100
کوئی کہتا تھا کہ طاری خود پہ سوچیں مت کیا کر
جو ترا ہے وہ ملے گا، اتنی فکریں مت کیا کر
یہ کسی کے نام کی ترتیب سے بُک شیلف میں ہیں
اک جگہ سے دوسری میری کتابیں، مت کیا کر
باغ میں جا کر پرندوں سے کچھ اپنے دل کی کہہ لے
بند رہ کر کمرے میں بیکار شامیں مت کیا کر
زندہ ہو جاتے ہیں سارے لفظ جو ہم سوچتے ہیں
اس لیے مجھ سے بچھڑنے والی باتیں مت کیا کر
تُو نے تنہائی کبھی دیکھی ہے؟ خالی پن سُنا ہے؟
گر نہیں تو میرے ملنے کی دعائیں مت کیا کر
ناہید ورک
