100
دیکھنے میں تو میں ایک ہوں اور پھر تم پہ لشکر کھلے
یہ دعا ہی بہت ہے کسی پر نہ معنیِ قیصر کھلے
اس کی عادت بدلنے لگی اور پھر اس نے چپ سادھ لی
جب کلائی نہیں مل سکی زخم سینے کے اندر کھلے
کب سے ہم بند ہیں چار دیواروں میں بس ہوئی جاتی ہے
اب تو دل چاہتا ہے کہ گھومیں پھریں اور دفتر کھلے
اس کو بانہوں میں بھر کر ہم اپنی خطا کا ازالہ کریں
دل میں ڈر تک نہ ہو جب ہمارے لیے ماں کی چادر کھلے
بے اثر ہوگی ہر طرح کی آزمائش بتا دیتے ہیں
اس پرستان میں بھی اگر ہم پہ وہ جادو پیکر کھلے
دھیان کرنا کہ مدت سے خود میں سمائے ہوئے ہے گھٹن
ڈوبنا مت اگر تم پہ چھونے سے کھارا سمندر کھلے
کون کہتا ہے تجدید ہو کر دکھاؤ انہیں آگ تم
چاہتا کون ہے بے ضمیروں پہ سادھو کا منتر کھلے
تجدید قیصر
