خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےمیں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو
اردو افسانےاردو تحاریرمیمونہ احمد

میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو

از سائیٹ ایڈمن مئی 9, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 9, 2020 0 تبصرے 46 مناظر
47

میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو

یہ جو احسا س ہے نا دنیا کا بنا یا ہوا اچھوتا گہر ا بہترین لفظ ہے احساس ہے تو سب کچھ ہے احساس نہیں تو کچھ بھی نہیں،یہی احسا س ہے جو انسان کو دلوں میں رہنے پر مجبور کرتا ہے، درست کہتے ہیں نفسیا ت دان کے احساس لفظ کی تشریح بہت وقت لیتی ہے۔اسی طرح احساس کو مان لینا بھی ایک بہت بڑی بات ہے ہم لو گ زندہ ہیں محسوس کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں جو ہماری زندگی سے جوڑی ہو تی ہیں ان کا مقام ہماری زندگی میں بہت زیا دہ ہو تا ہے،جیسے کسی لکھاری کے لیے اس کی پہلی تحریر، کسی کی پہلی اجرت، اور جیسے کسی کی ادھوری خواہش جب پوری ہوتی ہے وہ لمحہ انسان کو ہمیشہ یا د رہتا ہے،اور بڑی بات یہ ہے وہ لو گ ان خوشیوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور زندگی میں بارہا اس کا تذکرہ کر کے خوشی حاصل کر تے ہیں۔
میں بھی آج اسی لیے اس جو تا مارکیٹ میں پہنچا ہوں شاہ زیب کیونکہ میرا بھی احساس جڑا ہی کسی ایسی ہی چھوٹی سی چیز سے تمھیں یا د ہو گا میرے والد نے مجھے جو تے دلوائے تھے ہاں یہ وہی جو تے ہیں جو میرے والد نے بڑی مشکل سے دلوائے تھے کل میں وہ جوتے مرمت کروانے نکلا تھا کہ کسی نے وہ تھیلا ہی اُٹھا لیا اب سوچتا ہوں یہاں سے پتہ کروں کہ جوتے چو ر کہاں جوتے فروخت کرتے ہیں، چلو پھر پوچھ لیتے ہیں کسی سے شاہ نواز، پرانے لوگ بہت ساری پرانی باتیں یا د رکھتے ہیں یہ پھر وہ باتیں نئے لوگوں کے لیے بالکل ہو تی ہیں۔ بزرگو ! ذرا آپ بتا سکتے ہیں کہ جوتے چور کہاں اپنے جوتے فروخت کرتے ہیں ؟
بزرگ نے بڑی غور سے دونو ں کی شکل دیکھی اور کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد بتا یا کے اس مارکیٹ سے آگے تنگ گلی ہے اس سے آگے ہی ملے گا غفورا چور جو سب جانتا ہے کہ کس چور نے کب مال جمع کرایا۔بہت شکریہ بزرگو !
یار ایک با ت سمجھ نہیں آتی یہ چو ر جب چوری کرتے ہیں تو صرف چیزیں چوری نہیں کرتے بلکہ احساس چوری کرتے ہیں اور احساس کی چوری بہت تکلیف دیتی ہیں جیسے کہ اب تمہیں ہو رہی ہے، ہاں شاہ زیب تم ٹھیک کہتے ہو یہ احسا س کی چوری ہو ئی،جو واقعی تکلیف دے رہی ہے،بات کرتے کرتے وہ دونوں تنگ گلی سے باہر آچکے تھے اور اب وہ غفورا چور کو ڈھونڈ رہے تھے،پو چھتے پو چھتے وہ غفورا چور کی دوکان تک پہنچ گئے، دوکان میں ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر تقریباً پندرہ سال ہے شاہ نواز نے بچے سے پوچھا کہ غفورا چور کدھر ہے ؟ بچے نے کہا بلاتا ہوں وہ اندر کی طرف گیا اور ایک پکی عمر کے شخص کے ساتھ باہر نکلا یہ رہا استا د غفورا، اسلام علیکم غفورا صاحب میرا نا م شاہ نواز ہے اور میں اپنے بوسیدہ جوتوں کی تلاش میں نکلا ہوں مارکیٹ میں ایک بزرگ نے آپ کے بارے میں بتایا تھا کہ آ پ جوتے چوروں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ہاں جی ہاں جی اس بستی کا بچہ بچہ مجھے جانتا ہے کہ غفورا چور کتنا کام کا آدمی ہے، خدا پا ک کی قسم میں نے تو کبھی چوری نہیں کی بستی کے سارے لوگ جانتے ہیں غفورا چور نہیں ہے۔ شاہ نواز نے شاہ زیب کی طرف دیکھا اور پھر غفورا چور کی طرف۔ لیکن آپ کو غفورا چو ر کیوں کہا جا تا ہے ؟ شاہ نواز نے پوچھا ! غفورا چور اس لیے کہ اس بستی میں پیدا ہوا ہوں یہاں پر سارے چور ہیں ایک دن بچپن میں دوکان سے سودا لینے گیا تو دوکاندار نے مجھے غفورا چو ر کہہ دیا پھر کیا تھا بستی کے سارے لوگ مجھے غفورا چور غفورا چور کہنے لگے۔ یہ تو بڑی کا م کی بات بتائی آپ نے غفورا صاحب ! شاہ نواز صاحب بتائیے کہ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں، جی بالکل مجھے لگتا ہے اس بستی میں آپ ہی ہیں جو میری مدد کرسکتے ہیں ! شاہ نواز مسئلہ تو بتا یے۔ میں بتا تا ہوں شاہ زیب نے جلدی میں کہا۔ ہاں چلو آپ ہی بتا دو، شاہ نواز کے والد نے کئی سال پہلے جوتے خرید کے دیئے تھے،جو شاہ نواز کو بہت عزیز تھے۔
کل ان کی مر مت کرانے نکلا تھا کہ ایک چو ر وہ تھیلا ہی لے ک بھا گ گیا۔ میرے با پ سے میری بہت ساری یا دیں جوڑی ہیں اور وہ جوتے بھی انھی میں سے ایک ہے ٖغفورا صاحب اگر آپ میری مدد کریں گے تو میں آپ کو مشکور رہوں گا۔ شاہ نواز نے بھی کہا۔ کیوں نہیں شاہ نواز صاحب ضر ور میں مدد کروں گا اب ان جوتوں کا حلیہ بیان کر و، ٹھیک ہے بیان کر تا ہوں، شاہ نواز نے سوچتے ہوئے بتا یا ۔دیکھنے میں وہ جو تے بہت بو سیدہ ہیں ایک جو تے کی ایڑی نہیں ہے اور سامنے سے بھی کچھ خراب حالت ہے ان جوتوں کی۔شاہ نواز لگتا ہے چور نے تھیلے کے دھوکے میں جوتے چوری کر لیے ورنہ تو کو ئی چور ایسے جوتے چوری نہ کرئے۔ ہاں جی آپ درست کہتے ہیں جناب اسی لیے تو آیا ہوں کہ وہ کسی کے کا م نہیں آئے گے سوائے میرے، کیونکہ میرا رشتہ ہے ان جوتو ں سے،وہ جوتے مجھے میری اوقات اور میرے باپ کی تکلیف مجھے یا د دلاتے رہتے تھے۔آج جب بلندیوں تک پہنچا ہوں تو یا د رکھتا ہوں وہ بوسیدہ جوتے میرے مقدر میں تھے، میرا با پ مجھے ان بلندیوں تک دیکھنا چاہتا تھا، اور وہ جوتے پہلی کڑی رہے ہیں میری بلند ی کی۔۔۔۔
آہ،ٹھیک ہے شاہ نواز صاحب آپ رکیے ذرا کل کالا بولتا جا رہا تھا اور کوستا جا رہا تھا کسی امیر آدمی کو شا ئد آپ کے جو تے اس کے پا س ہو ں، تقریباً دس منٹ کے بعد غفورا چور دوبارہ ان کے سامنے تھا اور کالا اور شاپر دونوں بھی، ہاں بھئی کالے ذرا شاپر دکھا دے ان کے جوتے ہیں یہ۔ کالے نے شاپر دکھا یا تو وہی بوسیدہ جوتے جن کا حلیہ ابھی کچھ دیر پہلے شاہ نواز نے بیان کیا تھا سامنے تھے۔ ہاں ہاں یہی ہیں وہ جو تے۔ کالے نے شاپر ہا تھ میں دے دیا، اس کے چہر ے پر ما یوسی تھی کے یہ جو تے مہنگے نہ تھے جن کو وہ فروخت کر لیتا، وہ جا نے لگا تو شاہ نواز نے آواز دی کالے، کالا پلٹ آیا اور پوچھنے لگا کیوں روکا ہے مجھے شاہ نواز نے دس ہزار روپے اس کو تھما دئیے، اور کہا آج اگر یہ جو تے نہ ملتے تو شاید ہمیشہ اسے اس بات کی کمی محسو س ہوتی۔ شاہ نواز نے غفورا چور کا شکر یہ ادا کیا، غفورا چور نے کہا صاحب شکریہ تو مجھے آپ کا کر نا چاہیے آج پہلی مرتبہ کسی نے مجھے غفورا چور کے بجائے صرف غفورا کہا تھا، ورنہ ہمیشہ یوں لگتا تھا میں بھی اس بستی میں ایک چور ہوں،حالانکہ میں یہ بات جانتا ہوں کہ اس بستی کے چور صرف جوتا چوری کرتے ہیں۔وہ زندگی نہیں چھینتے کسی۔۔ شاہ نواز حیرت سے اس کا منہ تک رہا تھا، کیونکہ غفورا چور اتنی بڑی بات کتنی آسانی سے کہہ گیا تھا اس بات کا اندازہ اسے بھی نہیں تھا۔ اچھا غفورا صاحب ہمیں اجازت دیجیے پھر کبھی ضرور چکر لگاؤں گا آپ کی طرف،ضرور شاہ نواز صاحب ضرور آئیے گا، شاہ زیب جو ابھی تک چپ تھا،
کافی دیر چپ رہنے کے بعد بولا یا ر یہ بھی عجیب رنگ ہے آج مجھے یہاں آ کرے لگا کہ میں احسا س کے شہر میں آ پہنچا ہوں۔ میر ی بھی وہی سو چ ہے جو دنیا کے باقی لوگوں کی تھی۔ عام سی سوچ کا مالک تھا میں بھی،مجھے حیرت ہے میں سوچتا تھا چور انسان نہیں ہوتے محسوس نہیں کرتے، یا پھر وہ زندہ ہیں نہیں ہوتے جو لوگوں کو احساس سے محروم کرتے ہیں۔ ہاں تم درست کہتے ہوشازیب۔ لیکن وہ محروم ہوتے ہیں، جس طرح محروم کرنا تکلیف دیتا ہے اسی طرح محروم ہونا بھی تکلیف دیتا ہے۔

میمونہ احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قرآن مجید میں تقویٰ
  • ایسی پستی ایسی بلندی
  • الاؤ
  • رضیہ بٹ :شہر میں جو ہے سوگوار ہے آج
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ
پچھلی پوسٹ
چھمن کا فسانہ!

متعلقہ پوسٹس

ڈرپوک

جنوری 15, 2020

عربی زبان

مارچ 13, 2025

مولوی عبدالحق اور اُردو زبان

ستمبر 13, 2025

27ویں ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت

نومبر 11, 2025

مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر

دسمبر 5, 2025

امید کی شمع

جنوری 19, 2025

مزدوری

جنوری 28, 2020

کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے

مارچ 10, 2020

نئے دیوتا

جون 14, 2020

میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے

اکتوبر 27, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اُردو غزل کی فنی و فکر...

اگست 22, 2022

ان کا کیا مقابلہ

جنوری 24, 2020

مدیانور کا بڑا تیندوا

نومبر 23, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں