خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےچھمن کا فسانہ!
اردو افسانےاردو تحاریرمیمونہ احمد

چھمن کا فسانہ!

از سائیٹ ایڈمن مئی 9, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 9, 2020 0 تبصرے 27 مناظر
28

چھمن کا فسانہ!

چیزیں قیمتی نہیں ہوتی ان سے جڑا احساس قیمتی ہوتا ہے، جو ان چیزوں کو قیمتی بنا دیتا ہے یہی وجہ ہے بے شمارچیزیں بکتی ہے خریدنے والا اپنے رشتوں کو اپنا ہونے کا احساس دینے کے لیے چیزیں خرید لے جاتا ہے، اور جب وہ چیزیں اپنی مقررہ جگہ پر پہنچ جاتی ہیں تو وہ اپنے ہونے کا احسا س منتقل ہو جاتا ہے، رشتوں میں گہرائی بڑھتی جاتی ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ چیزیں رشتوں کی گہرائی کے لیے ضروری ہیں ! یہی رشتے انسان کو زندگی میں اہم کردار ادا کرنا سکھا تے ہیں،کیونکہ جہاں حلال و حرام کا کلیہ رشتوں کو معلوم ہوتا ہے وہاں وہ اپنے رشتوں کو حرام سے بڑا بچاتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں،اور جب زندگی بہت آگے بڑھ جاتی ہے تو ان رشتوں کو پھل مل جا تا ہے جب ان کے وہ بیج جن کو انھوں نے حلال کی بنیاد پر بو یا تھا وہ درخت بن جاتے ہیں ایسے درخت جو اس تلخ دنیا کا بڑی بہادری سے اکیلے مقابلہ کرتے ہیں اور فخر سے کھڑے ہوتے ہیں،وہ اپنے ضمیر کے سامنے مطمئن ہوتے ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت ہے،ٹھنڈک ہے،سکون ہے وہ الگ ہوتے ہیں دنیا میں اور منفرد رہتے ہیں
چھمن نے بھی تو یہی کیا اپنے آبا و اجداد کے خلاف جا کر اپنے بیٹے کے لیے الگ منصب چن لیا تھا، کہیں کسی پڑھے لکھے کی بات جو کبھی ریڈیو پاکستان پر کسی نے کہی ہو گی !
چھمن کے جو والدین اپنے بچوں کو حلال کھلاتے ہیں ان کے بچوں کی عادات بھی حلال ہو جا تی ہے، وہ اس راستے پر نہیں چل پاتے جو نقصان کا راستہ ہو تا ہے،جو کسی کو تکلیف دینے کا راستہ ہوتا ہے، جو آہ کا راستہ ہو تا ہے، چھُمن اس وقت پندرہ سال کی تھی،اس کے سارے خاندان والے گداگری کے پیشے سے منسلک تھے،لیکن سارے خاندان میں ہلچل اس وقت مچی جب چھمن نے مانگنے سے انکا ر کر دیا۔
ارے کیا کہہ رہی ہے کلموہی،تم نہیں مانگو گی تو ہمارا پو را کیسے ہو گا، اماں میں کس واسطے منگا اے چنگانی ہوندا (میں کس لیے مانگو یہ درست نہیں ہوتا) اری یہی تو ہمارا خاندانی کام ہے، میں نی کرنا اما ں میں بس نی مانگنا لوکو ں کولو، او جیڑا رب ہے نا اما ں او مالک ہے اور اوہ ہی رازق ہے، پتہ نی تساں کیوں مانگدے ہوں لوکوں کولوں (پتہ نہیں تم کیوں لوگو ں سے مانگتے ہو)اچھا پتر چل نہ مانگ روٹی ٹکر ہی لا دے چل۔
چھمن کے ابا مینو ں نی لگدا چھمن منگن جاوے گی، ہاں بس میں بھی یہی سوچ رہا ہو ں اس کی شادی کرا دوں تاکہ یہ اپنے گھر کی ہو جائے، پھر جو اس کا شوہر کرے گا وہی وہ کر لے، چھمن کی شادی خاندان سے باہر کر دی اس کے والد نے کیونکہ وہ جانتا تھا چھمن بھیک نہیں مانگے گی۔
چھمن انتہائی سادہ لڑکی تھی یہ اس کے سسرال والے جان گئے تھے اور اس سے خو ش بھی تھے، لیکن قسمت کا کھیل یہ تھا کا چھمن کا شوہر جو کماتا تھا اس پرسود ضر ور لیتا تھا،یہ بات کو ئی نئی نہیں تھی اس لیے گھر میں اس بات کا تذکرہ کم ہوتا تھا، دو سال گزر گئے اور چھمن ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔چھمن بے شک پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن اپنے بیٹے کو بہترین انسان بنا نا چاہتی ہے اور ہر حرام راستے سے دور رکھنا چاہتی ہے یہ بات چھمن کا شوہر وکیل بھی جانتا تھا، لیکن اس کی تربیت میں حلال اور حرام کا کو ئی کلیہ موجو د نہیں تھا،وہ خو د سود لاتا، اور گھر میں سود چلتا تھا، چھمن سمجھ گئی تھی کہ اس کا شوہر وکیل ایسا کرتا ہے،چھمن نے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے بچے کا خیال کرئے اس کے لیے سود نہ لائے،وکیل بھڑک گیا کہ سود تو سارے تاجر لیتے ہیں بہت سارے لو گ ایسا ہی کرتے ہیں دنیا آج یو ں ہی تو چل رہی ہے، آپ سمجھ نہیں رہے دنیا میں ایسے لوگوں کا اضافہ اسی لیے تو ہو رہا ہے کہ حلال و حرام کا فرق مٹنے لگا ہے، خاندان کے خاندان اس مرض میں مبتلا ہے اور ان کے بچے پھر کیسے سچے بنے گے جب ان کی بنیاد حرام پر رکھی جائے گی،اور پھر کھیتی خراب ہو جائے گی درخت بودے ہو جائے گے،
مجھے تمھاری باتوں سے کو ئی فرق نہیں پڑتا اور نہ میں ایسے کسی کلیے کو جانتا ہوں ! یہ کہہ کر وہ چلا گیا، لیکن چھمن اس کلیے میں مصروف تھی جو اس کے بچے کو بھی ان خوفناک لوگو ں کی فہرست میں کھڑا دکھا رہا تھا جس دنیا کی بات اس کے شوہر وکیل نے کی۔
ماں کی ذمہ داری بہت بڑی ہو تی ہے وہ ہی وہ مدرسہ ہوتی ہے جس میں بچے کی بنیا د رکھی جا تی ہے اگر اس کا بچہ بھی، ہائے میرے ربا ! رہ رہ کر چھمن کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی، جا نے اس ما ں کو کیا پڑی تھی اپنے بچے کو حلال اور حرام کے کلیہ سمجھا نے کی،ساری رات سو چتی رہی اور اگلی صبح پھر وکیل کے روبرو خدا کا واسطہ ہے اپنے بیٹے کا خیال کر و کل کو وہ بھی لوگوں کو تکلیف دے کر دوسروں کے چولہے سے رزق چھین کر اپنے گھر لا یا کرئے گایہ ظلم ہے اور میں اپنے بیٹے کو ایسے ظلم کی دنیا نہیں سکھا سکتی۔ وکیل بھڑک گیا جو مرضی کر و، دفعہ ہو جا و میرے گھر سے اور اسے بیٹے کو بھی لے جاؤ میں بھی دیکھو ں گا تم ایک بھکارن خاندان کی لڑکی کیسے پالے کی حلال کھلا کر اپنے بیٹے کو، چھمن کو احساس تھا کہ وکیل کیا کہہ رہا ہے، وہ تھوڑی دیر کھڑی رہی اور پھر اپنے بیٹے کو اُٹھا یا اور اس گھر سے چل دی کے اب اس کو پرورش کر نا ہے اپنے بیٹے کی، عورت کے لیے فیصلے کرنا بڑا مشکل ہو تا ہے لیکن جب بات اولاد کی ہو تو وہ بڑے سے بڑا فیصلہ بڑی آسانی سے کر لیتی ہے چا ہے وہ کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہو
پورے تیس سال گزر گئے اور چھمن کی محنت اس کا حلال اور حرام کا کلیہ جیت گیا تھا، اس کا بیٹا جس میں ساری خوبیا ں مو جود تھی،جو اس کی ماں کے مدرسے سے اسے ملی آج وہ کا لج کے ہر طالب علم کا پسندیدہ اُستاد بھی ہے اور کالج کا پرنسپل بھی جس کا نا م ڈاکٹر عادل وکیل ہے۔ اس کی ما ں نے تو صرف ایک بیج بو یا تھا آج وہ بہت سار ے بیج بور ہا ہے تاکہ اس کی ماں زندہ رہے، جو ایک بھکارن کی اولاد تھی پیپل والی مسجد میں جھاڑو دینے کے دس روپے روزانہ کماتی تھی،باقی دن سلائی کرتی، رات کو اپنے بیٹے کے لیے دعا کر نے والی چھمن اگر چہ زندہ نہیں ہے لیکن شور تو مچا یا ہے چھمن نے ایسا شور جس کی آواز اُٹھی ضرور تھی دبی نہیں اور اب بھی پھیلتی جا رہی ہے۔۔۔
٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مائی نانکی
  • گم نام شاعر مشہور شعر
  • "فالسہ” موسم گرما کا معالج
  • نماز اور نماز عشق میں فرق
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو
پچھلی پوسٹ
گہرے پانیوں والی آنکھیں !

متعلقہ پوسٹس

سودا

ستمبر 18, 2022

 کنور سنگھ​

دسمبر 12, 2019

فطرت کا گمشدہ راز

دسمبر 25, 2024

پاک چائنہ اقتصادی راہداری

اپریل 14, 2020

پاسپورٹ

مئی 20, 2020

شبدوں کے سنہری رتھ پر سوار شاہ زادی

فروری 17, 2020

یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!

دسمبر 7, 2020

انشاء کا اعظمی کو دوسرا خط

نومبر 28, 2019

مولانا وحید الدین خان اور اُردو ادب

ستمبر 20, 2025

پرانے برچ کے درخت کے نیچے

جنوری 28, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نیا سال اور نیا عزم

دسمبر 29, 2021

ہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت...

جون 8, 2021

اختر شہاب کی کتاب

دسمبر 6, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں