107
اسے فن نہیں پردۂ فن کہو
غزل کو چراغوں کی چلمن کہو
انہیں میں سنورتے رہو عمر بھر
سدا میری آنکھوں کو درپن کہو
وہ جب چاہے سر سبز کر دے مجھے
مرے واسطے اس کو ساون کہو
قدم چاند سے میرے دل پر رکھو
اسے بھی کبھی گھر کا آنگن کہو
جواں ہو کے مل جائیں گے خاک میں
گلوں کو شہیدوں کا بچپن کہو
کئی باغ ہیں اس زمیں کے تلے
مرے دل کو یادوں کا مدفن کہو
ستاروں کے دھبے کھلا آسماں
اسے بھی شرابی کا دامن کہو
بشیر بدر
