خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباغیر متوقع آفت یا سیاسی انتقام؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

غیر متوقع آفت یا سیاسی انتقام؟

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 6, 2020
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 6, 2020 0 تبصرے 54 مناظر
55

غیر متوقع آفت یا سیاسی انتقام؟

دنیا میں ناکامی کا سامنے کرنے والوں کے پاس ایک ہزار جواز موجودہوتے ہیں،یہ جواز وہ اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے بر ملا استعمال کرتے سنائی دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنی تمام تر ناکامیوں کا ملبہ کسی اور پر ڈال دیتے ہیں۔ عام آدمی کیلئے کامیابی فقط عیش و عشرت پر مبنی زندگی مل جانا ہی ہے جبکہ حقیقت بلکل برعکس ہوتی ہے اوریقینا غور طلب ہے اب غور کرنے کی بھی توفیق اللہ رب العزت ہر کسی کو نہیں دیتے اسکے لئے ریاضت کرنی پڑتی ہے اور پھر وہ پا لیتا ہے یا پا لینے کی چاہ سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اللہ کے مقرب بندوں کی ایک طویل فہرست ہے کیا انکی طرز زندگی عیش و عشرت پر مبنی تھی یا ان کی جستجو کا ماخذ دنیا وی مال و دولت تھا؟ ہمیں ایک منظم طریقے سے اپنے بنیادی مقصد سے بھٹکایا گیا ہے اور یہاں حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کا ایک شعر شدت سے یاد آیا ہے کہتے ہیں کہ؛

عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا، جس نے

قبض کی روح تیری دے کے تجھے فکر معاش

آج انسان کی ترجیحات میں اول نمبر پر معاش ہے اور معاش بھی فقط دو وقت کی روٹی نہیں بلکہ الف سے ے تک کی تمام آسائشوں کا حصول ہے۔ ناکامی کا چہرہ تقریبا ً ہر فرد ہی دیکھتا ہے، لیکن کم لوگ اس ناکامی میں چھپی کامیابی کو پاتے ہیں جب کہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو ناکامی کو روحانی اور جسمانی طورپر قبول کرلیتے ہیں اور اپنے آپ کو وقت اور حالات کے حوالے کردیتے ہیں۔ معاشرے تقسیم ہیں مال و دولت والے اول نمبر پر آتے ہیں دوئم پر وہ طبقہ ہے جو متوسط طبقہ کہا جاتا ہے جو اپنا گزر بسر آسانی سے کرلیتا ہے اور تیسرے نمبر پر نچلے طبقے کے لوگ ہیں جو معاشی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں کما لیا کھا لیا والی طرز کی زندگی گزارتے ہیں اور زندگی کو ایک جہد مسلسل کی طرح بسر کرتے چلے جاتے ہیں۔ وسائل پر اول درجے کا قبضہ ہے، اول درجے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے متوسط طبقے کے لوگ اول درجے کا ساتھ دیتے ہیں اور انکی ہاں میں ہاں ملاتے دیکھائی دیتے ہیں، اور کبھی اپنے مفادات کی بقاء کیلئے نچلے طبقے کی بھی ترجمانی کرتے سنائی دیتے ہیں۔ اب اول درجے میں کتنے متوسط طبقے والے رسائی پا لیتے ہیں اور کن قربانیوں کی بدولت ا س موضو ع پر پھر لکھینگے۔ ابھی ملک کا اہم ترین موضوع کراچی کی بد ترین صورتحال ہے۔ معیشت کا پہیہ پہلے ہی کورونا نے جام کر رکھا ہے پھر کراچی میں ہونے والی شدید بارشوں نے تو معیشت کی رہی سہی کمر بھی توڑ دی ہے، ان بارشوں میں کتنے ہی تاجروں کی دکانوں اور گوداموں میں بھی پانی چلا گیا اور طبعی خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تخریب ایک دن میں نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوتے ہوتے ہوتی ہے۔سڑک پر ایک چھوٹا سا گڑھا ہوجاتاہے وہا ں سے گزرنے والے اسے نظر انداز کرتے ہوئے گزرتے جاتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھوٹا سا گڑھا اچھی خاصی جگہ پر پھیل جاتا ہے اور کسی حادثے کا سبب بننے کیلئے تیار ہوجاتا ہے یہاں تک کہ کوئی حادثہ رونما نہیں ہوجاتااس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس راستے سے گزرنے والے اس گڑھے کی وسعت کے زیادہ قصور وار ہوتے ہیں کیونکہ نا تو وہ انتظامیہ کو اس گڑھے کی موجود کی اطلاع فراہم کرتے ہیں اور نا ہی کوئی خود سے سد باب کرتے ہیں اور حادثہ ہونے کے بعد اسکی تصویریں بنا بنا کر سماجی ابلاغ پر جمع کرا دیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داری پوری کر دی۔

جیسا کہ پچھلے دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کا یہ بیانیہ سامنے آیا کہ کراچی میں ہونے والی بارشیں ایک غیر متوقع آفت تھیں، یہ وہی عوامی جماعت کے صاحب ثروت ہیں جن کا کہنا تھا کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔اب کوئی یہ پوچھے کہ آفت اگر بتا کر آتی ہے تو کیا کرلیتے تب تو شائد آپ اور آپکی سیاسی جماعت کچھ ایسا کرتے کہ کراچی والوں کی زندگیاں اس سے کہیں زیادہ اجیرن ہوجاتیں۔ آپ نے اللہ کی رحمت کو بطور سیاسی انتقام استعما ل کیا اور بہت خوبصورتی سے وقت اور حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طرف ایک نئے ضلع کا اضافہ بھی کر دیا۔ بلدیاتی ادارتے مدت کی تکمیل کے باعث تحلیل ہوگئے ہیں۔بظاہر تو پیپلز پارٹی پر قسمت مہربان دیکھائی دے رہی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ قسمت کی یہ مہربانی پاکستان پیپلز پارٹی کو کہاں لے جاتی ہے۔ یہ وہ سیاسی جماعت ہے جس کی کارگردگی کی منہ بولتی تصویر کشمور سے لیکر کراچی تک دیکھی جاسکتی ہے اور جسے دیکھنے کیلئے تیراکی کا ہنر آنا لازمی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آفتیں بتا کر آتیں ہیں؟ جو آپ کہہ رہے ہیں کہ حالیہ بارشیں غیر متوقع آفت تھیں، بارشیں غیر متوقع ہی ہوتی ہیں۔کراچی دنیا کے بڑے شہروں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر آتا ہے لیکن کیا اس شہر کو اس قابل بنایا گیا کہ دنیا اس شہر کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کرے۔کراچی کے انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ)پر باقاعدہ کبھی دھیان نہیں دیا گیا، ہمیشہ کاسمیٹک سرجری سے کام چلایا جاتا رہا اور حالیہ بارشوں نے ساری کاسمیٹکس اتار دیں جس سے وہ بھیانک چہرا سامنے آیا کہ دیکھنے والوں کے ہوش اڑ گئے۔

آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے پورے صوبہ سندھ کو اپنی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے۔آپ اور ضلع بنا لیں لیکن پرانا بلدیاتی نظام جب تک رائج نہیں ہوگا کام ہونا ممکن ہی نہیں ہے جسکی وجہ جاری ہونے فنڈز کے درمیان کی رکاوٹیں ہیں۔یہ سب عوامی نمائندوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی جیت کیلئے حکومتی اختیارات استعمال کرتیں، جیساکے پیپلز پارٹی آج تک کراچی میں اپنا مئیر نہیں بناسکی ہے اس کو یقینی بنانے کی تیاری کیلئے انتظامی انجینیرنگ کرنی شروع کر رکھی ہے۔ اس ملک نے آپ لوگوں کو کیا سے کیا بنا دیا ہے، ہمارے قلم کو زیب نہیں دیتا کہ انفرادی طور پر کسی کی جگ ہنسائی کا سبب بنے لیکن پھر بھی کون کیا تھا اور اس ملک کو لوٹ لوٹ کر کیا بن گئے ہیں اور ملک ِ خداد کو بھوک اور افلاس کی نظر کر دیا ہے، کراچی جیسے شہر کو حقیقت میں اپنے آبائی حلقوں سے بھی بدتر بنادیا ہے، سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی آنکھوں پر طاقت کی ایسی پٹی باندھی ہوئی ہے کہ انہیں کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔

محترم وزیر اعظم بہت جلد کراچی میں موجود ہونگے اور امید کی جاتی ہے کہ کچھ عملی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر شروع کئے جائینگے جوکہ کاسمیٹک سرجری نہیں بلکہ کنکریٹ (ٹھوس) اقدامات ہونگے۔ بڑی خواہش ہے کہ کوئی تو ہو جو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھے اور ملک کے مفادات کی خاطر بر سر پیکار سڑکوں پر پھرتا دیکھائی دے، اس وقت تک اپنے گھر نا لوٹے جب تک ایک ایک پاکستانی کو اس کے گھر تک نا پہنچا دے۔ تمام سیاسی جماعتیں ملک کی مفادات کیلئے خون پسینہ ایک کرنے والے شہر کیلئے ایک ہو جائیں اوروزیر اعظم صاحب کراچی کو تقریباً ایک سال کیلئے وفاق کے زیر انتظام میں لے لیجئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس اقدام کی حمایت کرے تاکہ کراچی کو روز روز کے مسائل سے چھٹکارا مل سکے کراچی متوقع اور غیر متوقع تمام حادثات کو سانحات کو برداشت کرنے کا اہل ہوسکے۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں
  • چراغ تلے
  • کورونا میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی خدمات
  • دیودار کے درخت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جَب سے تیرے پیار کے دیوانے بنے ہیں
پچھلی پوسٹ
دنیا اور آخرت کی زندگی میں توازن

متعلقہ پوسٹس

بُرقعے

ستمبر 24, 2013

ایک خسارہ دیکھ چکے

جنوری 16, 2025

احساس محبت

نومبر 11, 2025

صرف انسان اور کچھ بھی نہیں

نومبر 26, 2025

مظلوم کی جو شخص

جون 27, 2025

پوئنا

دسمبر 10, 2024

جس طرف دیکھو قیامت کا سماں ہے

جنوری 7, 2023

ندی کے اُس پار

مارچ 12, 2025

خواب تعبیر میں ڈھلا ہی نہیں

جون 12, 2020

گھر کہاں ہے مجھے سمجھنے کو

اپریل 19, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سارا جرم تمھارا ہے

نومبر 26, 2021

جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں...

مئی 23, 2020

نغمهٔ شکست

مئی 30, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں