خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرجنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو
اردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو

سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2019 0 تبصرے 407 مناظر
408

جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو

تقریباً ایک مہینہ ہوا ہے کہ کراچی میں ایک پندرہ سالہ لڑکا، جس پر چوری کا الزام تھا، کچھ لوگوں نے جنگلے کے ساتھ باندھ کر مارڈالا۔ اس کی شرٹ پر لکھا ہو ا تھا، ”اپنا ٹائم بھی آے گا“۔ اس کا ٹائم کیا آنا تھا، وقت سے بہت پہلے اس کی موت کاٹائم آگیا۔ پورا ملک چیخ اٹھا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ جوں جوں ملک میں لا قانونیت بڑھ رہی ہے، اس طرح کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

آزاد میڈیا اور سوشل میڈیا کے وجود میں آنے کے بعد ’موب جسٹس‘ یا ’عوامی انصاف‘ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ (اگر موب کا ترجمہ صحیح کیا جاے تو اسے بلوائیوں کا انصاف کہنا چاہیے۔ ) ِمیڈیا میں ا س طرح کے واقعات کو عوامی انصاف یا عوامی انتقام کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اس غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے سیالکوٹ میں پولیس کی موجودگی، بلکہ ان کے اکسانے پر دوجوان بھائیوں کو مارنے کے بعد 1122 کے دفتر کے سامنے سرکاری نل کے ساتھ الٹا لٹکا دیا گیا تھا۔ میڈیا نے اس کو بھی عوامی انتقام کے نام پر بہت اچھالا۔ حالانکہ جوڈیشل انکواری میں ان بھائیوں پر ڈکیتی کا الزام ثابت نہ ہوسکا۔

بعد میں بہت شور مچا تو کچھ گرفتا ریاں ہوئیں۔ اب زیادہ تر لوگ بری ہو گئے اور دو چار تھوڑی تھوڑی سزا بھگت کر رہائی کے قریب ہیں۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ یو حنا آباد لاہور میں بم دھماکہ کے بعد عوام کے ہاتھوں قتل ہونے والا لڑکا عام شہری نکلا جو کہ ادھر خریداری کے لیے گیا تھا۔ کسی کو بھی سزا نہ ملی۔

ہمارے معاشرہ میں تحمل، صبر اور برداشت کا شدید فقدان ہے۔ لاقانونیت موجود ہے۔ لوگوں کا عدالتوں اور پولیس پر اعتماد مجروح ہو چکا ہے جس کا ایک مظہرغیرت کے نام پربہنوں، ماؤں اور بیویوں کا قتل ہے۔

زنا کے الزام اور عورتوں کو چھیڑ چھاڑ کے نام پر ہمارا رد عمل انتہائی سخت اور خوفناک ہوتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل پر ہمیں گواہ نہیں ملتے۔ پورا خاندان اور کسی حد تک معاشرہ بھی قاتل کا ہمدرد بن جاتا ہے۔

عزت کے نام پر انا پرستی کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ عوامی انصاف کو بھی یہی خیالات سہارا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں عزت کا مطلب صرف ہماری اپنی عز ت اور انا ہے۔ مخالف کوہم قابل عزت گردانتے ہی نہیں۔ اس کی عزت نفس کی ہمیں پروا ہ ہی نہیں ہوتی۔ بے ادبی اور گستاخی ہمارے ہاں عام ہے۔ دوسروں کی عزت نفس کی پامالی ہم اپنا حق سمجھتے ہیں۔ کسی بھی واقعہ کو سمجھے اور سوچے بغیر ہم فوری رد عمل دے دیتے ہیں۔

اس کے باوجود ہمارے معاشرہ میں عورتوں کے ساتھ زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات عام ہیں۔ اس چھیڑ چھاڑ کو سعادت حسن منٹو نے اپنے مضمون ’کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی‘ میں ایک عورت کی زبانی بیان کیا ہے۔

”مردوں کی چھیڑ چھاڑ کے متعلق ہمارا خیال یہ ہے کہ ایسی فضول اور نا زیبا حرکت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ اس قسم کی حرکت وہ لوگ کرتے ہیں جو اخلاق حمیدہ سے عاری ہوتے ہیں، جن کی آنکھوں میں شرم کا پانی نہیں ہوتا۔یہ ہماری آزادی میں بے شمار رکاوٹیں پیدا کرنے کا موجب بنی ہوئی ہے۔ کوئی پکچر دیکھنے جاؤ و سب کی گردنیں ہماری طرف مڑ جائیں گی۔ اندھیرا ہوتا ہے تو اس بات کا دھڑکا رہتا ہے کہ اپنی ٹانگ کھجلانے کے بہانے ساتھ والے لالہ جی ہماری ٹانگ کھجلانا شروع کر دیں گے۔ شاپنگ کے لئے جائیں تو اور مصیبتیں سر پر کھڑی ہوتی ہیں۔ دکاندار ہی آنکھ سینک رہے ہیں اور اپنی حرص پوری کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی فقرہ بھی چست کردیتا ہے، ”کشمیر کے سیب ادھر بھی دیکھتے جائیے۔ انڈر وئیر کے نئے نئے ڈیزائین آے ہیں، ملاحظہ فر ماتے جائیے۔ ایک نظر ادھر بھی، بالکل نیا مال ہے۔ “۔ جی اکثر یہ چاہتا ہے کہ اپنی چھتری ان ملعونوں کے حلق میں گھونس دیں یا ہینڈ بیگ ان کے منہ پر دے ماریں۔ مگر بے کار کے فضیحتے سے ڈر لگتا ہے اس لئے مجبوراً خاموش رہنا پڑتا ہے۔ ”

موجودہ دور میں اس مجبوری کو زبان مل گئی اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے ان مسائل کو اجا گر کرنا شروع کردیا۔

می ٹو تحریک کاآغازہوا۔ عورتوں کو بھی حوصلہ ملا اور انہوں نے بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ بہت سی ایسی خواتیں جن کو بازاروں، شاہراہوں اور کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان میں حوصلہ نہیں ہوتا تھا کہ شکائیت کریں،بول اٹھیں۔ پچھلے دنوں ملتان سے اسلام آباد سفر کے دوران ایک عورت کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا رد عمل پورے ملک اور بیرون ملک سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے دیکھا۔

اس خاتوں کے کہنے کے مطابق شروع میں تو اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس کی کمر کو چھو رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ڈسک کی خرابی کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا رہتا ہے اس لئے اس نے توجہ نہ دی۔ کچھ دیر کے بعد اس کے دوپٹے کو کھینچا گیا جس سے اس کو پتا چلا کہ کوئی اس سے چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔

اس کے بعد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ تھپڑ مارے گئے، بدزبانی ہوئی اور ویڈیو بھی بنا کے اپ لوڈ کر دی گئی۔ پورا میڈیامرد کی زیادتی کے خلاف چلا اٹھا۔ بس میں اور میڈیا میں، جو بھی آواز کہانی کے دووسرے رخ کے بارے میں اٹھی، شدت سے دبا دی گئی۔

اس کے بعد اہم سوال اٹھتے ہیں۔ اگر تو اس مرد کی زیادتی تھی تو کیا اس کو سزاغلطی کے عین مطابق ملی یا اب اس سے زیادتی ہو گئی ہے؟ اس کا جواب قانون دان زیادہ اچھے طریقے سے دے سکتے ہیں۔ اور دوسرا اس سے بھی اہم سوال ہے کہ اگر اس عورت کو دوپٹہ کھینچنے کے بارے میں بھی غلط فہمی ہوئی ہے، جس کا امکان موجود ہے کیونکہ اس کے اپنے کہنے کے مطابق اس کی کمر کی تکلیف کی وجہ سے اس طرح کے احساسات پیدا ہو جاتے ہیں، پھر اس مرد کی عزت تو خاک میں رل گئی۔

کیا اس معاملہ میں بھی ہم سب کہیں موب جسٹس کی طرف ہی تو نہیں چلے گئے؟ پوری قوم ہی اس مرد پر برسنا شروع ہو گئی ہے۔ اگرکوئی اور آواز آتی بھی ہے تو اسے بھی ویسی ہی پھٹکار سننا پڑتی ہے۔ کیا اس معاملہ میں بھی ہمارا رویہ جذباتی حدود کو پار تو نہیں کر رہا؟ سوال اٹھانے والا بھی زیر عتاب ہے۔ کیا یہ سب کچھ غیرت کے نام پرجائز قرار دیا جاسکتا ہے؟

یاد رکھنے والی بات ہے کہ اکتوبر 1991 میں نواز شریف نے بحیثیت وزیر اعظم اعلان کیا تھا کہ جرائم کی روک تھام کے لئے سزائیں سرعام دی جائیں گی۔ چیف جسٹس محمد اٖفضل نے ازخود نوٹس لیتے ہوے اس پر عملدرآمد ایک عبوری حکم کے ذریعے روک دیا۔ 1994 میں کورٹ کے لارجر بنچ نے بھی کسی مجرم کو سر عام پھانسی دینا آئین کے آرٹیکل 14 (الف) سے متصادم قرار دیا تھا۔ اس آرٹیکل کے تحت ہر انسان کی حرمت اور وقار کی ضمانت دی گئی ہے۔ آئین پاکستان ہر شہری کے انسانی وقار کے حق کو مانتا ہے، چاہے وہ کتنا بڑا مجرم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لئے کسی سزا کی ویڈیو بنا نا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ اگر وہ آدمی مجرم بھی تھا تو کیا اس کی ویڈیوبنانا اور اپ لوڈ کرنا جائز تھا؟

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اچھے دن آنے والے ہیں
  • بیوی بچے پاس رکھ ’’فادر مدر‘‘ کی خیر ہے
  • وہ صبح ہم ہی سے آئے گی
  • ستائیسویں آئینی ترمیم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک بوند لہو
پچھلی پوسٹ
لفظ جب منہ سے نکلتا ہے نظر آتا ہے

متعلقہ پوسٹس

پرواز کے بعد

جنوری 3, 2020

چکوترا ۔ بیماریوں کے خلاف موثر غذا

نومبر 14, 2021

غلامی کا زیور

مئی 29, 2025

اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں

دسمبر 4, 2019

فُرصتِ نگاہ

اپریل 10, 2026

عیدکادن

جنوری 14, 2021

انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا

جنوری 15, 2026

کورونا حقیقت کیا ہے

مئی 2, 2020

چالیسواں دن

جنوری 12, 2026

اک ترے آنے کے بعد

مئی 25, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شجاع شاذؔ کی شاعری

دسمبر 23, 2014

تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کا...

دسمبر 9, 2025

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 1)

اکتوبر 30, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں