خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہم کس مرحلے میں ہیں؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

ہم کس مرحلے میں ہیں؟

از اکرم ثاقب فروری 5, 2021
از اکرم ثاقب فروری 5, 2021 0 تبصرے 48 مناظر
49

ہم کس مرحلے میں ہیں؟

غلامی ایسی حالت کا نام ہے جس میں کوئی انسان دوسرے کے تابع ہو کر اس طرح سے زندگی بسر کرے کہ اس کے تمام فیصلوں کا اختیار اس کے آقا کے پاس ہو۔ غلامی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔   انسان ہمیشہ دوسرے کو اپنا زیر نگیں اور غلام دیکھنا چاہتا ہے۔ تاریخ انسانی غلامی کی ہی تاریخ ہے  غلامی کا آغاز لالچ، نفرت، حقارت اور دوسروں پر غلبہ پانے کے جذبات سے ہوا اور یہی جذبات آج بھی یہ مذموم کام کرا رہے ہیں۔ تکبر کی وجہ سے شیطان کو جنت سے نکالا گیا مگر اس نے انسان کے اندر اسی تکبر کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا کہ انسان ہر دور میں دوسرے انسان کو غلام ہی بناتا رہا ہے اگرچہ اس غلامی کی شکلیں بدلتی رہی ہیں اس غلامی کی تاریخ اتنی پرانی لگتی ہے کہ جیسے انسان اور غلام کا معاشرہ ساتھ ساتھ ہی ارتقا پذیر ہوئے لگتے ہیں۔
آج کی طرح قدیم دنیا میں بھی انسان، اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنایا کرتے تھے۔ غلامی کے آغاز کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں ہے۔ انسانیت کی معلوم تاریخ میں پائے جانے والے قدیم قوانین کا مجموعہ، بابل کے بادشاہ حمورابی (1796 – 1750 BC) کے قوانین کا ہے۔ یہ قوانین اب سے کم و بیش 3800 سال پہلے بنائے گئے۔ ان قوانین کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں عام لوگوں کے علاوہ اولاد کو بھی اپنے والدین کی غلام سمجھا جاتا تھا اور اس کی خرید و فروخت کو بھی ایک نارمل بات سمجھا جاتا تھا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ غلامی کا آغاز جذبہ ہمدردی کی وجہ سے ہوا۔ جب جنگوں میں دشمن کے بہت سے سپاہی قیدی بنائے گئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ ان کا کیا کیا جائے انہیں تہہ تیغ کر دینے کی بجائے ان پر جسمانی غلبہ حاصل کرنے کی خواہش نے انہیں غلام بنا دیا۔ اب وہ انسان نہیں غلام بن چکے تھے۔ غلامی کسی ایک قوم کے لالچ، نفرت اور غلبے کی بنیاد پر شروع نہیں ہوئی بلکہ ہر قوم کا جذبہ اس میں کارفرما رہا ہے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ غلامی کو جب ایک مرتبہ قابل قبول سمجھ لیا گیا تو اس کے بعد اس کی بہت سی شکلیں اور قسمیں وجود میں آ گئیں۔
جسمانی غلامی ،نفسیاتی غلامی، قانونی غلامی اور ذہنی غلامی۔ غلامی کی سب سے کم موثر شکل جسمانی غلامی ہے اور سب سے بھیانک ذہنی غلامی ہے ۔ آدمی جس کو خود سے بہتر تسلیم کرتا ہے اس کی عادات و اطوار چال ڈھال ،لباس اور بولنے کا انداز تک بھی اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ سپین پر جب مسلمانوں کی حکومت تھی تو اس وقت عیسائی نام تک مسلمانوں جیسے رکھتے تھے۔ آج ہم اس کا الٹ کر رہے ہیں۔
جب ایک انسان مختلف ذرائع سے دوسرے کے جسم پر کنٹرول حاصل کر کے اسے اپنا قیدی بنا لے تو یہ جسمانی غلامی کہلاتی ہے،اس کے برعکس جب کوئی شخص نفسیاتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اپنا ذہنی غلام بنا لے تو اسے نفسیاتی یا ذہنی غلامی کہا جاتا ہے۔ غلامی کسی بھی قسم کی ہو، غلامی ہی ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک انسان دوسرے کا محتاج ہو جایا کرتا ہے کبھی جسمانی لحاظ سے تو کبھی ذہنی اور روحانی طور پر۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:
غلامی کیا ہے؟ ذوقِ حسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا
”دنیا میں حقیقی طور پر کوئی بھی آزاد نہیں ہے۔ آزاد وہ ہے جو معنوی طور پر آزاد ہے مگر ہم اس دنیا میں اپنے نفس، ہوس اور خواہشات کےغلام ہیں۔ اور جس کی فکر غلام ہے چاہے وہ دنیا کا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو حقیقت میں غلام ہے اور غلاموں کی بصیرت پر بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے۔ آج اسی کا ہے جو "اپنی ہمت” سے اپنا مقدر خود بنائے، لیکن جو اپنے فرائض کو بھی مطالبہ بنا کر پیش کرے مثلاً اپنا تحفظ کرنا ہمارا اپنا فریضہ ہے لیکن اگر ہم تحفظ کے مطالبے اور تحفظ کی بھیک مانگنا شروع کر دیں تو ہماری خودی نابود ہو جائے گی کیوں کہ بقول اقبال "خودی از سوال ضعیف می گردد” کہ خودی مانگنے سے کمزور ہو جاتی ہے۔ مطالبات بھی ایک گدائی ہے”
ماضی میں غلام بنانے کا سب سے پرانا اور کارگر طریقہ جنگ تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ناکام ہو گیا کیونکہ لوگ اپنے آقاوں سے نفرت کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی انہیں مار بھگاتےتھے۔ ایسی حکمرانی میں فوجی اخراجات بہت زیادہ ہوتے تھے۔تو حاضر دماغ حاکمین نے دوسرے طریقے نکالنے شروع کئے۔ جنگ بھی نہ ہو اور وسائل پر گرفت اور قبضہ بھی ان کا ہو۔ برطانیہ نے دنیا پر جسمانی طور پر حکومت کی۔ جہاں قبضہ کیا وہاں خود گئے مگر ایک دن اسے ان تمام کالونیوں کو چھوڑنا پڑا۔ اس سے باقی استعماری طاقتوں نے سبق سیکھا اور دنیا کو معاشی غلامی کی طرف لے گئے۔ یہ بھی ایک غلام بنانے کا طریقہ ہی ہے جو آج کل رائج ہے۔ اس میں بظاہر کوئی زبردستی نہیں کی جاتی اور لوگوں کو غلامی کا احساس نہیں ہوتا۔ ان سے ٹیکس یا سود قانونی طریقے سے وصول کیا جاتا ہے اور لوگ یقین رکھتے ہیں کہ اس رقم سے ان کی اپنی بہتری اور حفاظت کے کام کیے جائیں گے۔ ان کے آقا ان کے لیڈر اور محافظ بن جاتے ہیں۔ یہ طریقہ اگرچہ سست رفتار ہے مگر دیرپا ہوتا ہے۔ لوگوں پر نہ مذہبی پابندی ہوتی ہے نہ سفر کرنے کی اور نہ ہی آزادی خیال کی۔ وہ الیکشن میں چناو کی بھی آزادی رکھتے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ انہیں غلام بنایا جا چکا ہے اور ان ہی کے اپنے لوگ عوام کی دولت آقاوں تک منتقل کرتے ہیں۔ آج کے زمانے میں میں آئی ایم ایف ایسے آقا کا کردار ادا کر رہا ہے۔
دنیا کی بڑی تہذیبوں کی اوسط عمر دو سو سال رہی ہے۔ ایسی ہر قوم چند مخصوص مراحل سے گزرتی ہے۔ پہلے غلامی سے مذہبی عقائد تک۔ پھر مذہبی عقائد سے عزم اور حوصلے تک۔ پھر عزم اور حوصلے کے سہارے آزادی حاصل کرنے تک۔ پھر آزادی سے خوشحالی اور پھر خوشحالی سے خودغرضی تک۔ خودغرضی لا تعلقی کا سبب بنتی ہے اور جس سے قوم بے حس ہو جاتی ہے۔ بے حسی انحصار لاتی ہے اور انحصار دوبارہ غلامی تک پہنچا دیتا ہے۔ ہم نے 1947 میں آزادی حاصل کر لی ۔ مذہبی عقائد اور عزمو و حوصلہ کی بدولت ہم نے اپنے لئے الگ وطن حاصل کر لیا۔ مگر کئی ایک وجوہات کی بنا پر ہم خوشحال نہ ہو پائے اور اس غربت کی حالت کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر خود غرضی بھی ڈال دی گئی ہے۔ یہ لسانیت اور صوبائیت کی خود غرضی ہے اور پھر امیر غریب کا فرق بھی بدرجہ اتم ہے۔ یہ فرق بے حسی کی وجہ سے ہے اور یہ بے حسی انحصار کی ماں ہے۔ انحصار ہی غلامی کی پہلی سیڑھی ہے۔
اب ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم کس مرحلے میں ہیں؟

اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں نے لاکھوں کے بول سہے
  • ندبہ
  • نام اُ س نے لیے دُعا میں کہیں
  • زمیں کھسکنے لگی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
اکرم ثاقب

اگلی پوسٹ
بدنام جو ہوں گے تو
پچھلی پوسٹ
05 فروری:یوم ِیکجہتی کشمیر!

متعلقہ پوسٹس

جب ان کو مرے اچھے برے کی

جنوری 12, 2025

سوداگری

نومبر 9, 2025

صنوبر کے نایاب جنگلات

مئی 19, 2024

گرہ کھلنے تک کا تنقیدی جائزہ

اپریل 27, 2025

سرائے کے باہر

مئی 23, 2023

کون و مکان و خُلدِ بَریں دیکھتا ہوں مَیں

اکتوبر 25, 2025

روشن ذہن

جنوری 24, 2025

آبنائےہرمز وارڈ ، ڈونلڈ ٹرمپ اور عالم لوھار

مارچ 20, 2026

تُو زُلف زُلف تھی مگر کھلی نہیں

مئی 19, 2020

بہت سماجت کرے گا تیری

جنوری 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہم ایک دن نکل آئے تھے

مئی 28, 2024

طوائف اور جگر مرادآبادی

اپریل 24, 2017

اردو غزل کی روایت اور اقبال

مئی 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں