا ہے۔اپنی شخصیت کا رعب اور برتری کا احساس لطف دیتا ہے۔اپنے سگے خونی رشتے شریک لگتے ہیں اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔بسا اوقات دشمنی اس حد تک بھی بڑھ جاتی ہے کہ خون کے پیارے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ جائیداد کی تقسیم دلوں کو بھی تقسیم کر دیتی ہے۔کوئی خاص دشمنی نہ بھی ہو تو اتفاق اتفاق میں بھی ایک دوسرے کو ہم اچھا سمجھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ہماری نظر میں دوسرے بے وقوف ہوتے ہیں اور ہم خود اپنے آپ کو صاحبِ عقل ہی تصور کرتے ہیں۔سادہ الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نظر اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ ہمیں اپنی خامی اور دوسروں میں کوئی خوبی کم ہی نظر آتی ہے۔

کسی اختلاف رائے کی صورت میں ہمیں اپنا موقف ہی درست لگتا ہے۔اس کے بعد پھراچانک ایک وقت آتا ہے کہ اجل کسی کو اُچک کر لے جاتی ہے اور باقی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔اپنے پیاروں کو روتے ہیں۔اس کی جدائی کی آگ میں جلتے ہیں۔خوشیاں ادھوری لگنے لگتی ہیں۔مرنے والے کی ہزاروں خوبیاں سامنے آنے لگتی ہیں کہ بندہ خود حیران ہو جاتا ہے۔پہلے جو بہت فضول اور ارزاں تھا اب انتہائی قیمتی اور ضروری لگنے لگتا ہے۔اس کی ایک ایک ادا جس پر طیش آتا تھا پھر کمال لگتی ہے۔اس کی ایک ایک بات جو احمقانہ لگتی تھی پھر حکمت سے پُر نظر آتی ہے۔اس کے فیصلے جو بے انصافی پر مبنی لگتے تھے پھر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔بس یوں کہہ لیں کہ جو پہلے بے دین لگتا تھا پھر جانے کے بعد وہ ہمیں کسی ولی اللہ سے کم نہیں لگتا۔اس کی ایک ایک بات کے معرفت بھرے معنی ہمیں سمجھ آنے لگ جاتے ہیں۔اس کی موجودگی میں جو ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا اس کے رخصت ہونے کے فوراََ بعد اس کے وجود کی برکت کا احساس ہو جاتا ہے۔اس کی موت کی خبر سن کر اس کی آواز سننے کو کان ترسنے لگتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟کیا اس کے پیچھے ہماری خود غرضی ہے یا خود پسندی؟یااس سوچ کے پیچھے ہماری متعصب سوچ ہے جو کسی کے بارے میں ہمیں کچھ اچھا گمان کرنے ہی نہیں دیتی۔ کتنے ہی ایسے رشتے دار ہیں جن سے ہم زندگی میں ذرا ذرا سی بات سے ناراض ہوئے بیٹھے ہیں اور سال ہا سال سے ملنا تو دور کی بات ہے ملنے کا سوچتے تک نہیں۔بسا اوقات ہم یہی نفرت وراثت میں اپنے بچوں کو بھی دے کر جاتے ہیں۔اس کاسیدھا سا مطلب ہوتا ہے کہ ہم اپنی اولادوں سے یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ہم غیرت کے نام پر نفرت کی آگ میں خوب جلے اب تم بھی ساری زندگی اس آگ میں ضرور جلنا۔ہم نے اپنا سکون برباد کر کے رکھا ہے تو ہمارے پیارے بچو! تم بھی کہیں زندگی میں سکون سے نہ بیٹھ جانا۔یہ ہم مختصر ترین عارضی زندگی کو کیسے گذارنے لگ گئے ہیں؟ہم نے یہ سبق کہاں سے پڑھا ہے؟یہ عقل کہاں سے سیکھی ہے؟کیا ہی اچھا ہو کہ ہم زندہ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی خوبیاں تلاش کریں اور ان کو سراہیں۔زندہ رہتے ہوئے حتی الامکان ایک دوسرے کی دل جوئی کریں۔ایک دوسرے کی مدد کریں۔ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں۔خود کو دوسرے کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں۔دوسروں کی مجبوری کو سمجھیں۔جو کام سب سے آخر میں کرنے کا ہوتا ہے وہ ہم سب سے پہلے کر گذرتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ کسی کی خامی کی صورت میں اس سے نفرت کرنے سے قبل اس کی وجہ تلاش کریں اور اس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کریں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم دوسروں کی خامیوں سے درگذر کرنا سیکھ لیں گے۔ جب ہم اعلی ظرف ہو جائیں گے۔ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس اپنائیت بھرے ماحول میں زندگی کتنی آسان اور خوب صورت ہو جائے گی۔ہمارا دین اسی لیے تو صلہ رحمی پر زور دیتا ہے۔اسے لیے تو جوڑنے کا حکم دیتا ہے۔اگر ہم ایسے بن جائیں تو زندگی کے کتنے پچھتاووں سے بچ سکتے ہیں جو ہمیں کسی اپنے کے جانے کے بعد ہوتے ہیں۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک بوند لہو
  • زبردستی کی شادی
  • تیغِ شکستہ، تیرِ خمیدہ سے جنگ میں
  • بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میں
پچھلی پوسٹ
بھارتی بے بسی کے نام – اقبالؒ کا پیغام!

متعلقہ پوسٹس

آپ اتنے بھی محترم نہیں

دسمبر 3, 2020

جنگل میں سرگوشی

دسمبر 7, 2024

25دسمبر: یومِ قائد ِاعظم

دسمبر 25, 2022

مائل بہ کرم ہوتا ہے افلاک پہ اب چاک

نومبر 19, 2021

تجربہ روز جسے اس کا نیا ہوتا ہے

مئی 2, 2020

بلوچستان: واپسی کا سفر شروع

اکتوبر 24, 2021

مائنوازم کیا ہے ؟

اپریل 19, 2026

دیکھتے ہیں کیا ہو گا فیصلہ عدالت میں

مئی 22, 2020

سوچتا ہوں کہ اب مَیں حد کر دوں

ستمبر 20, 2020

ناتوانی راستے کی فکر تھی

اکتوبر 24, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

علامہ اقبال پر ایک اردو مضمون

دسمبر 15, 2016

پا بہ گِل رہنے کی عادت...

جنوری 30, 2020

کچھ ایسے اگلے سفر کی تکان...

دسمبر 12, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں