114
خود سے لڑنا تھا بہت بار خفا ہونا تھا
اپنی تقدیر سے خوش ہوں کہ نیا ہونا تھا
رب نے اچھا ہے تجھے پہلے دکھا دی دنیا
بعد میں جا کے زیادہ ہی گلہ ہونا تھا
اس کے ہونے سے ترا دھیان بھٹک جاتا ہے
وہ نہ ہوتا تو ترے ساتھ خدا ہونا تھا
اب کہ حیرانی نہیں ہوتی مجھے دنیا پر
چل کے دو چار قدم سب نے جدا ہونا تھا
جادوئی زخم تھا ایسے کہاں کھلنا تھا اسے
جل پری ہاتھ لگاتی تو ہرا ہونا تھا
سب کو ہو جانا تھا معلوم خوشی کا مطلب
اپنے ذندان سے جب ہم نے رہا ہونا تھا
تجدید قیصر
